Daily Mashriq

معاشی استحکام کیلئے سیاسی استحکام کی ضرورت

معاشی استحکام کیلئے سیاسی استحکام کی ضرورت

وزیراعظم عمران خان نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم ہونے پر اپنی معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا ہے، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی حکومت کے معاشی استحکام کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات کے نتیجے میں آئی ہے ' روپے کی قدر میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گزشتہ تین چار ماہ میں اسٹاک مارکیٹ میں تقریباً 10ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے جو 30فیصد بنتا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت معاشی بہتری کا دعویٰ کر رہی ہے ' حکومت کے مطابق برآمدات میں 5.9فیصد اضافہ جبکہ درآمدات میں 18.6فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ گزشتہ چار ماہ کی کارکردگی کو مدِنظر رکھ کر معاشی ماہرین اس دعوے کو تسلیم کرتے ہیں کہ حکومت کو خسارہ کم کرنے میںکامیابی ملی ہے' یہ کامیابی ترسیلات زر اور برآمدات میں اضافہ جبکہ درآمدات میں کمی کی صورت میں ملی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے جہاں کچھ شعبوں میں اپنی کارکردگی بہتر بنائی ہے تو وہیں پر پیداواری شعبے میںکماحقہ اہداف حاصل نہیں کئے جاسکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم کے معاشی بہتری میں دعوے کسی حد تک درست ہیں لیکن جہاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے وہ معیشت کا ایک محدود حصہ ہی بنتا ہے۔ ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ اصل بہتری تب ممکن ہوگی جب پیداواری شعبے میں کوئی بہتری آئے گی کیونکہ پیداواری شعبے میں بہتری ہی سے عام آدمی تک اس کے ثمرات منتقل ہوں گے۔ پیداواری شعبے کی اس وقت صورتحال یہ ہے کہ فیکٹریاں بند اور کاروبار ٹھپ ہو رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہو رہے جس سے عام آدمی کو ریلیف ملنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ حکومت چونکہ ترجیحی بنیادوں پر پیداواری شعبے میں کام نہیںکر رہی ہے اور اب آئی ایم ایف کی وجہ سے پیداواری شعبہ مزید پس پردہ چلا گیا ہے اور اس پروگرام میں شرح پیداوار میں اضافے کے امکانات زیادہ نہ ہونے کی بنا پر ثمرات عوام تک نہیں پہنچ رہے۔ پاکستان کی معیشت کو جن مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے اس کی بہتری اور بحالی کیلئے بھی ایک طویل عرصہ درکار ہوگا۔ محض چار ماہ کی بہتر کارکردگی کی بنیاد پر معیشت کی بہتری کا دعویٰ کرنا سیاسی بیان تو ہو سکتا ہے لیکن عملی اقدام ہرگز نہیںکیونکہ مانیٹری پالیسی کی کارکردگی جانچنے کیلئے سال ڈیڑھ سال کے عرصے کے اعداد وشمار کو دیکھا جاتا ہے اور پھر اس میں استحکام کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس کیساتھ ساتھ معاشی استحکام کیلئے دو امور انتہائی ضروری ہیں۔ ایک سیاسی استحکام اور دوسرا تاجر برادری کا اعتماد۔ ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنی چاہئے کہ سیاسی عدم استحکام ہی ہمارے مسائل کی اصل جڑ ہے کیونکہ عوام اپنے ووٹ کی سپورٹ سے جن عوامی نمائندوں کو ایوانوں تک پہنچاتے ہیں اور اپنے مسائل کے حل کیلئے ان سے توقعات وابستہ کرتے ہیں وہ عوامی نمائندے پانچ سال آپس میں لڑنے میںہی گزار دیتے ہیں۔ یوں ایک منتخب حکومت اپنے اہداف سے ہٹ کر نان ایشوز میں اُلجھ کر رہ جاتی ہے' اگر ہم اپنے پڑوس کے ممالک کا جائزہ لیں تو ان ممالک میں بھی چیلنجز کے باوجود ہمیں سرفہرست سیاسی استحکام دکھائی دیتا ہے' چین کے صدر شی جن پنگ اپنی صدارت کا دوسرا ٹینور گزار رہے ہیں' بھارت میں نریندر مودی بھی دوسری بار منتخب ہوئے ہیں، اسی طرح بنگلہ دیش کی حسینہ واجد بھی طویل عرصہ سے حکومت میں ہے' ان ممالک نے سیاسی استحکام کے ذریعے اپنے ممالک کو اس طرح سے ترقی کی راہ پر گامزن کیا کہ 5سالہ پروگرام پر یکسوئی کیساتھ عمل درآمد کیا گیا' ہماری صورتحال ان ممالک سے یکسر مختلف ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ یہ ہے کہ کسی بھی منتخب وزیراعظم نے اپنی آئینی مدت پوری نہیںکی ہے' یوں سیاسی عدم استحکام ہماری معیشت پر اثرانداز ہوتا ہے اور ہمارا کوئی بھی پلان تکمیل تک پہنچنے سے قبل ہی سیاسی اختلافات کی نذر ہو کر ادھور رہ جاتا ہے، اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ دوسرا ہمیں تاجر برادری کے اعتماد کو بحال کرنا ہوگا کیونکہ تاجر برادری کے اندر ڈر اور خوف سے ہمارا پیداواری شعبہ بری طرح سے متاثر ہو رہا ہے' اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے ارباب حل وعقد معیشت کے عارضی اور وقتی حل ڈھونڈنے کی بجائے انتہائی غور وخوض کے بعد دیرپا اور ٹھوس اقدامات اُٹھائیں جس سے ملک حقیقی معنوں میں ترقی کرتا ہوا دکھائی دے۔

متعلقہ خبریں