Daily Mashriq


کشمیریوں سے مذاکرات

کشمیریوں سے مذاکرات

اخباری اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا سیاسی حل نکالنے کے لئے کشمیر کے تمام فریقوں کے ساتھ پائیدار مذاکرات کا اعلان کر دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارتی حکومت نے جموں وکشمیر میں پائیدار مذاکرات شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں آئی بی کے سابق ڈائریکٹر دینش شرما مودی حکومت کے نمائندے ہوں گے جو مقبوضہ جموں وکشمیر کے منتخب نمائندوں‘ سیاسی جماعتوں‘ مختلف تنظیموں اور عوام سے بات چیت کا آغاز کریں گے۔ دوسری جانب کل جماعتی حریت کانفرنس (ک) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ مذاکرات کے حوالے سے بھارتی حکمرانوں کے متضاد بیانات سامنے آتے ہیں۔ ایک جامع مذاکرات کی وکالت کرتا ہے تو دوسرا کہتا ہے کہ مذاکرات کی ضرورت نہیں‘ کشمیر اٹوٹ انگ ہے حق خود ارادیت کے لئے ہماری جدوجہد مبنی برحق ہے اور اس حوالے سے انمول سرمایہ قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ صداقت پر مبنی رواں تحریک کو دبانے والے ناکام ہوں گے۔ ہمیں دلدل میں پھنسانے والی نیشنل کانفرنس اور اس قبیل کے دوسرے لوگ ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ کشمیریوں سے مذاکرات کے معاملات پر بھارتی حکومت جس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے اس پر خود بھارتی معاشرے میں رائج محاورہ ’’بغل میں چھری‘ منہ میں رام رام‘‘ ہی پوری طرح منطبق ہوتا ہے۔ ایک جانب بھارت سرکار کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی میں تیزی آنے سے دباؤ میں آکر کشمیریوں کے ساتھ مذاکرات کا عندیہ دیتی ہے تو دوسری جانب بھارتی افواج اور دیگر سیکورٹی ادارے مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ کر ان کے جذبہ حریت کو کچلنے کی ناکام کوششیں کر رہی ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پیلٹ گنز کی فائرنگ سے لاتعداد کشمیریوں کے بدن چھلنی اور ان کو بصارت سے محروم کرنے کی کارروائی کے باوجود اپنے مذموم مقاصد میں ناکامی کے بعد تازہ ترین جرم کشمیری خواتین کی چوٹیاں کاٹ کر انہیں تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں راج ناتھ سنگھ کے بیان کو کس تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے یہ پوری دنیا پر واضح ہے۔ مگر بد قسمتی سے عالمی برادری کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ دنیا بھر میں جہاں مغربی ممالک کے اپنے مقاصد ہوں وہاں وہ تیزی سے آگے بڑھ کر اقدامات پر اقوام متحدہ کو مجبور کر دیتے ہیں جیسا کہ ابھی حال ہی میں مسلمان ممالک کے عین قلب میں آزاد کردستان کے نام سے ایک اور ریاست کا قیام عمل میں لانے کے لئے ریفرنڈم کا ڈول ڈالا گیا کیونکہ اس ریاست کے قیام سے جہاں امریکہ‘ برطانیہ‘ اسرائیل وغیرہ کے تذویراتی مفادات وابستہ ہیں اور اس کی مدد سے ترکی‘ شام‘ ایران‘ عراق وغیرہ کو دباؤ میں لانا مقصود ہے وہیں کرد علاقوں میں موجود تیل کے وسیع ذخائر پر امریکہ اور حلیفوں کی نظریں گڑی ہوئی ہیں تاہم دوسری جانب میانمر کے روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر یہ طاقتیں برائے نام ردعمل کا ہی اظہار کرکے صرف حاضری لگوا رہی ہیں جبکہ کشمیر کا مسئلہ گزشتہ لگ بھگ ستر سال سے لایخل چلا آرہا ہے مگر چونکہ اب امریکہ کے مفادات بھارت سے وابستہ ہوچکے ہیں اس لئے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم اور اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کی واضح قراردادوں کے باوجود کشمیر کے تنازعہ کو حل کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی بلکہ اس حوالے سے ماضی میں سابق سوویت یونین اور اب امریکہ بھارت ہی کے حمایتی نظر آتے ہیں۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اقوام متحدہ جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف بھارت کی مقبوضہ وادی میں نہتے عوام پر مظالم کا سلسلہ بند کرائے بلکہ اپنے وعدوں کے مطابق جموں وکشمیر کے عوام کو حق خود اختیاری کے تحت اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے ریفرنڈم کا اہتمام کرکے اس سلگتے ہوئے مسئلے کے پر امن حل کی جانب توجہ دے کیونکہ اس وقت مسئلہ کشمیر کے تین فریقوں یعنی پاکستان‘ بھارت اور کشمیری عوام میں سے پہلے دو فریق حکومتیں جوہری ہتھیارں سے لیس ہیں اور یہ مسئلہ روز بروز سنگین صورتحال اختیار کرتے ہوئے خدانخواستہ کسی بھی وقت عالمی امن کے لئے خطرناک صورت اختیار کرسکتا ہے۔ دونوں ملکوں کے مابین پہلے بھی اس مسئلے پر جنگیں ہو چکی ہیں اور اگر اب کی بار صورتحال خطرناک حدود میں داخل ہوگئی تو جوہری تصادم کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا جو تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لئے اقوام متحدہ کو اس صورتحال سے بچنے کے لئے مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب فوری توجہ دینی چاہئے۔ بھارت سرکار کو مسلمان خواتین کی بے حرمتی اور نہتے عوام پر مظالم توڑنے سے باز رکھ کر افہام وتفہیم کے ساتھ پرامن مذاکرات کے ذریعے ہی اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے میں نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے امن کے لئے بہتر نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔ خود بھارتی حکمرانوں کو بھی اپنے روایتی ہتھکنڈوں کو چھوڑ کر خلوص نیت کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے پر غور کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں