Daily Mashriq


روایتی بیانات سے بہلانے کی کوشش نہ کی جائے

روایتی بیانات سے بہلانے کی کوشش نہ کی جائے

جمعہ کو ہونے والے دہشتگردی نے حالیہ ہر دو واقعات میں 39افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اورکزئی ایجنسی کے واقعہ میں شہید ہونے والوں میں معصوم بچے اور اقلیتی برادری کے لوگ بھی شامل ہیں جبکہ کراچی میں چینی قونصلیٹ پر حملہ کو ناکام بناتے ہوئے دو پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے حالیہ واقعات کو چین اور دوسرے دوست ممالک سے معاشی سمجھوتوں پر پاکستان دشمن قوتوں کا ردعمل قرار دیا۔ حالیہ دنوں میں جمعہ کے دن ہوئے دہشتگردی کے دو واقعات کے علاوہ بھی چند ایسے واقعات ہوئے جن سے بہت سارے سوالات نے جنم لیا۔ افسوس کہ ان سوالات کا جواب دینے یا حتمی جواب کیلئے تحقیقات کا ڈول ڈالنے کی بجائے روایتی بیانات پر ہی اکتفا کیا گیا۔ مثلاً مولانا سمیع الحق کا سفاکانہ قتل ہو یا ایس پی طاہر داوڑ کا پراسرار اغوا وقتل اور پھر ان کی نعش کا افغان سرزمین سے ملنا ہر دو واقعات کے بعد تحقیقاتی اداروں کی عدم سنجیدگی دیکھنے میں آئی۔ ایس پی داوڑ کے قتل کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی کا اجلاس اس لئے ملتوی کرنا پڑا کہ تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذمہ داران اجلاسوں میں شرکت کیلئے وقت نہ نکال پائے۔ ایک ایسا ملک جو لگ بھگ چالیس برسوں سے دہشتگردی کا شکار ہو اس کے تحقیقاتی اداروں کے ذمہ داران فرائض کی بجاآوری میں سنجیدہ کیوں نہیں ہوتے اور کیا محض اس اطلاع کو آگے بڑھانا دینا ہی کافی ہوتا ہے کہ ''دہشتگرد ملک میں داخل ہوگئے ہیں فلاں شہر میں واردات ہو سکتی ہے'' دہشتگردی کے حالیہ چار واقعات کو روٹین کا حصہ سمجھنے کی بجائے سٹیٹ کیس بنانے کی ضرورت ہے تمام تر وسائل بروئے کار لاکر ذمہ داروں کو بے نقاب کرکے تحقیقاتی اداروں پر شہریوں کے اعتماد کو بحال کیا جاسکتا ہے۔ جمعہ کو اورکزئی ایجنسی میں دہشتگردی کے واقعہ کے بعد مقامی شہریوں نے جس تحمل وتدبر اور انسان دوستی کا مظاہرہ کیا وہ خوش آئند ہے۔ دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کے ناپاک منصوبوں کو عوامی اتحاد سے ہی شکست دی جاسکتی ہے لیکن یہاں اس سوال کو بالکل نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ اورکزئی ایجنسی کے صدر مقام کے حساس ترین علاقے میں انسانیت کے دشمن کس طور کامیاب ہو پائے۔ کراچی میں چینی قونصلیٹ حساس علاقے میں واقع ہے۔ قونصلیٹ پر حملے کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے اس میں حملہ آوروں کا اطمینان ہی اس سوال کی بنیاد ہے کہ حساس علاقے میں داخلی مقام پر قائم چیک پوسٹ کے عملے سے سنگین غفلت کیوں ہوئی؟ یہ بجا ہے کہ کچھ عناصر ملک میں انتشار پھیلانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ مذہبی یا دوسری کسی بنیاد پر انتشار پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی کس نے کرنی ہے۔ یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ جن افراد پر آئین کے آرٹیکل 6کے تحت مقدمات قائم ہونے چاہئیں ان سے معاہدے کئے جاتے ہیں۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بہت ضروری ہے کہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور ان کے ہم خیال افراد کا سختی سے محاسبہ کیا جائے۔ کیا ہمارے ادارے ان عناصر اور مراکز سے واقف نہیں جو مختلف الخیال دہشتگرد گروپوں سے فہمی تعلق کو اپنے عقیدوں کی روح سمجھتے ہیں۔ ثانیاً یہ کہ سماجی وحدت پر حملہ کرنے والا کوئی بھی شخص یا طبقہ ہو ان سے قانون کے مطبق سلوک ہی کیا جانا چاہئے۔ یہ بجا ہے کہ کچھ قوتوں کو پاکستان میں امن واستحکام اور تعمیر وترقی ہضم نہیں ہوتی لیکن یہ قوتیں کوئی خلائی مخلوق تو نہیں۔ آخر کیوں نہیں حکومت ٹھوس شواہد سامنے لا کر ملکی سلامتی کے اندرونی وبیرونی دشمنوں کو بے نقاب کرنے اور کیفر کردار تک پہنچانے کا فرض ادا نہیں کرتی؟ جمعہ کے واقعات کے حوالے سے انٹیلی جنس اداروں کی کارکردگی پر جو سوالات اٹھ رہے ہیں ان پر چین بچیں ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ اصلاح احوال کی ضرورت ہے۔ اس امر کی طرف توجہ دلانا بھی ازبس ضروری ہے کہ اورکزئی ایجنسی میں دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کی اکثریت کا تعلق محنت کش طبقہ سے ہے۔ وفاقی وصوبائی حکومتوں کو کسی تاخیر کے بغیر متاثرہ خاندانوں کی بحالی کیلئے موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ اسی طرح کراچی میں شہید ہونے والے شہریوں اور بڑے نقصان کو روکنے میں اپنی جان قربان کرنے والے دو پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کی کفالت بھی حکومت کو کرنا چاہئے۔ اندریں حالات یہ عرض کرنا بھی ضروری ہوگا کہ دہشتگردوں کے سہولت کار اور شدت پسندی کو بڑھاوا دینے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ مثالی امن اور قانون کی حکمرانی کے خوابوں کو تعبیر اسی صورت مل سکتی ہے کہ بلاامتیاز ہر اس شخص اور گروہ کیخلاف قانون حرکت میں آئے جس کے خیالات سے معاشرتی امن متاثر ہوتا ہو۔ اس مرحلے پر ہم مختلف الخیال زعما اور اہل دانش سے بھی یہ اپیل کریں گے کہ وہ معاشرتی وحدت کو برقرار رکھنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ یہ امر ہر کس وناکس پر دو چند ہے کہ شدت پسندی محبت واخوت اور تعمیر وترقی کی دشمن ہے۔ چار دہائیاں کم نہیں ہوتیں حبس زدہ ماحول میں عذاب سہتے ہوئے وقت آگیا ہے کہ ہر خاص وعام اپنے اپنے حصے کا فرض ادا کرنے کیلئے عملی قدم اٹھائے۔ ہمیں اس سوچ سے بھی جان چھڑانی ہوگی کہ میرا یا میرے طبقہ کا نقصان تو نہیں ہوا۔ پاکستان اس میں آباد 22 کروڑ لوگوں کا وطن ہے اس کے نفع ونقصان میں سب برابر کے شریک ہیں۔ اپنی آئندہ نسلوں کو محفوظ مستقبل اور مثالی امن وامان کی فراہمی کیلئے ہم سب کو انفرادی واجتماعی طور پر اپنا اپنا فرض ادا کرنا ہوگا تاکہ ایک روشن پاکستان کی تعمیر ممکن ہوسکے۔

متعلقہ خبریں