Daily Mashriq

مسلم اُمہ کو درپیش مسائل اور اسلامی فوجی اتحاد

مسلم اُمہ کو درپیش مسائل اور اسلامی فوجی اتحاد

شاہ فیصل کے دور حکومت میں ایک بدبخت یہودی نے مسجد اقصیٰ کو آگ لگا کر بھسم کرنے کی ناپاک جسارت کی تھی جو عالم اسلام کے غیظ وغضب کو بھڑکانے کیلئے ایک چنگاری ثابت ہوئی اور اسی کے نتیجے میں مسلمانوں کی یہ نمائندہ تنظیم قائم ہوئی اور اس کا پہلا اجلاس مرحوم شاہ حسن ثانی کی سرپرستی میں ہوا' اس تنظیم کے قیام اور مراکش کے دارالحکومت رباط میں اس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا تو امت مسلمہ نے بہت خوشیاں منائیں اور حوصلے بھی بلند ہوئے' یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ مسلمان بیدار ومتحد ہوںگے اور عالم اسلام مغربی سامراج اور اس کی باقیات سے آزاد ہو جائے گا۔ اس مقصد کی تکمیل کیلئے ایسی حوصلہ مند قیادت کی ضرورت تھی جو پہاڑوں سے بھاری اور بلند ہو' طوفانوں کا منہ پھیر سکے اور بجھے ہوئے دلوں میں امیدوں کے چراغ روشن کر دے۔ اس وقت یہ قیادت آل سعود کے شہید فرزند شاہ فیصل اور پاکستان کے وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے مہیا کی، بھٹو نے بجا طور پر کہا تھا کہ وہ بکھرے ہوئے ریزے جمع کر کے ایک ملک کی ازسرنو تعمیر کیلئے آئے ہیں۔ سعودی عرب کے شاہ فیصل نے 1969ء میں مسلم ممالک کو او آئی سی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ شاہ فیصل مسلم ممالک کے اتحاد کو مؤثر بنانا چاہتے تھے لیکن انہیں کئی مسائل کا سامنا تھا۔ نامساعد حالات کے باوجود شاہ فیصل نے خاموشی کیساتھ پاکستان اور بنگلہ دیش میں مصالحت کی کوشش شروع کی اور یوں شاہ فیصل اپنے تدبر اور ذہانت سے پاکستان اور بنگلہ دیش کو قریب لانے میں کامیاب رہے۔ فروری 1974ء کے آخری عشرہ میں اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی تھی، یہ اسلامی کانفرنس کی تنظیم کا دوسرا اجلاس تھا' یہ اجلاس شہید قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی قائدانہ کوششوں اور شہید شاہ فیصل آل سعود کے فیاضانہ مالی تعاون اور سرپرستی کا نتیجہ تھا۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد مسلم امہ کو مسائل کے گرداب سے باہر نکالنا تھا، واقعی یہ عظیم لوگ تھے جو اپنی ذات اور اپنے اپنے ملک کی بجائے پوری مسلم امہ کا دکھ اپنے سینے میں لئے ہوئے تھے۔

اسی طرح کی ایک کوشش سعودی عرب کے موجودہ فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طرف سے کی گئی جب انہوں نے دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے دسمبر2015 میں اپنی قیادت میں 40ممالک پر مشتمل اسلامی فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ جن کے مقاصد کے بارے میں کہا گیا کہ یہ اتحاد دہشتگردی کے نظریاتی اور عسکری محاذوں پر پوری قوت سے جنگ لڑے گا۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ دہشتگردی کی بیخ کنی کیلئے تشکیل پائے مسلم دنیا کے اتحاد کو عالمی برادری کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اسلامی ممالک کے اتحاد کی تشکیل کا مقصد دہشتگردی کیخلاف ہر محاذ پر لڑنا ہے۔ ریاض کی قیادت میں مسلم دنیا دہشتگردی کیخلاف عسکری محاذ کیساتھ ابلاغی اور فکری محاذوں پر بھی پوری جنگ لڑے گی۔ اسلامی دنیا اس وقت مختلف ناموں اور مذہبی نظریات کے حامل مسلح دہشتگرد گروپوں، شر وفساد پیدا کرنے والے عناصر اور امن استحکام کے دشمنوں میں گھری ہوئی ہے۔ دہشتگردی اور انتہا پسندی کی ان تمام شکلوں کو ختم کرنا مسلم دنیا کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ پاکستان، ترکی، مصر، قطر، اردن، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات اور چند ایک دیگر ممالک پر مشتمل اس اتحاد کا مرکز ریاض میں ہے۔اس اتحاد کا مقصد عراق، شام، لیبیا، مصر اور افغانستان میں دہشتگردی کیخلاف کوششوں کو مربوط بنانا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں سے رابطے رکھے جائیںگے اور مکمل تعاون کیا جائیگا۔ اسلامی فوجی اتحاد کا مقصد تمام دہشتگرد گروپوں اور تنظیموں کی کارروائیوں سے اسلامی ممالک کو بچانا، فرقہ واریت کے نام پر قتل کرنے، بدعنوانی پھیلانے یا معصوم لوگوں کو قتل کرنے سے روکنا ہے۔ سعودی عرب کی امن کوششوں کے جواب میں پاکستان نے جارحیت سے نمٹنے کیلئے تمام علاقائی وبین الاقوامی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ اس مشن کے حوالے سے پاکستان نے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے 40ملکی اتحاد کا خیرمقدم کیا ہے۔ پاکستان عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت اور اس کی افواج کا دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتا ہے۔ پیشہ ورانہ استعداد کے پیش نظر پاک فوج عالمی امن فوج کا حصہ ہے۔ پاک فوج بلاشبہ ایک پروفیشنل فوج ہے، امن فوج کے طور پر اس نے جن صلاحیتوں کا اظہار کیا ان کا عالمی سطح پر اعتراف کیا گیا۔ سعودی عرب نے جس فوجی اتحاد کا اعلان کیا اس میں پاکستان سرفہرست ہے۔ اگرچہ اسلامی فوجی اتحاد کا مرکز ریاض ہے لیکن اس فوج کے سربراہ کا تعلق پاکستان سے ہے جو اہل پاکستان کیلئے اعزاز کی بات ہے۔ سعودی فرمانروا شاہ سلمان حقیقی معنوں میں خادم حرمین شریفین ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمام مسلم ممالک کیساتھ تعلقات اچھے ہوں۔ اسلامی عسکری اتحاد کا بنیادی ہدف بالعموم پوری دنیا، بالخصوص مسلمان ممالک میں ہونے والی دہشتگردی کو ختم کرنے کیلئے کوششوں کو مجتمع اور ملکر مسلم ممالک کا دفاع اور استحکام یقینی بنانا ہے۔ اسلامی ممالک کا عسکری اتحاد برائے دفاع عالم اسلام کیلئے بہت ہی خوش آئند اور قابل تحسین کاوش ہے جس کے روح رواں سلمان بن عبدالعزیز آل سعود حفظ اللہ ہیں اور ان کی محنت اور شفقت سے اتحاد میں انتہائی بنیادی ذمہ داری اور اہم کردار پاکستان کو دیا گیا ہے۔ عالم اسلام کی یہ خدمت پاکستان کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں تشکیل پانے والا اسلامی فوجی اتحاد مسلم امہ کو درپیش مسائل کے حل کیلئے مضبوط قلعہ ثابت ہوگا۔

متعلقہ خبریں