مشرقیات

مشرقیات

حضرت زائدہ بن قدامہؒ فرماتے ہیں ’’سیدنا منصور بن معتمرؒ بہت متقی و پرہیز گار شخص تھے۔ علم حدیث میں آپ کا بہت اونچا مقام ہے۔ آپؒ نے چالیس سال اس حال میں گزارے کہ روزہ رکھتے اور ساری ساری رات عبادت کرتے۔ آپؒ اکثر راتوں کو روتے۔
ایک مرتبہ آپ نے اپنی نورانی آنکھوں میں سرمہ لگایا۔ سر مبارک میں تیل ڈالا اور کسی کام سے باہر تشریف لے گئے۔ راستے میں ’’کوفہ‘‘ کے گورنر یوسف بن عمر نے آپ کو پکڑ لیا۔ وہ چاہتا تھا کہ آپ کو قاضی بنا دیا جائے لیکن آپ نے یہ عہدہ قبول کرنے سے صاف انکار کردیا اور فرمایا’’ میں کبھی بھی یہ ذمہ داری قبول نہ کروں گا۔‘‘
جب کوفہ کے گورنر یوسف بن عمر نے آپ کا جرأت مندانہ جواب سنا تو اسے بہت غصہ آیا اور اس نے حکم دیا کہ آپ کو بیڑیوں میں جکڑ کر قید خانے میں ڈال دیا جائے۔
اس کی یہ خواہش تھی کہ کسی طرح سیدنا منصور بن معتمدؒ قاضی کا عہدہ قبول کرلیں اور وہی لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں۔ لیکن آپ مسلسل انکار کرتے رہے۔ پھر کسی کہنے والے نے یوسف بن عمر سے کہا’’ اگر تو سیدنا منصور بن معتمرؒ کے جسم کا سارا گوشت بھی اتار ڈالے تب بھی یہ تیرے لئے قاضی کا عہدہ قبول نہ فرمائیں گے ‘‘۔ یہ سن کر یوسف بن عمر نے حکم دیا کہ آپ کو رہا کردیاجائے ۔ (سیراعلام النبلا)
حضرت ابن حسانؒ سے روایت کرتے ہیں ’’ سیدنا حسن بصریؒ سخت گرمیوں میں بھی نفلی روزے رکھتے۔ ایک دن ہم افطاری کے وقت کھانا لے کر ان کی بار گاہ میں حاضر ہوئے۔ جب آپؒ نے ہمارے کھانے سے روزہ افطار کرنا چاہا تو کسی نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت کی: ترجمہ: بے شک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ اور گلے میں پھنستا کھانا اور درد ناک عذاب۔ (سورۃ المزمل)
یہ آیت سنتے ہی آپؒ نے اپنا ہاتھ کھانے سے روک لیا اور ایک لقمہ بھی نہ کھایا اور فرمایا’’ یہ کھانا یہاں سے ہٹا لو‘‘۔ اور مسلسل تین دن تک اسی طرح بغیر افطار کئے روزہ رکھا۔ آپ کے صاحبزادے نے جب آپ کی یہ حالت دیکھی کہ آپ نے بغیر کھائے پئے تین دن گزار دئیے ہیں تو وہ بہت پریشان ہوئے اور زمانے کے مشہور ولی حضرت سیدنا ثابت بنائی ؒ ‘ حضرت سیدنا یحییٰ ؒ اور دیگر اولیائے کرام ؓ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی ’’ حضور! آپ جلد از جلد میرے والد کی مدد کو پہنچئے۔ انہوں نے مسلسل تین دن صرف چند گھونٹ پانی پی کر روزہ رکھا ہے۔
یہ سن کر تمام حضرات حضرت سیدنا حسن بصریؒ کے پاس آئے‘ جب افطاری کا وقت ہوا تو پھر آپ کو مذکورہ آیت یاد آگئی اور آپ نے کھانا کھانے سے انکار کردیا لیکن جب حضرت سیدنا ثابت بنائی ؒ‘ حضرت سیدنا یحییٰ ؒ اور دیگر بزرگان دین نے پیہم اصرار کیا تو آپ بمشکل ستو ملا پانی پینے پر راضی ہوئے اور ان لوگوں کے اصرار پر تیسرے دن ستو ملا ہوا شربت پیا۔‘‘

اداریہ