Daily Mashriq

توہین مذہب کو روکنے کیلئے قانون سازی کی ضرورت

توہین مذہب کو روکنے کیلئے قانون سازی کی ضرورت

16نومبر کو ناروے کے شہر کرستیان سینڈ میں غیر مسلم شدت پسند ''سیان'' نامی تنظیم کی جانب سے اسلام مخالف ریلی نکالی گئی' اس دوران لوگوں کی بڑی تعداد کی موجودگی میں ایک شخص نے قرآن مجید کو جلا کر اس کی بے حرمتی کی تھی' الیاس نامی بہادر نوجوان نے قرآن کی بے حرمتی کرنے والے کو روکنے کی کوشش کی تاہم ناروے پولیس نے اُلٹا الیاس نامی نوجوان کو ہی حراست میں لے لیا۔ قرآن کریم کی بے حرمتی پر مبنی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پوری دنیا کے مسلمانوں میں غم وغصہ پایا جاتا ہے' پاکستان نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ناروے کے سفیر کو طلب کرتے ہوئے مرتکبین کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پاک فوج نے بے حرمتی کو روکنے والے نوجوان کو سلام پیش کیا ہے۔ اس واقعے کو عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے عالمی سطح پر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تمام مذاہب کی مقدس شخصیات اور شعائر کے تقدس کا قانون بنایا جائے تاکہ قانون سازی کے ذریعے عالمی سطح پر توہین مذاہب کو روکا جا سکے۔ ناروے میں قرآن مجید کی بے حرمتی کا واقعہ اگر انفرادی طور پر پیش آیا ہوتا تب بھی قابلِ مذمت تھا لیکن حیرت ہے عالمی امن کے دعویداروں کی سوچ پر کہ کھلے عام قرآن مجید کی بے حرمتی کی کوشش کی گئی لیکن پولیس موجود ہونے کے باوجود اسے روکنے کی کوشش نہ کی گئی۔ اہل مغرب مسلمانوں کو عدم برداشت کے طعنے دیتے ہیں لیکن اہل مغرب کے سماجی ڈھانچے کو سمجھنے کیلئے محض یہ واقعہ ہی کافی ہے۔ قرآن مجید کی بے حرمتی کو روکنے والا نوجوان پابند سلاسل ہے جبکہ انتشار پھیلانے والے سرکاری تحفظ میں ہیں۔ کیا آزادی اظہار کے نام پر اہل مغرب کا یہ دہرا معیار نہیں ہے؟

جھوٹی گواہی کے خلاف چیف جسٹس کے اقدامات

نظام انصاف میں گواہی کی اہمیت بہت زیادہ ہے' گواہی کو کسی بھی کیس کے فیصلے کیلئے اگر بنیاد قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ کوئی بھی کیس ابتدائی شواہد اور گواہی کی بنیاد پر چلتا ہے لیکن کس قدر حیرت کی بات ہے کہ تمام تر حقائق معلوم ہونے کے باوجود گواہ جھوٹی گواہی دینے کیلئے تیار ہو جاتا ہے' یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کی گواہی سے کسی کی زندگی برباد ہو سکتی ہے' کسی کو سزائے موت کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ ابتدائی شواہد اور گواہی میں تفتیشی افسر برابر کا شریک ہوتا ہے' بہت کم ایسے کیسز ہوتے ہیں جن میں تفتیشی کو حقائق کا علم نہ ہو۔ اس لئے جھوٹی گواہی میں تفتیشی کی ملی بھگت کو مدنظر رکھتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ٹھوس اقدامات اُٹھائے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ جھوٹی گواہی پر تفتیشی افسر کو بھی ملزم بنایا جائے گا۔ اس سے پہلے 15جھوٹے گواہوںکے خلاف کارروائی شروع کی جا چکی ہے اور جھوٹے گواہ بنانے پر تفتیشی افسروں کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کئے جانے پر اُمید کی جا سکتی ہے کہ سزا کو دیکھتے ہوئے آئندہ جھوٹی گواہی کیلئے کوئی تیار نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اس اقدام سے فراہمی انصاف میں آسانی ہوگی اور جھوٹی گواہی کی بنا پر سالوں تک لٹکنے والے کیسز کا بھی بہت جلد فیصلہ ہو سکے گا۔

قبائلی عمائدین کا فاٹا کو بحال کرنے کا مطالبہ

24جنوری 2017ء کو فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا فیصلہ ہوا تو ہر سطح پر اس اقدام کی تحسین کی گئی کہ صوبے میں فاٹا کے انضمام کے فیصلے سے فاٹا کی محرومیاں دور ہوں گی' اب فاٹا کے لوگوں کو بھی وہ تمام سہولیات ملیں گی جو صوبے کے دوسرے شہریوں کو دستیاب ہیں، اس مقصد کیلئے فاٹا کو 10سال تک ٹیکس چھوٹ دی گئی اور ضم ہونے والے اضلاع کی ترقی کیلئے صوبائی بجٹ میں 162ارب روپے کی رقم مختص کی گئی جب وفاقی حکومت کی سطح پر 10ارب روپے کی اضافی رقم فاٹا کی ترقی کیلئے مختص کی گئی لیکن عجیب بات ہے کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم ہوئے ابھی محض دو سال ہی ہوئے ہیں کہ آل فاٹا گرینڈ جرگہ نے فاٹا انضمام کے خاتمہ اور فاٹا کو پرانے نظام پر بحال کرنے کیلئے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ بیرونی ایجنڈا بابائے قوم کے نافذ کردہ قانون کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ قبائلی عمائدین کے تحفظات کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ فاٹا کے ضم شدہ اضلاع میں بندوبستی علاقوں کی طرح ضروریات زندگی فراہم کی جائیں' علاج معالجہ' تعلیم اور پختہ سڑکوں کی ضرورت کو ہنگامی بنیادوں پر پورا کیا جائے۔ وہاں کے لوگوں میں پایا جانے والا احساس محرومی دور کر کے ہی ان کے تحفظات کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ فاٹا کی مکمل بحالی پر خطیر رقم اور سالوں درکار ہوں گے لیکن دو سال کا عرصہ بیت جانے کے باوجود فاٹا کے ضم شدہ اضلاع میں کوئی ایک کام بھی ایسا نہیں کیا جا سکا جس کی بنیاد پر کہا جا سکے کہ یہ فاٹا کے لوگوں کا احساس محرومی دور کرنے کیلئے کیا گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فاٹا کے لوگوں کی اکثریت صوبے کیساتھ انضمام پر خوش ہے اور اکثریت کی بنا پر ہی فاٹا کے صوبے میں انضمام کا فیصلہ ہوا تھا اب چند لوگوںکے تحفظات کی وجہ سے اگر نوبت فاٹا کو اس کی پرانی حالت میں بحال کرنے پر آتی ہے تو صوبے اور وفاق کیلئے یہ غور طلب پہلو ہونا چاہئے کہ قبائلیوں کے تحفظات دور کرنے میںکہاں کوتاہی برتی گئی ہے اور اس کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے؟

متعلقہ خبریں