Daily Mashriq

نواز شریف کا پاکستانی سیاست میں اثراور اہمیت

نواز شریف کا پاکستانی سیاست میں اثراور اہمیت

نواز شریف اپنی بیماری کے علاج کی غرض سے بیرون ملک روانہ ہو چکے ہیں۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تووہ جلد ہی صحت یاب ہو کر پاکستان لوٹیں گے اور اپنے خلاف کھلے سیاسی اور قانونی محاذوں پر مقابلے کے قابل ہو سکیں گے۔ ان کے روانگی کے بعد ، ان کے حامیوں اور مخالفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک مرتبہ پاکستان کی سیاست پر نواز شریف کے اثرورسوخ اور ان کے سیاسی کیرئیر کا جائزہ لے لیں۔ پاکستان میں کوئی ایسی شخصیت نہیں جو ان سے زیادہ مرتبہ ملک کی وزیر اعظم بنی ہو اور ان کے علاوہ کوئی وزیر اعظم نہیں جس نے اتنے طویل عرصے تک حکمرانی کی ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کے مخالفین ان پر تنقید اور حامی ان کے گیت گا کر ان کے خاکے میں اپنی پسند کے رنگ میں رنگتے ہیں اور یہ سراسر زیادتی ہے۔

نواز شریف1981 میں اپنی بتیسویں سالگرہ سے بھی پہلے پنجاب کے وزیر خزانہ بن چکے تھے اور چھتیس سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے وہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ بن چکے تھے۔ جیسے آج پی ٹی آئی اپنے جوان، تعلیم یافتہ، نئی سوچ کے حامل اور کچھ اداروں کے چہیتا ہونے کا دعوہ کرتی ہے، نواز شریف بھی اس دور میںٹھیک ایسے ہی تھے۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے وہ وقت نہیں دیکھا سو ان کے لیے ایسے تنقید کے نشتر چلانا آسان ہے۔ وہ اس رہنما سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں جس نے ایک وقت میں ان تمام عناصر کی نمائندگی کی تھی جن کی نمائندہ ہونے کی دعویدار آج تحریک انصاف ہے۔

نواز شریف کو اس وقت دراصل دختر پاکستان، محترمہ بے نظیر بھٹو کے مقابلے میں، ایک متبادل کے طور پر تیا ر کیا گیا تھا، ان کی تمام تر تربیت اس مقصد کو مد نظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ محترمہ اس ملک کی جیسنڈا آرڈرن تھیں مگر انہیں نیوزی لینڈ سے بیس گناہ زیادہ بڑے ملک میں گھمبیر تر مسائل کا سامنا تھا۔ نواز شریف کے تمام سیاسی کیرئیر میں محترمہ ہی ان کی سب سے بڑی سیاسی حریف رہی ہیں ۔ نواز شریف نے سال2011کے بعدعمران خان کی ہر دم بڑھتی سیاسی مقبولیت کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اسی غلطی کی سزا آج مسلم لیگ نواز بھگت رہی ہے۔

1990 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کو شکست دینا نواز شریف کی پہلی بڑی فتح تھی۔ نواز شریف کی سربراہی میں آئی جے آئی نے اس الیکشن میں پچاس اضافی سیٹیں جیتی تھیں جبکہ جیالے انہی انتخابات میں پچاس نشستوں سے ہاتھ دھوبیٹھے تھے۔ البتہ ان متنازعہ نتائج کے پیچھے کی وجہ ہم 2012میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کی بدولت جان پائے کہ ان انتخابات میں من چاہا سیٹ کائونٹ لانے کے لیے بڑے پیمانے پر غیر قانونی فنڈنگ کی گئی تھی۔

