Daily Mashriq

برف کے لوگ مری بات کہاں سنتے ہیں

برف کے لوگ مری بات کہاں سنتے ہیں

رونا رویا جائے اس بے بسی کا جو آج مسلم امہ کا مقدر بنا دی گئی ہے یا ماتم کیا جائے اس بے حسی کا جو امہ نے خود بھی اپنے اوپر طاری کر رکھی ہے۔ اہل مغرب جب چاہتے ہیں' جہاں چاہتے ہیں اسلامی شعائر کا مذاق اڑاتے ہیں۔ توہین کرکے اپنے اندر کے بغض کو آشکار کرتے ہیں اور اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ کر دنیا بھر کے مسلمانوں کو نشانہ تضحیک بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہ اس یہودی سازش کا حصہ ہے جو وہ اسلام کی شمع روشن ہونے کے وقت سے کفار مکہ کو ہادی بر حقۖ کے پاس بھیج کر وقتاً فوقتاً ایسے سوال کرتے رہتے تھے تاکہ حضورۖ کی نئی آخر الزماں ہونے کو پرکھا جائے مگر بدبختوں کو ہر سوال کا مدلل جواب ملنے کے باوجود مشرف بہ اسلام ہونے اور اپنے نظریات سے رجوع کرنے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی کہ ان کے اندر کا تعصب انہیں آفاقی روشنی سے دور رکھنے کا باعث تھا یا پھر نصاریٰ کے اہل فکر و دانش کی وہ ژولیدہ فکری تھی جس کی بناء پر انہوں نے اسلام کے آفاقی پیغام کو روکنے کے لئے مسلمانوں کو اپنی سوچ کے مطابق نیست و نابود کرنے کے لئے ان پر صلیبی جنگیں مسلط کرکے بزعم خود اسلام کو مٹانے کی سعی ناکام کی اور جب اسلام کی شمع کسی طور نہیں بجھی تو طاقت ملتے ہی عالم اسلام کے خلاف سازشوں کے تانے بانے بنے گئے' اس میں قصور یہودیوں اور نصرانیوں سے زیادہ خود مسلمانوں کا ہے کہ تفرقوں میں پڑ کر اسلام کی مرکزیت کو ضعف پہنچانے میں ان کا اپنا کردار ہے۔ طویل عرصے تک اسلامی تہذیب و ثقافت کے پھریرے آدھی سے زیادہ دنیا پر لہرانے والے مسلمان سلا طین اور فرمانروا جب عیش و طرب کے دلدادہ ہوگئے تو تحقیق و تجسیس کو تج دیا گیا۔ ادھر اہل مغرب نے اسلامی سکالروں کی خوشہ چینی سے فکر کے نئے جہاں تخلیق کرنے شروع کردئیے تو اسلامی دنیا پر زوال کی نحوست نے سائے کرکے انہیں حاکموں سے محکوم بنا کر رکھ دیا۔ سازشوں نے خلافت کی جڑیں کھوکھلی کرکے انہیں چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کردیا اور یہ ریاستیں بھی سازشوں کی مرہون منت یوں تھیں کہ ان کے تار باہر ہی سے ہلائے جاتے تھے بلکہ اب بھی صورتحال وہی ہے کہ مسلکوں اور فرقوں میں تقسیم ممالک کو آپس میں الجھا کر نہ صرف ان کی معیشت پر بڑی (سازشی) قوتوں نے یوں گرفت کر رکھی ہے کہ یہ اپنی گردن ہلانے کی سکت تک نہیں رکھتے گویا (انتہای معذرت کے ساتھ) عالم اسلام کی اکثریت یا تو گھگھو گھوڑے ہیں یا پھر چابی کے وہ کھلونے جو چابی بھرنے والوں کے اشاروں پر ہی حرکت میں آتے ہیں۔ ایسے میں جب غلامی کے طوق اتار پھینکنے والے چند ممالک نے دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑی حد تک آزادی حاصل کی اور وہاں ایسی لیڈر شپ ابھری جس کے دل و دماغ میں مسلم امہ کی ''نشاة الثانیہ'' کا سودا سمایا اور انہوں نے ایک تیسری قوت کے طور پر مسلمانوں کو او آئی سی کے پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کی کوشش کی تو یہ ایک موثر آواز تھی جسے بڑی طاقتیں کسی طور نظر انداز کر ہی نہیں سکی تھیں اور جب اسی تیسری قوت یعنی مسلم امہ کے ذہنوں میں تیل کو بطور ''ہتھیار'' استعمال کرنے کی سوچ پنپنے لگی تو بڑی قوتوں کو خطرے کااحساس ہونے لگا۔ اس کے بعد شاہ فیصل' احمد سویکارنو' ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر کو جس طرح ''نشان عبرت'' بنا کر تیسری قوت کو بے دست و پا کردیاگیا وہ تاریخ ہے۔ اس صورتحال نے او آئی سی کا جو حشر کیا وہ سب کے سامنے ہے کہ بقول احمد فراز

