Daily Mashriq


وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اور ہر ناکام مرد کے پیچھے ایک سے زیادہ عورتوں کے ہاتھ ہوتے ہیں ۔ عورت اور مرد ایک دوسرے کے لئے لازم اور ملزوم ہیں۔ عورت اور مرد کے درمیان بیٹی بہن اور ماں کا رشتہ اتنا پاک اور صاف ستھرا ہے جتنا اسداللہ خان غالب کا یہ زعم کہ

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

عورت اور مرد کے درمیان اور بھی بہت اہم رشتے ہیں وہ چچی مامی خالہ پوپھی کے علاوہ دوستی کا رشتہ بھی اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ دوستی کا یہ رشتہ محبت کی منزل پر پہنچ کر دونوں کو ایک دوسرے کا محبوب بنا کر جینے اور جیتے رہنے کا مقصد بن جاتا ہے۔

صبح محبتیں شام محبتیں

ساری تیرے نام محبتیں

عورت اور مرد کے درمیان قائم ہونے والا پیار اور محبت کا لازوال رشتہ نت نئی رومانوی کہانیوں کو جنم دینے لگتاہے۔ہمارے لوک ادب میں عورت اور مرد کے درمیان جنم لے کر پروان چڑھنے والی کہانیوں یا لوک داستانوں میں کوئی کمی نہیں جانے کتنی ہیریں کتنے رانجھے کتنے مجنوں کتنی لیلائیں کتنے سسی کتنے پنوں کتنے یوسف کتنی زلیخائیں کتنے شیریں کتنے فرہاد اس دنیا میں آئے اور اپنی اپنی رومانوی کہانی کے کردار بن کر امر ہوگئے۔ کامیاب ناکام اور بدنام محبتیں کبھی بھی جنم لیکر پروان نہ چڑھتیں اگر عورت نہ ہوتی یوسف خان شیر بانو۔ جلات خان محبوبے آدم خان در خانے کے یہ دل پذیر قصے کہانیاں داستانیں اس وقت یکسر دم توڑ دیتی ہیں جب عورت بیوی اور مرد میاں یا شوہر بن کر زندگی کی گاڑی کے دو پہئے بن جاتے ہیں۔ گاڑھی چھننے لگتی ہے ان دونوں کے درمیان دونوں ایک دوسرے کیلئے جیتے ہیں ایک دوسرے کے دم قدم سے شاد اور آباد رہتے ہیں۔ وہ جو کسی نے کہا کہ ایک جگہ رکھے ہوئے برتن آپس میں ٹکرایا بھی کرتے ہیں۔ جب عورت اور مرد کے درمیان میاں بیوی کا رشتہ قائم ہوتا ہے تو ان دونوں کے درمیان کبھی کبھی تو تو میں میں یا تو تکار بھی سر اٹھانے لگتی ہے۔ دونوں کے درمیان لڑائی جھگڑے بھی ہونے لگتے ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان چھوٹے موٹے جھگڑوں کا جنم لینا ایک دوسرے سے روٹھنا اور پھر ایک دوسرے کو منا لینا ہی شادی بیاہ یا میاں بیوی کے درمیان شریک حیات ہونے کے حسن کو قائم رکھنے کا باعث بنتے ہیں بقول تسلیم فاضلی

پیار جب حد سے بڑھا سارے تکلف مٹ گئے

آپ سے پھر تم ہوئے پھر تو کا عنواں ہو گئے

اگر کوئی آپ سے تم اور پھر توکا عنوان بن جائے تو توتکار ہونے کی نوبت آنے میں دیر نہیں لگتی اور اللہ بچائے جب یہی توتکار رشتوں کے بھرم کی خطرناک حدود پار کرنے لگتی ہے تو بات لڑائی جھگڑے سے نکل کر مار کٹائی زدو کوب اور تشدد تک جا پہنچتی ہے۔ آج 25نومبر کو اقوام عالم اس ظلم جبر اور زیادتی کیخلاف ملکر آواز بلند کر رہی ہیں۔ آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواتین پر کئے جانے والے تشدد کیخلاف عالمی دن منایا جارہا ہے۔ آج ہم نے ان مردوں کو پکار پکار کرکہنا ہے جو عورت یا شریک حیات کو پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں کہ ایسا سوچنا یا ایسا خیال دل میں لانا کسی بھی بدتمیزی سے کم نہیں۔ ہم نے مردوں سے کہنا ہے کہ اگر عورت نہ ہوتی تو تم بھی نہ ہوتے ، ارے عورت کو تو ولیوں بزرگوں مفکروں صحافیوں ادیبوں شاعروں جرنیلوں منصب داروں ہی کی نہیں پیغمبروں کی ماں ہونے کا بھی شرف حاصل ہے یہ تمہاری کج فہمی ہے جو تم خواتین کو اپنے سے کم تر یا عقل ناقص گردانتے ہو۔

تم بھی آخر مرد ہو کیا جانو

ایک عورت کا درد کیا جانو

مانا کہ ہر شوہر اپنی بیوی کا مجازی خدا ہوتا ہے لیکن غلطیوں کو معاف کردینا بھی تو صفت خدائی ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ صرف صوبہ پختون خوا میں سال 2017 کے دوران خواتین پر ہونے والے تشدد کے ایک ہزار 81 واقعات سامنے آئے جن میں 139 کو قتل کیا گیا، جبکہ 39 خواتین غیرت کے نام پر موت کے منہ میں چلی گئیں۔ اس کے علاوہ گھریلو تشدد کے 51 اور اغواء کے 658 کیس سامنے آئے۔ ایک حوالے کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں خواتین کیلئے تیسرا بدترین ملک ہے، جہاں 90 فیصد سے زائد خواتین گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ اور گھریلو تشدد اس وقت سر اٹھاتا ہے جب میاں بیوی کے درمیان شکوک و شبہات جنم لیکر خوفناک ڈائنو سار س بن جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب شک یا شبہ کسی کی ہنستی بستی زندگی کے ایک دروازے میں داخل ہوتا ہے تو اس کو دیکھتے ہی باہمی اعتماد اور بھروسہ دوسرے دروازے سے نکل بھاگتا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان پیدا ہونے والی معمولی نوعیت کی غلط فہمیاں اس وقت آسمان سے باتیں کرتے شعلوں کا روپ اختیار کرلیتی ہیں جب ان شعلوں کو ہوا دینے یا جلتی پر تیل چھڑکنے والے دوست نما دشمن اپنے مفت مشوروں کی پٹاری کھول کر میاں بیوی کے درمیان تلخیاں پیدا کرنے اور بدلہ لینے کی آگ بھڑکانے لگتے ہیں۔ یہی موقع ہوتا ہے سنبھل کر چلنے اور پھونک پھونک کر قدم رکھنے اور ہوش کے ناخن لینے کا۔ کامیاب میاں بیوی ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرتے ہیں ، یاد رکھیں غصہ کرنا کوئی بہادری نہیں غصے کو پی جانا ہی بہادری ہے اور یہی پیغام ہمیں آج کا دن دے رہا ہے

کسی بزدل کی صورت گھر سے یہ باہر نکلتا ہے

مرا غصہ کسی کمزور کے اوپر نکلتا ہے

متعلقہ خبریں