Daily Mashriq


نیب کو خود بھی قانون پر عمل کرنا ہوگا

نیب کو خود بھی قانون پر عمل کرنا ہوگا

نیب کے چیئرمین نے احتساب کی بلاامتیاز پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے عزم کو دہراتے ہوئے تشدد اور عقوبت خانوں کی کہانیوں کو جارحانہ پروپیگنڈہ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ نیب تمام صوبوں میں بلاامتیاز احتساب کر رہا ہے۔ اچھی شہرت اور بے داغ ماضی کے حامل چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو یہ وضاحت ہرگز نہ کرنا پڑتی اگر وہ اپنے ادارے کے اندر بھی احتساب کو رواج دینے کیساتھ اس امر کو یقینی بناتے کہ اختیارات سے تجاوز نہ ہو۔ ثانیاً یہ کہ تحقیقات مکمل ہونے پر گرفتاری عمل میں لائی جاتی۔ ان کے ادارے کیخلاف انگلیاں اور سوالات اسلئے اٹھ رہے ہیں کہ نیب دوہرے معیار پر عمل پیرا ہے بعض مقدمات میں وہ گرفتاری کو تفتیش مکمل ہونے سے مشروط قرار دیتا ہے اور بعض میں گرفتاری پہلے اور تفتیش بعد میں۔ اس حوالے سے ایک نہیں درجنوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں نیب نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کے سابق وائس چانسلر اور چند سینئر سابق اساتذہ اور سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ابتدائی تفتیش مکمل نہ ہونے کے باوجود گرفتار کیا۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی یہی الزام لگا رہے ہیں دوسری طرف بعض بااثر شخصیات کیخلاف برسوں سے تحقیقات جاری ہیں مگر ان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاتی۔ اس دوہرے معیار کی وجہ سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ نیب ماضی کی طرح آج بھی قوانین پر عمل کرنے کی بجائے حکومت کے اشاروں یا خوشنودی کے حصول کیلئے اقدامات کرتا ہے۔ ثانیاً یہ امر بھی بجاطور پر درست ہے کہ جونہی نیب کسی شخص کو گرفتار کرتا ہے یا اس کیخلاف تحقیقات کا آغاز تو اس کیخلاف میڈیا ٹرائل شروع ہو جاتا ہے۔ میڈیا ٹرائل کیلئے نیب کی فراہم کردہ دستاویزات کو صحیفوں کے طور پر پیش کیا اور ٹی وی پروگراموں میں لہرایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کوئی شخص تحقیقات کے بعد بے گناہ ثابت ہوتا تو اسے میڈیا ٹرائل سے ملی اذیت اور پہنچے نقصان کا ازالہ کیسے ممکن ہوگا۔ ہماری دانست میں نیب کے سربراہ کو زیرتفتیش مقدمات کے حوالے سے ادھوری معلومات میڈیا کو فراہم کرنے اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے افسروں کیخلاف ایکشن لینا چاہئے۔ یہ بھی کہ پچھلے کچھ عرصہ میں جن زیر تفتیش افراد نے وحشیانہ تشدد کی شکایات کی ہے ان کی شکایات کی تحقیقات کروائی جانی چاہئے تاکہ یہ تاثر ختم ہو کہ نیب کوئی دستور سے ماورا ادارہ بن چکا ہے۔

آئی ایم ایف کے متبادل انتظام کی نوید

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے معاہدے میں کوئی جلدی نہیں ہم نے متبادل انتظام کر لیا ہے۔ ایسا ہے تو بجاطور پر خوش آئند بات ہے۔ آئی ایم ایف کے مذاکرات کیلئے پچھلے دنوں آنے والے وفد نے حکومت کو جو شرائط پیش کیں ان پر عمل کرنے سے معذرت ایک اچھا فیصلہ تھا۔ معاشی تجزیہ نگاروں کی اس رائے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ چین سے معاشی سمجھوتوں کی تفصیلات طلب کرنا آئی ایم ایف کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ یہاں اس امر کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ آئی ایم ایف کی پالیسی سازی پر امریکہ اور اس کے موثر اتحادیوں کی گرفت خاصی مضبوط ہے۔ پاکستان کیلئے آئی ایم ایف کی حالیہ شرائط درحقیقت عالمی مالیاتی ادارے کی نہیں امریکی پالیسی سازوں کی شرائط تھیں۔ چینی معاہدوں کی تفصیل بھی امریکیوں کو درکار تھی۔ ان کالموں میں قبل ازیں اس امر کی نشاندہی کی جا چکی ہے کہ پاک چین معاشی سمجھوتوں کے حوالے سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پریشانی بلاوجہ نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آئی ایم ایف کے متبادل پر تو عمل کیا ہی جائے اس کیساتھ ساتھ اگر خود انحصاری پر توجہ دی جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ زراعت وصنعت کے شعبوں کی ترقی کیلئے طویل المدتی پالیسی بنانا ہوگی۔ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کیساتھ چند دیگر شعبوں کے اخراجات میں بھی کٹوتی بہت ضروری ہے۔ پارلیمان کے تمام ایوانوں کے منتخب ارکان میں سے سات فیصد کا تعلق عام طبقات سے 93فیصد اشرافیہ کے طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ 93فیصد ارکان اگر عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے تنخواہوں اور مراعات سے دستبردار ہو جائیں تو سالانہ اربوں روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ معاشی استحکام اور تعمیر وترقی کے اہداف کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ انقلابی خطوط پر پالیسیاں وضع کی جائیں اور حکومت اور اپوزیشن ملکر ملک کو آگے لے جانے کیلئے کردار ادا کریں۔

متعلقہ خبریں