میں کہہ رہا تھا رفیقوں سے جی کڑا رکھو

چلا جو دردکا ایک ا ور تیر' میں بھی نہ تھا

اسلامی دنیا میں اتھل پتھل کا نتیجہ سب کے سامنے ہے' باہم چپقلش اور پھر اندرونی سازشوں سے ان ممالک کو اتنا کمزور کردیاگیا ہے کہ ان ممالک کے ''شاہی خاندانوں'' کو اپنی پڑی ہوئی ہے' اس پر بھی بس نہیں کی گئی اسلامی جذبے کو ختم کرنے کے لئے اس کے اندر سے امن اور سلامتی کو خارج کرکے تشدد اور دہشت گردی کو مسلسل سازشوں کے ساتھ اسلام سے جوڑ کر اسے بدنام کرنے کے لئے پروپیگنڈے کا بازار گرم کردیاگیا اور اہل مغرب کے ذہنوں میں اس قدر بغض و عناد بھر دیا گیا کہ اب وہاں قدم قدم پر اسلامی شعائر کی توہین کے مظاہرے ہونے لگے ہیں۔ کبھی ہمارے پیارے نبیۖ کے بارے میں توہین آمیز کارٹون تخلیق کئے جاتے ہیں' کہیں قرآن کی سر عام بے حرمتی کی جاتی ہے اور مسلمان خواتین پر سر عام تشدد' ان کے سکارف چھیننے کی وارداتیں مغربی معاشروں کا خاصا بنا دی گئی ہیں۔ کہیں گولی چلتی ہے یا کوئی دہشت گردانہ کارروائی ہوتی ہے تو اسے بلاسوچے سمجھے ' بناء تحقیق کے فوراً اسلام سے جوڑ دیا جاتا ہے اور جب ان میں کوئی غیر مسلم ملوث ہوتا دکھائی دیتا ہے تو اسے ذہنی مریض قرار دے کر معاملہ ختم کردیا جاتا ہے

عجیب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں

لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں

تازہ ترین واردات ناروے میں سر عام ایک بدبخت کی جانب سے قرآن حکیم کی بے حرمتی اسے جلانے کی صورت سامنے آئی جبکہ ایک مسلمان نوجوان عمر الیاس نے گستاخ قرآن پر حملہ کرکے اس واردات کو روکنے اور اس پر احتجاج کرنے کی کوشش کی جس پر صرف ترکی اور پاکستان نے ہی احتجاج کیا۔ واقعے میں ملوث بدبخت کے خلاف ایکشن لینے' عمر الیاس کو رہاکرنے اور آزادی کے نام پر ایسے واقعات کی روک تھام کامطالبہ کیا جبکہ دوسرے اسلامی ممالک '' تادم تحریر'' خاموشی کی بکل مارے لب بستگی کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ کیا یہ رونے کا مقام نہیں' ماتم نہ کیاجائے اس پر؟ مگر جب صورتحال یہ ہو کہ اب بعض اسلامی ممالک میں مندر کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے اور وہاں کے '' اہل حکم'' ہندوئوں کی طرح ہاتھ جوڑ کر بتوں کے آگے کھڑے ہونے پر فخر محسوس کرتے دکھائی دیں توکس بات کا رونا' کیسا ماتم؟

جمع ہوجاتے ہیں سورج کا جہاں سنتے ہیں

برف کے لوگ مری بات کہاں سنتے ہیں

متعلقہ خبریں