Daily Mashriq


مذہب اور سیاست' پاکستانی تناظر میں

مذہب اور سیاست' پاکستانی تناظر میں

گزشتہ دنوں ایک معروف خبر رساں ادارے کے نمائندے نے فون پر دو اہم اور قدرے مشکل سوال پوچھے۔ پہلا سوال یہ تھا کہ پچھلے دنوں ''تحریک لبیک'' نے ملک میں جو صورتحال پیدا کی اس کے تناظر میں آپ مذہب اور سیاست کے میلاپ اور جوڑ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ آیا وقت نہیں آیا کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کرکے مذہب کو اسی طرح سیاست سے الگ کیا جائے جس طرح مغرب میں ہوا ہے اور وہاں اس قسم کا کوئی مسئلہ تب سے پیدا نہیں ہوا ہے۔ جب پارلیمنٹ نے ونس فار آل یعنی ہمیشہ کیلئے قانون بنا کر فیصلہ کیا کہ چرچ اور ریاست ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکیں گے۔امریکہ اور یورپ میں اگرچہ مذہب پرست اپنی تنظیمیں اور انجمنیں رکھتے ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے ملکوں اور باہر کی دنیا میں فلاح اور خیرات وبھلائی کے کاموں میں حصہ لیتے ہیں لیکن براہ راست نہ کوئی سیاسی جماعت کسی مذہبی فکر وسوچ یا مسلک پر بن سکتی ہے اور نہ ہی انتخابات میں مذہبی ایجنڈا پر حصہ لے سکتی ہے۔ یورپ میں مذہب اور ریاست یا سیاست کے درمیان اس فراق کے پیچھے لمبی داستان ہے لیکن مختصر یہ کہ مذہبی پیشوا یعنی پوپ اور پادریوں نے اپنی حدوں سے بہت زیادہ تجاوز کرتے ہوئے حکمران طبقات کیساتھ ساتھ عوام کا بھی مذہبی معاملات کی من مانی تشریح وتعبیر کے ذریعے جینا دوبھر کر دیا تھا۔ اس کیخلاف عوام میں اتنا شدید ردعمل پیدا ہوا کہ انہوں نے کاخ امراء کے ہر د ر ودیوار کو ہلا کر رکھنے کے علاوہ اس خوشۂ گندم کو بھی جلا کر رکھ دیا جس سے دہقان کو روزی میسر نہیں آرہی تھی۔''میں ذاتی طور پر فکری لحاظ سے اس بات پر یقین محکم رکھتا ہوں کہ دین اور مذہب میں بہت بڑا بنیادی اور جوہری فرق ہے۔ اسلام آخری اور مکمل دین ( ضابطۂ حیات) کے طور پر قیامت تک انسانیت کی فلاح دینوی وآخروی کیلئے رب مہربان نے اسے نبی رحمت کے ذریعے نازل فرمایا چونکہ دین اسلام کل ( جامع) ہے اور دیگر مذاہب عالم دست برد زمانہ کے ہاتھوں محفوظ نہ رہ کر اس قابل نہ رہے کہ انسانیت کی ہر شعبۂ زندگی میں رہنمائی کرسکے اور یہ کہ اپنی اصلی حالت میں بھی قبل از خاتم النبیینۖ کے سارے مذاہب/ ادیان اپنے اپنے زمانے اور اقوام کیلئے تھے جبکہ اسلام محفوظ' جامع اور قیامت تک کیلئے ہونے کے سبب ہر شعبۂ زندگی پر حاوی رہنے کیلئے آیا ہے لیکن جس طرح اسلامی خلافت خود مسلمانوں کی نااتفاقیوں' نالائقیوں اور عیاشیوں کے سبب آج کے چھپن بے عمل اور بے کردار ملکوں میں تبدیل ہو کر رہ گئی۔ اسی طرح ہمارے علماء اور بالخصوص مذہبی سیاسی لوگوں کے ہاتھوں ہمارا دین بتدریج اس مقام پر پہنچا کہ نوجوانوں کی اکثریت ریاست میں بالخصوص سیاسی معاملات میں مداخلت کی قائل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک کسی مذہبی سیاسی جماعت کو انتخابات کے ذریعے حکومت نہیں ملی۔ سیدابولاعلیٰ مودودی اور مفتی محمود جیسی نابغہ شخصیات کی قیادت میں بھی گنتی کی چند نشستوں اور اس کے نتیجے میں کسی اکثریتی نشستوں والی لبرل/ سیکولر سیاسی جماعتوں کیساتھ اتحاد کے ذریعے ایک دفعہ وزارت اعلیٰ اور دو تین بار چند وزارتیں ملنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہ کرسکیں۔ مذہبی قیادت کو بھی چند نشستیں مدارس اور مساجد میں پڑھنے والے طلبہ اور نمازیوں/ مقتدیوں کے سبب ملتی ہیں ورنہ اس میں ان کی سیاسی سرگرمیوں یا منشور وغیرہ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا اور اس دفعہ تو وہ بھی نہیں رہا۔ البتہ ان انتخابات میں ایک نئی جماعت ٹی ایل پی کے نام سے وجود میں آکر پہلے سے موجود مذہبی سیاسی جماعتوں کیلئے ایک نئے چیلنج کی صورت میں سامنے آئی۔ ٹی ایل پی کے ورکرز کبھی مسلم لیگ (ن) کے ووٹرز ہوتے تھے لیکن حلف نامے میں ختم النبوتۖ کے حوالے سے جو کوتاہی مسلم لیگ(ن) سے ہوئی اس نے اس مذہبی گروہ / جماعت کو ان کیخلاف کر دیا۔اس میں شک نہیں کہ پاکستان میں ووٹ کی سیاست میں پنجاب کو عددی برتری حاصل ہے اور پنجاب کی اکثریت بریلوی مکتبۂ فکر کی حامل ہے۔ علامہ اقبال نے برسوں قبل اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے (پنجابی مسلمان) کے عنوان کے تحت فرمایا تھا

تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا

ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد

گزشتہ دنوں ٹی ایل پی نے آسیہ مسیح کیس کے حوالے سے جس ردعمل کا اظہار کیا اور تین دن تک ملک کے نظام کو مفلوج رکھا۔ یہ یقینا بہت الارمنگ ہے۔ اس نے نہ صرف حکومت بلکہ مذہبی' سیاسی جماعتوں کو ہیجان میں مبتلا کیا بلکہ مغرب کو بھی پاکستان پر دباؤ بڑھانے کیلئے مواقع اور بہانے فراہم کئے۔میرا ذاتی طور پر اب تک یہ عقیدہ رہا کہ اسلامی ملکوں میں مذہب اور سیاست (حکمرانی) کا چولی دامن کا ساتھ ہونا چاہئے کیونکہ علامہ اقبال کے بقول

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

لیکن پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے درمیان مسلکی مفادات کے تحت تعصبات اور سیاسی سکورنگ عوام اور بالخصوص نوجوان نسل کو ایک دن یہ بات ببانگ دہل کہنے پر مجبور کر دے گی کہ پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ۔ لیکن اگر اس مبارک نعرے کی آڑ میں ایسا ہی کچھ ہونا ہے تو پھر وہ دن دور نہیں کہ مذہب اور سیاست میں طلاق مغلظ کی انہونی ہو کر رہے گی۔

متعلقہ خبریں