Daily Mashriq

گدھا ہو یا مینڈک ' گوشت تو ہے ناں

گدھا ہو یا مینڈک ' گوشت تو ہے ناں

جی تو ہمارا بھی للچا رہاتھا کہ ہم بھی اتنا سستا ، بغیر ہڈی اور مزے دار گوشت بے دریغ خریدیں ، خوب مزے لے لے کرخود بھی کھائیںاس کے ساتھ ساتھ اپنے مہمانوں کو بھی کھلائیںاور بقول شخصے گوشت کھانے سے ایمان بھی تازہ ہوجاتا ہے اور صحت بھی خوب بن جاتی ہے، مگر ڈر تھا کہ کہیں ایمان تازہ کرتے کرتے پورے ایمان سے نہ ہاتھ دھو بیٹھیں، اس طرح کبھی مذہب آڑے آجاتاکہ معلوم نہیں یہ گوشت حلال ہے بھی یا نہیں اور کبھی صحت کی طرف سے متفکر ہوجاتے کہ مبادا یہ گوشت صحت کے اصولوں کے مطابق ہمارے لئے اچھا نہ ہو تو بجائے صحت بننے کے مزید بگڑ جائے ،اب یہاں اگر کوئی کہے کہ بھئی ہم جو گوشت روزانہ کھاتے ہیں کیا وہ ہماری ناتواں صحت کے لئے اچھا ہے تو اس کا جواب بھی نفی میں ہے، ہمارے ہاں جو مقامی گوشت بھی فروخت ہورہا ہے اس کے حلال ہونے کی تو تسلی کسی طور ہو جاتی ہے مگر اس کے انسانی صحت کے لئے مضرہونے کے شاقی ہم تھے اور ہیں ۔آج سے چند برس قبل امپورٹڈ گوشت پرہمارا شک یوں بھی تقویت پکڑ گیا کہ اس گوشت کے صوبہ اور بالخصوص پشاور میں آنے یا دستیاب ہونے سے پہلے ہم نے اپنے پیارے ٹیلی ویژن پر ایک نجی چینل کی رپور ٹ دیکھی تھی کہ جس میں کہا گیا تھاکہ پنجاب کا ایک گروہ بکرے کے گوشت میں پانی ڈال کر اس کے وزن میں اضافہ کردیتا ہے اور پھر اسے بازار میں بیچتاہے، رپورٹ میں ایسا کرنے والے نے بتایا کہ وہ بکرے کو ذبح کرنے کے فوراًبعد بکرے کے دل کے ساتھ ایک رگ میں تازہ پانی کا پائپ لگا دیتاہوں اور خریدنے والے قصاب کی خواہش کے مطابق پانی ڈالتا ہے تاکہ حسب خواہش وزن بڑھایا جائے اور پھر بازار میں چند روپے سستا کرکے یہ گوشت بکتا ہے ، اس طرح یہ نا عاقبت اندیش چند روپوں کی خاطر کھلے عام انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں ، نجی ٹیلی ویژن کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ یہ گروہ پنجاب سے نکل کر کراچی میں بھی اپنے گھنائونے کارو بار کرچکا ،اس رپورٹ کے مطابق ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ آیا یہ گوشت انسانی جان کے لئے مضر صحت ہے یا نہیں۔

ہم بھی عام شہری کی طرح سے شہر میں فروخت ہونے والے اس گوشت کے لئے تشویش کے شکار تھے ہی اور دل ہی دل میں یہ دعا کررہے تھے کہ خدا کرے کہ کسی ارباب اختیار کی اس پر نظر پڑے، وہ خود یا پھر اس کا کوئی قریبی رشتہ دار اس گوشت کو خرید کر کھائے اور آگے جو ہو اس سے ہمیں بھی آگاہی ہو کیونکہ پورے پاکستان اور صوبہ کی طرح ہمارے پیارے پشاور میں بھی خانہ پرُی کے لئے فوڈ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ بھی ہے اور اسکا عملہ بھی شہر بھر میں گھومتا پھرتا ہے جس کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے سادھ لوح عوام بے چارے ہر روز صبح شام مضر صحت خوراک کھارہے ہیں اور ناجائز منافع خور اپنی من مانی کرتے ہوئے چند ٹکوں کی خاطر پوری قوم کی صحت سے کھیل رہے ہیں، ان اشیاء میں مشروبات سے شروع کیا جائے تو کھلے عام مضر صحت شربت پوری دیدہ دلیری سے فروخت ہورہے ہیں، سبزیاں ، گوشت بڑا چھوٹا دونوں ، مچھلی، فروٹ، مرغی، انڈے اور دیگر عام استعمال کی چیزیں بھی بغیر کسی روک ٹوک کے کھلے عام فروخت ہورہی ہیں اور ان دکانداروں چاہے وہ تھوک کا دکاندار ہو یا پرچون فروش سب کے سب اپنی من مانی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

عوام چاہے لاہور کے ہوں یا پشاور کے گوشت کے بارے میں پریشان ہیں ۔ ان کے پریشان ہونے کی پہلی دفعہ نہیں ہم بارہا خوراک کی دیگر کئی چیزوں کے لئے بھی پریشان ہوچکے ہیںلیکن عوام کے پریشان ہونے سے ارباب اختیار کے ایوانوں میں کبھی بھی کوئی ہلچل نہیں مچی ، آٹا مہنگا ہوا، روٹی مہنگی ہوئی اور چھوٹی بھی ہوئی کوئی نہیں بولا، وفاقی بجٹ کے بعد صوبائی بجٹ آئے لیکن اس پر بھی اکتفا نہیں بلکہ آئے روز ہر کارخانہ دار ، فیکٹری کا مالک اور تھوک و پرچون والے اپنے اپنے بجٹ پیش کرتے ہی رہتے ہیں، یہاں محکمہ خوراک ( فوڈکنٹرول ڈیپارٹمنٹ ) کا فرض ہے کہ وہ نہ صرف خوراک کی چیزوں کے نرخوں پر نظر رکھے بلکہ ان اشیاء کو حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق ہونے کے لئے ٹھوس اقدامات ہونے چاہئیں۔ ہر ضلع کی سطح پر ماہانہ بنیادوں پر خوراک کی چیکنگ کی جائے اور عوام کو مضر صحت اشیاء کی فروخت پر سختی سے نظر رکھی جائے، بلیک مارکیٹ ، مصنوعی قلت اور قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ کرنے والوں کے ساتھ بھی نرمی نہ برتی جائے۔ تاکہ ہمیں یقین ہو کہ جو گوشت ہم کھارہے ہیں وہ کسی حلال جانور کا ہے اوروہ کسی طور گدھے، مینڈک اور پانی بھرا مضر صحت نہیں ہے۔کیونکہ کہنے والے کہتے ہیں بھئی گوشت تو ہے ناں چاہے بکرے، دنمبے، گائے گھوڑے بلکہ گدھے اور مینڈک ہی کا کیوں نہ ہو۔

متعلقہ خبریں