Daily Mashriq


مری تعمیر میں مضمر ہے ایک صورت خرابی کی

مری تعمیر میں مضمر ہے ایک صورت خرابی کی

شوق گل بو سی میں کانٹوں پہ زباں رکھنے کے حوالے سے ہم کچھ نہیں بولتے کیونکہ ’’ہم بولے گا تو بولوگے کہ بولتا ہے‘‘ اس لئے حکومتی مدت کے آخری پڑائو میں آکر پنجاب کی تقلید کرتے ہوئے جس ریپڈ بس منصوبے پر عمل کرنے کا اب جو یہ شوق چرایا کہ لگے ہاتھوں کم از کم ایک منصوبہ تو ایسا مکمل کیا ہی جائے جسے سیاسی نامہ اعمال کا حصہ بنا کر اگلے انتخابات( اگر بروقت ہوئے تو) میں اترا جائے یوں ریپڈ بس منصوبے (جسے چار سال جنگلہ بس کہہ کر حکومت پنجاب پر طنز کے نشتر چلانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی) کا آغاز کیاگیا۔ مگر شہر کی واحد بڑی شاہراہ جی ٹی روڈ کو اکھاڑنے سے پہلے جس ٹریفک پلان پر عمل درآمد کرکے ٹریفک کو کسی نہ کسی حد تک کنٹرول کرنا تھا تاکہ شہریوں کی مشکلات کم کی جاسکیں اس پر عملدرآمد کی تادم تحریر نوبت نہیں آئی اور جی ٹی روڈ کو جگہ جگہ سے ادھیڑ کر رکھ دینے سے بدترین بلکہ تاریخی ٹریفک جام کے جو نظارے دکھائی دے رہے ہیں ان پر کسی تبصرے کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی۔ عوام جس طرح خجل خوار ہو رہے ہیں منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے لوگ نفسیاتی مریض بن رہے ہیں اس پر تو چلیں یہ کہہ کر صبر کیا جاسکتا ہے کہ

مری تعمیر میں مضمر ہے ایک صورت خرابی کی

کیونکہ ہر تعمیر کے بطن میں کہیں نہ کہیں تخریب چھپی بیٹھی ہوتی ہے اور چونکہ اس منصوبے نے آگے جا کر عوام کو ایک عرصے سے لاحق ٹریفک جام کی صورتحال سے نجات دلانی ہے تو چند ماہ کی تکلیف برداشت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ پورے شہر کی ٹریفک کو نظم و ضبط میں رکھنے کے لئے بنیادی نقطہ یہی جی ٹی روڈ ہی ہے اور اگر اس پر ٹریفک ایک بار جام ہو جائے تو شہر کی ذیلی سڑکوں پر بھی صورتحال خراب ہوجاتی ہے ۔

