Daily Mashriq

ناروے میں نفرت پر مبنی جرم:کرسٹیان سینڈ کے عوام کی مسلمانوں کی حمایت

ناروے میں نفرت پر مبنی جرم:کرسٹیان سینڈ کے عوام کی مسلمانوں کی حمایت

یورپی ملک میں ہونے والے واقعے کو عالمی سطح پر مقامی مسلمان برادری کے خلاف جرائم کے طور پر تصور کیا جارہا ہے۔

ناروے کے علاقے کرسٹیان سینڈ میں منعقدہ اسلام مخالف ریلی میں پولیس حکام کی جانب سے مرتبہ وارننگ کے باوجود قرآن پاک نذر آتش کرنے کی کوشش کے بعد ایک لاکھ آبادی پر مشتمل علاقے میں مسلمانوں کے لیے جذبات میں اضافہ ہوا ہے اور مقامی افراد اس نفرت پر مبنی جرم کی مذمت کر رہے ہیں۔

یہ واقعہ 16 نومبر کو پیش آیا جب ایک غیر معروف دائیں بازو کی شدت پسند تنظیم 'اسٹاپ اسلامائزیشن آف ناروے' (سیان) نے کرسٹیان سینڈ میں مظاہرہ کیا، جس کے دوران انہوں نے قرآن پاک کے نسخے کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی۔

16 نومبر کو سیان کے اسلام مخالف مظاہرے کے دوران کرسٹیان سینڈ کے نوجوان کو پلے کارڈ پکڑے دیکھا جاسکتا ہے، جس پر لکھا تھا کہ ہماری سڑکوں پر نسل پرستی نہیں ہوگی .

 سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی سانحے کی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ جب سیان کے رہنما لارس تھورسن قرآن پاک کو نذرآتش کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو ناروے میں مقیم فلسطینی نوجوان قصی راشد نے رکاوٹوں کو پھلانگا اور سیان کے رہنما کو لات مار کر گرا دیا۔

تاہم پولیس نے مداخلت کرکے لارس تھورسن سمیت قصی راشد کو بھی حراست میں لے لیا۔

قبل ازیں رواں سال ناروے کے دارالحکومت اوسلو کی ضلعی عدالت نے لارس تھورسن پر نفرت پر مبنی جرم کا مرتکب ہونے والے کرمنل کوڈ کی دفعہ 185 کے تحت 30 روز جیل اور 20 ہزار کرونر (تقریباً 3 لاکھ 39 ہزار روپے) جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

وہ 20 جولائی 2018 کو اوسلو میں سیان کے پیمفلیٹس بانٹتے ہوئے پکڑے گئے تھے جس میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

'ہم سیان کو عدالت لے کر جائیں گے'

ادھر کرسٹیان سینڈ کے مسلمان اتحاد کے رہنما اکمل علی کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم سیان کے رہنما آرنے ٹومیر کو 16 نومبر کا مظاہرہ منعقد کرنے اور مذہبی کتاب کی بے حرمتی کرنے پر عدالت لے کر جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یہ نفرت پر مبنی جرم تھا جو آرنے ٹومیر نے کیا ہے، انہوں نے مسلمانوں پر زبانی حملہ کیا اور پولیس کی ہدایات کی خلاف ورزی کی'۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 'کسی کو بھی آتشگیر مواد رکھنے کی اجازت نہ ہونے کی پولیس کی واضح ہدایات ہونے کے باوجود انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا، یہ خلاف ورزی ناروے کے قوانین میں قابل سزا جرم ہے'۔

واضح رہے کہ مظاہرے سے قبل کرسٹیان سینڈ کی پولیس نے سیان کے رہنماؤں کو بتادیا تھا کہ وہ مظاہرے کے دوران قرآن پاک کو نذر آتش نہیں ہونے دیں گے۔

مظاہرے میں جب آرنے ٹومیر نے اشتعال انگیز ماحول بنایا اور قر آن پاک کی بے حرمتی کی کوشش کی لیکن ساتھ ہی کہا کہ پولیس نے سیان کو اسے نذر آتش کرنے سے روکا ہے جس پر لارس تھورسن نے مقدس کتاب کو نذرآتش کرنے کی کوشش کردی.

لارس تھورسن کے اس اقدام کے فوری بعد یہ منظر دیکھنے والے چند مسلمانوں نے پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کو توڑ دیا۔

اس پر 5 مسلمانوں کو 'افرا تفری مچانے، پولیس احکامات پر عمل نہ کرنے' پر تھانے لے جایا گیا، تاہم بعد ازاں تمام کو رہا کردیا گیا جبکہ ان 5 میں سے ایک نوجوان عمر دابہ پر پولیس افسر پر تشدد کے الزام میں 14 ہزار کرونر (تقریباً 2 لاکھ 37 ہزار روپے) کا جرمانہ عائد کیا گیا۔

کرسٹیان سینڈ کی مسلمان برادری کے مطابق گرفتار ہونے والے تمام مسلمانوں کا تعلق شام اور فلسطین سے تھا۔

واقعے کے بعد پولیس نے لارس تھورسن کو بھی حراست میں لیا اور اس کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔

مذکورہ واقعے کے بعد مسلمان برادری کو ناروے کے عوام کی حمایت حاصل ہونے لگی۔

کرسٹیان سینڈ کے میئر نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شہر کی مسلمان برادری سے اظہار یکجہتی کیا۔

میئر ہارالڈ فورے نے ناروے کے قومی نشریاتی ادارے این آر کے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 'کرسٹیان سینڈ سب کا شہر ہے اور ہم نظم و ضبط سے چلتے ہیں تاکہ توازن برقرار رہے، اس طرح کے جرائم اشتعال انگیز اور قابل افسوس ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ '16 نومبر کو ایک منصوبہ بندی کے تحت اشتعال انگیزی کی گئی تھی، خوش قسمتی سے پولیس نے فوری مداخلت کردی تھی'۔

واقعے کے بعد جمعے کو مقامی مسیحی برادری کرسٹیان سینڈ میں قائم مسجد کے باہر مسلمانوں سے اظہار یکجہتی میں کھڑی ہوئی۔

کرسٹیان سینڈ کی مسلمان یونین کے سینیئر رہنما طلال عمر کا کہنا تھا کہ 'بڑی تعداد میں عوام نے علاقے کی مسلمان برادری کی حمایت کی ہے، ان افراد میں سیاست دان، مسیحی رہنما اور عام شہری شامل تھے، جنہوں نے مقامی مسلمان آبادی سے رابطہ کرکے بتادیا کے ناروے ان کے ساتھ کھڑا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سیان ناروے کی اصل تصویر نہیں، ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے اور باقی ناروے کی مسیحی اور دیگر برادری ہمارے ساتھ ہے'۔

متعلقہ خبریں