Daily Mashriq

چیئرمین نیب کا عزم

چیئرمین نیب کا عزم

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف پاناما کیس میں نااہلی کی سزا اور مزید تفتیش کے لئے معاملات کو نیب کے حوالے کئے جانے اور درج مقدمات کے بعد ملک میں جہاں ایک طرف کرپشن کے خلاف عوام کے اندر شعور اجاگر ہوا ہے اور وہ ملک بھر میں ہونے والی مبینہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کی سوچ پر یکسو ہیں وہیں سیاسی اور سماجی سطح پر یہ آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں کہ پاناما کیس میں صرف نواز فیملی ہی کا ذکر نہیں بلکہ چار سو کے قریب دیگر افراد کا بھی تذکرہ ہے جن سے ابھی تک کوئی تعرض نہیں رکھا گیا۔ اس طرح یہ معاملہ صرف ایک خاندان کے خلاف ہونے کی وجہ سے عدل وانصاف کے تقاضے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں بلکہ اس پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس لئے تواتر کے ساتھ کئے جانے والے مطالبات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے کہ پاناما لیکس میں جن دیگر چار سو سے زیادہ افراد کے نام موجود ہیں ان کے خلاف بھی تحقیقات کادائرہ وسیع کرکے انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں کیونکہ متاثرہ خاندان کی جانب سے اب نیب کے ادارے ہی کے حوالے سے سوال اُٹھائے جا رہے ہیں کہ یہ ادارہ سیاسی مخالفین کو ’’راہ راست‘‘ پر لانے کے لئے ایک سابق آمر نے قائم کرکے سیاستدانوں کو انگوٹھے کے نیچے رکھنے کے لئے استعمال کیا۔ اصولی طور پر ادارے کے خلاف اٹھنے والی آوازیں اگرچہ درست قرار دینے میں کوئی امر مانع نہیں ہے کیونکہ ماضی میں اس ادارے کو بڑی حد تک انہی مقاصد کے لئے استعمال کیاگیا جن کی نشاندہی کی جا رہی ہے تاہم ان الزامات کو سو فیصد درست بھی قرار نہیں دیا جاسکتا اور کوئی بھی ادارہ مکمل طور پر منفی مقاصد کا حامل قرار نہیں دیا جاسکتا نہ ہی اس کے قیام کے پیچھے موجود اچھے مقاصد کو رد کیاجاسکتا ہے بلکہ یہ تو ان لوگوں پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ اسے کس مقصد کے لئے کب کس طرح استعمال کریں جو ادارے کے ذمہ دار عہدوں پر براجمان ہوتے ہیں۔ ماضی میں یقینا اسے ’’سیاسی بلیک میلنگ اور بعض دیگر مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کئے جانے کی اطلاعات درست ہونے سے بھی انکار ممکن نہیں ہے تاہم ادارے کے کریڈٹ پر لاتعداد بدعنوان افراد کو احتساب کے شکنجے میں کس کر اربوں کھربوں کی لوٹی ہوئی دولت اگر مکمل طور پر نہیں تو بڑی حد تک یہ رقوم واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرانے کی مثبت کارروائی ہے۔ اس تمام پس منظر میں موجودہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ایک قومی انگریزی اخبار کو خصوصی ملاقات میں بتایا کہ نیب بلاتفریق احتساب کو یقینی بنانے کے لئے اس وقت تمام آف شور کمپنیوں کے کیس کا جائزہ لے رہا ہے جس میں پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایک آف شور کمپنی کھولنا غیر قانونی نہیں ہے۔ وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف ایسے افراد کے خلاف کارروائی ہوگی جنہوں نے ان کمپنیوں کا غلط استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے نیب کو یہ طے کرنا ہے کہ کیا جرم سرزد ہوا ہے۔ نئے مقرر کئے جانے والے چیئرمین نیب نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی کہا کہ پاناما پیپرز کے حوالے سے تحقیقات نواز شریف اور ان کے خاندان کے علاوہ آگے بھی بڑھے گی۔ تاہم فی الحال تمام آف شور کمپنیوں کے معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس میں کوئی من پسند معاملے کے انتخاب کی پالیسی پر عمل نہیں ہوگا بلکہ بلاتفریق احتساب کیا جائے گا۔ نیب ایسا ادارہ نہیں ہے جسے انتقامی کارروائی کے لئے یا پھر سیاست کے لئے استعمال کیا جاسکے‘‘۔ جہاں تک چیئرمین نیب کے خیالات کا تعلق ہے بطور ایک سابق جج سپریم کورٹ ان کے کریڈٹ پر کئی اہم معاملات کی تحقیقات میں اہم کردار ادا کرنے اور بہ حسن وخوبی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا ہے۔ ان کی نیک نامی بھی کسی سے ڈھمکی چھپی بات نہیں ہے۔ تاہم ان کی تقرری کے حوالے سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ہی بعض تحفظات کا اظہار ضرور کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم ان کی کارکردگی کو جانچیں گے اور اگر وہ انصاف کے اصولوں پر کار بند رہیں گے تو ان کی حوصلہ افزائی کریں گے بصورت دیگر احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ اگرچہ چیئرمین نیب کے اپنے منصب پر تقرری کے وقت اس قسم کے خیالات کا اظہار کوئی درست رویہ نہیں تھا جبکہ جناب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے تقرری کے وقت بھی انہی خیالات کا اظہار کیا تھا کہ وہ بلاتفریق احتساب کو یقینی بنائیں گے اور اب ان کے تازہ انٹرویو سے بھی اسی بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں کیونکہ جس طرح انہوں نے کہا ہے کہ وہ پاناما پیپرز کے دیگر کیسوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں اور انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے معاملات کو غیر جانبداری سے آگے بڑھائیں گے تو اس پر کسی کو شک وشبہ نہیں ہونا چاہئے۔ ان کی یہ بات بھی درست ہے کہ آف شور کمپنیاں بنانا غیر قانونی نہیں البتہ ان کمپنیوں کو کن مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے‘ یہ اہم سوال ہے۔ اُمید ہے کہ چیئرمین نیب دیگر ان افراد کے معاملات کو بھی جلد دیکھیں گے جن کے نام پاناما پیپرز میں موجود ہیں۔ اس طرح صرف ایک خاندان کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات پر اعتراض کرنے والوں کو بھی جواب مل جائے گا۔

متعلقہ خبریں