تاریخ نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات کے اتار چڑھائو سے بھری پڑی ہے۔ نواز شریف کے حامی تو یہی کہیں گے کہ وہ شروع دن سے ہی ایک شیر تھا مگر انہیں غلام اسحاق خان کے ہاتھوں نواز شریف کی حکومت کے دھڑن تختہ ہونے کو یاد رکھناچاہیے اور یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ان تعلقات میں ابتدائی خرابیاں نوے کی دہائی کے آغاز میں ہی شروع ہو گئی تھیں۔ دوسری طرف ان کے مخالفین 1999میں ان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کی مثال دیتے ہیں جب کارگل میں کارروائی کاذکر کرتے ہیں۔مگر سول عسکری تعلقات کی خرابی کے آغاز کوسراسر نواز شریف کی سیاست کے ساتھ جوڑنا غلط ہے۔یہ بھی تو غور کرنے کی بات ہے کہ آخر نواز شریف کا وہ کونسا فیصلہ تھا جس کے بعد ان تعلقات میں دراڑیں آناشروع ہوئیں۔ اس سوال کا جواب نہایت آسان ہے۔ نواز شریف کا آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو سبکدوش کرنے کا فیصلہ ان کے سیاسی کیرئیر کی بڑی غلطی ثابت ہوا۔جہانگیر کرامت کا شمار ان کمانڈروں میں ہوتا تھا جو پیشہ ورانہ مہارت، آئین سے وفاداری، اندرونی امن اور بیرونی استحکام کے داعی تھے۔ ان کی سبکدوشی پاکستان میں سول ملٹری تعلقات ، ملکی سیاست اور عالمی ساکھ سمیت تمام ہی پہلوئوں کے حوالے سے غلط اور نقصاندہ ثابت ہوئی تھی اور پاکستان آج تک نواز شریف کی اس ایک خطاء کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکا۔

نواز شریف کی سیاسی لیگیسی کو ان کے آرمی کے ساتھ تعلقات پرہی منتج کرنا غلط ہوگا۔ انہوں نے اپنے ہر دور حکومت میں کئی ترقیاتی کام کروائے ہیں۔موٹر ویز کی تعمیر اور میٹرو جیسے منصوبے متعارف کرانا اور اپنے آخری دور حکومت میں توانائی کی پیداوار کے لیے پاور پلانٹس لگانے کا سہرا ان کے سر جانا ہی چاہیے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاںاس چیز کو اتنا سراہا نہیں جاتا مگر نواز شریف کی سب سے بڑی آئینی خدمت ان کا عدلیہ کو آزادی دلوانے کے لیے کاوشیں کرنا تھا۔ آپ پاکستانی جمہوریت کاحال دیکھیں کہ وہ آئینی خدمت جس کے لیے انہوں نے کاوشیں کیںوہی ان کے گلے بھی پڑ گئی۔ نواز شریف کے سیاسی زندگی میں 1997میں سے اب تک دو دفعہ ایسا ہو چکا ہے کہ ان کا اپنا ہی کیا گیا اقدام ان کے گلے پڑ گیا۔

میاں صاحب کے ناقدین ان کی کرپشن کو ہی ان کی لیگیسی گرداننے پر مصر ہیںمگر عدالتوں یا ووٹروں میں سے کسی نے بھی ان الزامات پراب تک کان نہیں دھرے ۔ نواز شریف نے اداروں کی تشکیل اور انفراسٹرکچر کے لیے بہتیرا کام کیا ہے مگر ان کی اپنی ہی کچھ کمیوں، کوتاہیوں نے ان کی خصوصیات پر پانی پھیر دیا ہے۔ ان کا میل جول کم رکھنا اور خود تک رسائی نہ دینے کی عادت نے انہیں کافی نقصان پہنچایا ہے۔ ابلاغ نہ ہونا ہی ان کے عسکری اداروں کے ساتھ نا سازگار تعلق کا سبب بنا اور یہی2014کے دھرنے اور اس مشہور ''ریجیکٹڈ'' کے ٹویٹ کی وجہ بنی جو ایک نوٹیفیکیشن کے حوالے سے آئی ایس پی آر کے سربراہ نے کی تھی۔ نواز شریف اپنی ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی اور زعم کے باعث پاناما لیکس کا معالمہ بھی ٹھیک طرح سنبھال نہیں سکے (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں