Daily Mashriq

کراچی: سی ویو کا پانی ’زہریلا‘ہونے کا انکشاف

کراچی: سی ویو کا پانی ’زہریلا‘ہونے کا انکشاف

 کراچی: ماحولیاتی اور طبی ماہرین  سی ویو کے پانی کو زہریلا قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ شہری سی ویو کے پانی میں نہ جائیں۔ 

جناح اسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ کراچی کے کئی نالوں کا زہریلا پانی سمندر میں بہادیا جاتا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو محتاط رہنےکی ضرورت ہے۔

جناح اسپتال کے پبلک ہیلتھ ایکسپرٹ نے بتا یا کہ سی ویو کے پانی میں پارہ ،سیسہ اور سنکھیا پایا گیا ہے جس سے جلدی امراض لاحق ہونے لگے ہیں اور بہت سے مریض اسپتال آئے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ اگر سی ویو کی ریت کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا جائے تو کم ازکم 18 کے قریب زہریلے کیمیکلز کی نشاندہی ہوگی اسی لئے سی ویو کی ریت کیچڑ نما ہے اور یہاں سے پکڑی جانے والی مچھلیاں بھی زہریلی پائی گئی ہیں۔ 

کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ترجمان شارق فاروقی نے جنگ کو بتایا کہ اگر کوئی آئل ٹینکر آؤٹر ایریا میں بحری جہاز کو دھو کر کیمیکل سمندر میں بہاتا ہے تو اس پر قانون کے تحت ’’ میرین پلوشن ڈپارٹمنٹ ‘‘ ایکشن لیتے ہوئے جرمانہ عائد کرتا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ سی ویو کے علاقے میں کراچی کے 13 نالے گرتے میں جس میں کورنگی کی چمڑہ فیکٹریاں شامل ہیں جن کا کروڑوں گیلن پانی ،گٹر کا پانی، فیکٹریوں کا بغیر ٹریٹمنٹ کیا گیا زہریلا پا نی سی ویو میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

ادارہ تحفظ ماحولیات (EPA)کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ کراچی کی تین شہری اداروں کو زہریلا پانی سی ویو میں چھوڑنے کیخلاف خطوط لکھے گئے جس میں انہیں کہا گیا کہ اپنے ’’ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس‘‘ کو فعال کریں مگر ان کا جواب تھا کہ ہم وفاقی ادارے ہیں صوبائی قوانین ہم پر لا گو نہیں ہوتے تاہم سی ویو کی پانی ریت اور مچھلیوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا جائے تو تمام زہریلے اجزا پائے گئے اس لئے سی ویو کے پانی میں جانا خطرناک ہے۔

متعلقہ خبریں