اب ایک بار پھر خبر آئی ہے کہ ریپڈ بس منصوبے کی تکمیل کے دوران رش پر قابو پانے کے لئے یکم دسمبر سے جی ٹی روڈ پر رکشوں اور گدھا گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ تاحال سروس روڈ کو بھی جی ٹی روڈ میں شامل نہیں کیا گیا جس پر حکومت نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے جبکہ سروس روڈ پر دکانوں کے سامنے گاڑیوں کی پارکنگ کے باعث بھی ٹریفک نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اسی لئے اب یکم دسمبر سے جی ٹی روڈ پر چنگ چی رکشوں‘ گدھا گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے جبکہ فٹ پاتھ کو ختم کرنے اور گاڑیوں کے کھڑے ہونے پر بھی سخت کارروائی متوقع ہے۔ اگر یہ خبر درست ہے تو اس حوالے سے بھی چند معاملات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ خبر میں ایک جگہ رکشوں اور دوسری جگہ چنگ چی رکشوں کے تذکرے نے ایک نیا سوال اٹھا دیا ہے کیونکہ جی ٹی روڈ پر تو چنگ چی رکشے چلتے ہی نہیں‘ ہاں عام رکشے ضرور دیکھے جاسکتے ہیں اس لئے اگر یہ خبر جیسا کہ عرض کیا گیا درست ہے تو اس کی حکومتی سطح پر وضاحت ہونی چاہئے۔ دوسری بات یہ ہے کہ رکشے عام لوگوں کو لانے لے جانے کے لئے آسانیاں بہم پہنچاتے ہیں اور صرف جی ٹی روڈ پر نہیں چلتے بلکہ شہر کے مختلف علاقوں سے لوگ دفاتر‘ تعلیمی اداروں یہاں تک کہ بیماروں کو ہسپتالوں وغیرہ تک جانے کے لئے کرائے پر لیتے ہیں۔ بڑے ہسپتال جی ٹی روڈ ہی سے منسلک ہیں۔ اس لئے اگر رکشوں پر پابندی لگا دی گئی تو اس سے کئی طرح کے مسائل جنم لیں گے۔ البتہ اس ضمن میں اگر اسی موقع کو غنیمت جان کر شہر بھر میں دندنانے والے غیر قانونی رکشوں پر پابندی لگا دی جائے یعنی دوسرے اضلاع میں رجسٹرڈ شدہ رکشوں کو واپس اپنے اضلاع میں بھیج دیا جائے اور بغیر پرمٹ کے رکشوں کو بھی شہر میں چلنے نہ دیا جائے تو اس سے ٹریفک کے نظام پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ رکشوں پر پابندی لگانے کے بجائے اگر کارخانوں اور حیات آباد تک جانے والی بسوں کو جی ٹی روڈ سے اٹھا کر رنگ روڈ اور سر کلر روڈ پر ڈال دیاجائے اور جی ٹی روڈ پر صرف فورڈ ویگنوں ہی کو چلنے دیا جائے تو اس سے بھی ٹریفک کی مشکلات کم ہوسکتی ہیں کیونکہ ایک کے پیچھے ایک بسوں کی وجہ سے سڑکیں تنگ ہو جاتی ہیں اور اب تو ویسے بھی دونوں جانب کھدائی سے سڑکیں چوڑائی میں آدھی رہ گئی ہیں اور جہاں تک دکانوں کے سامنے گاڑیوں کی پارکنگ کا تعلق ہے تو اس کا واحد علاج یہ ہے کہ کہیں ’’ہوا میں‘‘ خیالی پارکنگ تعمیر کرکے لوگوں کو وہاں اپنی گاڑیاں کھڑی کرنے کی ترغیب دی جائے۔ ارے خدا کے بندوْ جو لوگ خریداریوں کے لئے آئیں وہ کہاں اپنی گاڑیاں پارک کریں؟ اس لئے عوام کو انتباہ کیا جائے کہ وہ اپنی گاڑیاں گھروں میں کھڑی کرکے ہی گھرں سے نکلیں۔ بقول مظفر وارثی

یہ فیصلہ تو بہت غیر منصفانہ لگا

ہمارا سچ بھی عدالت کو باغیانہ لگا

اس سارے معاملے میں جو خوف ہمیں لاحق ہے وہ کوئی اور ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا اس منصوبے کی تکمیل مقررہ مدت یعنی چھ مہینے میں ہوسکے گی یا دیگر حکومتی منصوبوں کی طرح اس کی مدت میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔ کیونکہ جو حکومت گلبہار کالونی کے چھوٹے سے نالے کو گزشتہ پانچ ماہ میں مکمل کرانے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے اور اس وقت گلبہار کے عوام اس نالے کی وجہ سے جس عذاب سے گزر رہے ہیں اگر یہ چھوٹا سا چند سو گز کا منصوبہ مکمل نہیں کرایا جاسکا تو اتنا بڑا میگا پراجیکٹ؟؟

توہین عدالت کا ارادہ تو نہیں تھا

بے ساختہ سرکار ہنسی آگئی مجھ کو

متعلقہ خبریں