Daily Mashriq

پشاور کے بڑھتے ہوئے مسائل

پشاور کے بڑھتے ہوئے مسائل

پچھلے چند برسوں میں پشاور کی آبادی بے تحاشہ بڑھی ہے اور ایک تسلسل کے ساتھ مسلسل بڑھتی چلی جارہی ہے اس جنگ زدہ صوبے کے حالات ہی کچھ ایسے ہیں کہ لوگ پشاور میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ لوگوں کی معاشی مشکلات بھی انہیں پشاور کو اپنی مستقل قیام گاہ بنانے پر مجبور کردیتی ہیں اس وقت پشاور کی ایک بہت بڑی ضرورت لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے سائز کے ایک ہسپتال کی تعمیر ہے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا ہر ڈاکٹر کمپائونڈر نرسنگ سٹاف اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والا عملہ جس محنت اور جانفشانی سے مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی دیکھ بھال اور علاج معالجے میں مصروف ہے وہ قابل ستائش ہے یہ اس سٹاف ہی کا حوصلہ ہے کہ وہ مریضوں کی بہت بڑی تعداد کی خدمت کر رہا ہے اگرچہ مشکلات بہت زیادہ ہیں لیکن یہ اپنی طرف سے پوری کوشش کرتے ہیں کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال آنے والوں کو مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے کام کی زیادتی بہت سی غلطیوں کا سبب بھی بن جایا کرتی ہے تھکا ہوا ذہن بسا اوقات مناسب فیصلے نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیا ع کا احتمال ہمیشہ رہتا ہے اگر کوئی ڈاکٹر مریض کے پاس پانچ منٹ کی تاخیر سے پہنچے تو انسانی جان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اور اب تک اس تاخیر کی وجہ سے بہت سی انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں ۔پشاور کا دوسرا سب سے بڑا مسئلہ پشاور کی فراخ سڑکوں کا سکڑ جانا ہے اور یہ بڑھتی ہوئی آبادی کا شاخسانہ ہے گاڑیوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافے اور تجاوزات نے سڑکوں کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے پشاور میں تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کے باوجود بھی صورتحال جوں کی توں ہے کوہاٹی چوک شعبہ بازار اور چوک یادگار اورکئی دوسرے بازاروں میں سے گزرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

یہاں کے مکین گھر وں سے ایک گھنٹہ پہلے ہی نکلتے ہیں اور یہ گھنٹہ وہ ٹریفک جام کے نام کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اگر اپنی منزل پر بروقت پہنچنا ہے تو ٹریفک جام میں ضائع ہونے والے وقت کو بھی پیش نظر رکھنا ہے پشاور میں صاف پانی کا مسئلہ بھی روز بروز گھمبیر ہوتا چلا جارہا ہے زنگ آلود نلکوں میں سے گزر کر آنے والا پانی بہت سی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے اگرچہ بہت سے علاقوں میں پانی کے پائپ تبدیل کیے جاچکے ہیں لیکن ابھی بھی پانی کے پرانے پائپ بہت سے علاقوں میں موجود ہیں اس مسئلے کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے باغات کی صورتحال مخدوش ہے تفریحی پارک نہ ہونے کے برابر ہیںکرنل شیر خان سٹیڈیم(آرمی سٹیڈیم ) ختم کردیا گیا ہے چاچا یونس پارک کا حجم بہت چھوٹا ہے اور یہ تفریحی پارک سے زیادہ اپنی انتظامیہ کے لیے مال بنانے کا ایک عمدہ ذریعہ بن چکا ہے عید ہو یا کوئی دوسرا تہوار اس کی انتظامیہ مال بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی! کوئی ان سے یہ نہیں پوچھتا کہ یہ تو عوام کے لیے ہے مہنگائی کے مارے ہوئے عوام یہاں تھوڑی دیر کے لیے اپنے بچوں کے ساتھ اپنے غم غلط کرنے آتے ہیں لیکن تم لوگ اپنے ہاتھوں میں تیز چھریاں لیے ان کی کھال اتارنے میں مصروف ہو!پشاور کی آبادی کو دیکھتے ہوئے اسے وسعت دینے کی ضرورت ہے اسے پھیلانا ہے نئے نئے تعمیری منصوبے شروع کرنے ہیں اس سے ترقیاتی فنڈز کا بھی مناسب استعمال ہوگا اور لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی ملیں گے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ لوگوں کا سیاستدانوں پر سے کھویا ہوا اعتماد بھی بحال ہوگا پشاور میں سڑکوں کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے اندرون شہر بھاری گاڑیوں پر پابندی لگا دی جائے اور ان کی جگہ چھوٹی گاڑی سوزوکی متعارف کروادی جائے کیونکہ شہر کی سڑکیں باڑہ کی بیڈفورڈ بسوں کی متحمل نہیں ہوسکتیںپشاور کا ایک بہت ہی سنگین مسئلہ رکشوںاور موٹر سائیکلوں کی بہتا ت ہے آپ پشاور کی ہر سڑک پر رکشوں کو شتر بے مہار کی طرح گھومتا دیکھ سکتے ہیں ہر چوک میں رکشے قطار اندر قطار کھڑے کرکے غیر قانونی رکشہ سٹینڈ بنا دیے گئے ہیں جن کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں زبردست خلل پڑتا ہے اس کے علاوہ ایسے رکشے بھی کافی تعداد میں موجود ہیں جن کے سائلنسر اڑے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے پشاور کی فضائوں میں آلودگی بڑھ رہی ہے چھوٹے چھوٹے بچے رکشے بھگا رہے ہیں ان بچوں کو رکشہ چلاتے دیکھ کر ذہن میں پہلا خیال یہی آتا ہے کہ ہماری ٹریفک پولیس کہاں ہے ؟ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ بچے جن کی ابھی ڈرائیونگ لائسنس بنانے کی عمر ہی نہیں ہے ان سے پوچھا جاتا کہ آپ کو لائسنس کہاں سے ملا؟لیکن سالہا سال سے یہ مناظر شہر کی سڑکوں پر سب دیکھ رہے ہیں دعوے تو بڑے بڑے کیے جاتے ہیں لیکن عملی کام کہیں نظر نہیں آتا پشاور کی ٹریفک پولیس میں اعلیٰ عہدوں پر بڑے ذمہ دار اور دیانت دار افسران موجود ہیں لیکن شاید وہ اس صورتحال سے بے خبر ہیں یا پھر کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے ؟عوام تو اصلاح احوال چاہتے ہیں انہیں تو اپنے شہر سے پیار ہے وہ چاہتے ہیں یہاں قاعدے قانون کی پابندی ہو ٹریفک پولیس کا سب سے اہم کام یہ ہے کہ وہ باقاعدہ رکشہ شماری کریں پشاور کی سڑکوں کو دیکھتے ہوئے رکشوں کی ایک معقول تعداد کو سڑکوں پر آنے کی اجازت دی جائے ایک بھی فالتو رکشے کو پرمٹ نہ دیا جائے ٹریفک پولیس کی اتنی بڑی تعداد آخر کس دن کام آئے گی؟۔

متعلقہ خبریں