Daily Mashriq


اہل پشاور پر رحم فرمایئے

اہل پشاور پر رحم فرمایئے

دل جلانے کی بات کرتے ہو

''آزمانے'' کی بات کرتے ہو

باتیں دو ہیں مگر ان کا آپس میں تعلق بھی بنتا ہے، غالب نے وہ جو کسی کے خو نہ چھوڑنے کے حوالے سے اپنی وضع نہ بدلنے کا تذکرہ کیا تھا، ایک تو صورتحال کچھ ویسی ہی ہے یعنی ہر دور میں عوام کو لالی پاپ دیتے ہوئے کوئی نہ کوئی حکومتی مہرہ جب اور کچھ نہیں ملتا تو اس بے چارے بے مور بے پلار شہر کی حالت زار پر تبصرہ فرماتے ہوئے اس کے صدیوں پہلے مغل شہنشاہ بابر کے دیئے ہوئے نام کی مالا جپنے کی کوشش کرتا ہے اور عوام کو ورغلاتے ہوئے پشاورکو ایک بار پھر ''پھولوں کا شہر'' بنانے کے بلند بانگ دعوے دہراتا رہتا ہے۔ دہرانے کی بات اس لئے کی کہ گزشتہ تین چار حکومتوںکی کارکردگی پر نظر دوڑا کر دیکھئے ہر دور میں بلدیات کے وزراء اور مشیران کے اسی قبیل کے بیانات تواتر سے سامنے آتے رہے ہیں مگر عملی طور پر کیا ہوا؟ اس پر کسی تبصرے کی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ فارسی مثل کے مطابق شنیدہ کے بود مانند دیدہ، اور حقیقت تو یہ ہے کہ پشاور کا یہ قدیم نام تو اب ان حکومتی وزراء اور مشیران نے اہل پشاور کیلئے چڑ بنا دیا ہے، کیونکہ جسے دیکھو پشاور کو پھولوں کا شہر بنانے کے بیانات سے پشاوریوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہیں اور جب وہ دورگزر جاتا ہے تو پشاور کی حالت پہلے سے بھی بدتر ہوتی ہے، تب اہل شہر کو پتہ چلتا ہے کہ اب کی بار ایک مرتبہ پھر ان کیساتھ ہاتھ ہوگیا ہے یعنی

کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

پشتو زبان کی ایک کہاوت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یتیم رونے کا عادی ہوتا ہے، اس لئے اسے اس قسم کے وعدوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، مگر ایک موقع ایسا ضرور آتا ہے کہ یتیم روتے روتے بھی چڑ جاتا ہے، اس لئے اب اس قسم کے بے سرو پا وعدوں پر اہل شہر یقین تو نہیں کرتے مگر جب ہر بار نئی حکومت آتی ہے اور پھر یہی بات دہرائی جاتی ہے کہ پشاور کو پھولوں کا شہر بنایا جائے گا تو ان کا کڑھنا فطری امر ہے، چلئے جو حکومتیں گزر گئی ہیں، ان کے بارے میں تو فاتحہ پڑھ کر صبر کیا جا سکتا ہے، ان سے کوئی گلہ بھی نہیں بنتا کہ وہ بے چاری سابقہ برسر اقتدار پارٹیاں تو موجودہ وقت کیلئے قصۂ پارینہ بن چکی ہیں یعنی کیا لیگ(ن) کیا پیپلز پارٹی، کیا ایم ایم اے، کیا اے این پی، جن کو عوام نے مسترد کر کے سبق سکھا دیا اور تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا ہے، مگر گزشتہ پانچ سال تو تحریک ہی کی حکومت تھی، اور ان پانچ سالوں کے دوران بھی پشاورکو پھولوں کا شہر بنانے کے دعوؤں کی تعداد گنی جائے تو کم وبیش دوچار ہزار کے لگ بھگ تو ہوگی، لیکن عملاً کیا ہوا، الٹا وہ گرین بیلٹ اے این پی کے دور میں بنایا گیا تھا اس کو بھی بیخ وبن سے اکھاڑ کر رکھ دیا گیا، ارباب سکندر فلائی اوور، ملک سعد شہید فلائی اوور اور مفتی محمود فلائی اوور کی دیواروں کیساتھ کروڑوں روپے خرچ کر کے اصلی پھولوں کے بجائے کاغذی (مصنوعی) پھولوں کے گملے لٹکا کر پشاور کو پھولوں کا شہر بنانے کی جو کوشش کی گئی اس کا حشر بھی سب نے دیکھا تھا اور اس پرانے دور کا مصرعہ یاد دلا دیا تھا

کہ خوشبو آنہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے

کیونکہ بناوٹ کے اصول بھی قرینہ اور سلیقہ کے متقاضی ہوتے ہیں، جو تب بھی ناپید تھا اور آج بھی عنقا ہے جب واٹر اینڈ سینی ٹیشن کے فوکل پرسن اور ممبر قومی اسمبلی حاجی شوکت علی نے فرمایا ہے کہ پشاور کو ہر حال میں پھولوں کا شہر بنائیں گے۔ اگر وہ یہ بات کرنے سے پہلے اپنی ہی حکومت کے گزشتہ پانچ سال کی ''حسن کارکردگی'' کا ریکارڈ دیکھ لیتے تو امید ہے کہ پھر وہ یہ دعویٰ ہرگز نہ کرتے، تاہم جب ڈھٹائی کی حدیں پھلانگی جائیں اور دعوؤں کے کھنڈرات میں سے نئے وعدوں کو کشید کیا جائے تو پھر ''تمغۂ حسن کارکردگی'' دینا تو بنتا ہے۔ مگر ساتھ ہی گزشتہ پانچ سال کی کارکردگی کو دیکھ کر یہ سوال بھی تو کیا جا سکتا ہے کہ

تو درون درچہ کر دی

کہ بیرون خانہ آئی

دوسری بات جس کا تذکرہ کالم کے آغاز میں کرتے ہوئے دونوں باتوں کا ربط قائم کرنے کی کوشش کی تھی وہ اے این پی کی رکن صوبائی اسمبلی محترمہ ثمر ہارون بلور کا وہ بیان ہے جس میں موصوفہ نے فرمایا ہے کہ بی آر ٹی منصوبہ پشاور کے عوام کیلئے شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا باعث ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ٹھیکیدار نے 4ارب روپے کمیشن کیلئے چمکنی سے حیات آباد تک شہر کو کھود ڈالا ہے اور تعمیراتی عمل میں سست روی کی وجہ سے پشاور کے شہری گزشتہ ایک سال سے ذہنی کرب اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ بیان میں آگے چل کر محترمہ نے جو الفاظ استعمال کئے ہیں ان پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی منصوبہ پشاور کے عوام کیساتھ احسان فراموشی، دھوکہ، ظلم وزیادتی اور انہیں زندگی بھر سزا دینے کے مترادف ہے، منصوبے پر 24گھنٹے اور تین شفٹوں میں تعمیراتی کام کرنے کا حکومتی دعویٰ سراسر جھوٹ اور فریب پر مبنی ہے اور ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال کھدائی کا عمل مکمل نہیں کیا جاسکا جس کی بنیادی وجہ بی آر ٹی کا ٹھیکہ بلیک لسٹڈ کمپنی کو دینا ہے۔ اب ذرا محترمہ کے بیان کے صرف اس حصے پر غور کیا جائے جس میں شہریوں کے ذہنی کرب اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کی بات کی گئی ہے تو اس کا تعلق پشاور کو پھولوں کا شہر بنانے کے دعوؤں کیساتھ جڑتا ہے، سائنسی اصول یہی ہے کہ سبزہ وگل فضائی آلودگی ختم کرنے میں اہم اور بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، مگر اس منصوبے نے شہر سے سبزہ وگل کو جس طرح رخصت کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے وہ نہ صرف سانس کی بیماریوں کا باعث ہے بلکہ ذہنی کرب میں بھی اضافے کا باعث ہے، اس لئے ازراہ کرم مزید اس شہر کے باشندوں کا مذاق اڑانے سے گریز کرتے ہوئے اسے پھولوں کا شہر بنا کر دعوے نہ کئے جائیں، آپ ہمیں ویسے ہی بخش دیں کہ چوہا لنڈورا ہی بھلا۔

متعلقہ خبریں