Daily Mashriq

ایف اے ٹی ایف کے تحفظات کے خاتمے کیلئے غیرمنظم شعبوں کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ

ایف اے ٹی ایف کے تحفظات کے خاتمے کیلئے غیرمنظم شعبوں کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نے معیشت کے تمام غیر منظم شعبوں کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے تحفظات کے خاتمے کے لیے ایک عبوری ریگولیٹری نظام میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق نیشل ایف اے ٹی کوآرڈینیشن کمیٹی (این ایف سی سی) کے حالیہ اجلاس میں کیا گیا۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے یکم دسمبر تک ایف اے ٹی ایف کے تمام ٹاسکس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اکتوبر کے پہلے ہفتے میں 12 رکنی این ایف سی سی تشکیل دی تھی۔

سینئر حکومتی عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ تجویز کردہ ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام پر اہم اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے اختلاف رائے کے تناظع میں وفاقی حکومت نے ریئل اسٹیٹ کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو عارضی ریگولیٹر کے طور پر تعینات کرنے کا فیصلہ کیاہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر جیولرز، زیورات، ہیروں اور قیمتی پتھروں کے ریگولیٹر کے طور پر بھی کام کرے گا کیونکہ اس وقت اس شعبے کے لیے کوئی ریگولیٹر موجود نہیں ہے۔

اسی طرح این ایف سی سی نے وکلا، لیگل ایڈوائزر اور لا فرمز کے لیے وزارت قانون و انصاف کو ریگولیٹر نامزد کیا ہے۔

علاوہ ازیں این ایف سی سی نے آڈٹ اوورسائٹ بورڈ کو چارٹرڈ اکاؤنٹس، اکاؤنٹنٹس، فنانشل کنسلٹنٹس اور اکاؤنٹنگ سے وابستہ دیگر گروہوں کے ریگولیٹر کے طور پر کردار ادا کرنے کا اختیار دیا ہے۔

فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو ) کو پاکستان پوسٹ اور قومی بچت سے مالیاتی ٹرانزیکشنز ریگولیٹ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

عہدیداران نے کہا مذکورہ عبوری ریگولیٹری انتظامات کا فیصلہ پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس میں ملنے والی رائے اور مشوروں کی بنیاد پر کیا گیا جنہوں نے پاکستان کو آئندہ برس فروری تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس کے شرکا نے مذکورہ غیرمنظم شعبوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا جن میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے ذرائع کے طور پر استعمال ہونے کا بہت زیادہ خطرہ موجود ہے۔

وفاقی وزیر برائے اقتصادی ڈویژن حماد اظہر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی این ایف سی سی وزارت خزانہ، خارجہ اور داخلہ کے وفاقی سیکریٹریز پر مشتمل ہے جبکہ اداروں اور ریگولیٹرز کے سربراہان بھی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق پرتشویش ہیں۔

متعلقہ خبریں