Daily Mashriq


لیڈر نہیں مسیحا چاہئے

لیڈر نہیں مسیحا چاہئے

دنیا کی بہترین قوموں اور ان کے طرز فکر کو غور سے دیکھیں توکف افسوس ملنا پڑتا ہے کہ ستر سال کے بعد بھی ہم ایک ہجوم ہیں۔ نہ کوئی منزل کا تصور اور نہ کسی سمت کا ادراک، نہ کوئی ماٹو نہ کوئی نصب العین، بس چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے۔ کہنے کو ہمارے پاس قرآن کی صورت ایک ایسا دستور العمل ہے جس پر عمل کیا جاتا تو آج دنیا میں ہماری اپنی ہی شان ہوتی۔ ہمارے پاس پیغمبر اسلامؐ کی صورت وہ رہبر بھی موجود ہے جس نے مختصر عرصے میں اس ریاست مدینہ کی بنیاد رکھی جس کی نظیر ساڑھے چودہ سو سالوں میں نہیں ملتی۔ اس رہبر اعظم نے ریاست مدینہ کے ساتھ اس عظیم الشان معاشرے کی بنیاد بھی رکھی جس نے دنیا کو پہلی بار اس راز سے آشنا کیا کہ قوم کیا ہوتی ہے؟ مگر افسوس کہ قرآن اور پیغمبرؐ کی تعلیمات سے ایسے دور ہوئے کہ آج دنیا میں ہماری کوئی شناخت ہے نہ عزت۔ جہالت میں نہ کوئی ہمارا ثانی ہے نہ اخلاقی گراوٹ میں ہمارا کوئی مقابل۔ ہم بات بات پر قرآن اور حدیث کے حوالے دینے والے وہ لوگ ہیں جو قول وفعل کے بدترین تضاد میںگردن تک دھنس گئے ہیں۔ ہمارا پورا معاشرہ جھوٹ، بددیانتی اور خیانت پر استوار ہے۔ قرآن کریم میں جن قوموں کے اخلاقی زوال اور ان پر بھیجے جانیوالے عذابوں کا ذکر ہے ہم ان تمام قوموں کے مجموعی اخلاقی زوال سے بھی بدترین تنزلی کا شکار ہیں اور باقاعدہ عذاب الٰہی کا شکار ہیں لیکن ہماری شامت اعمال کی وجہ سے خدا نے ہم سے اس عذاب کا احساس بھی چھین لیا ہے۔ ستر سال کے عرصے میں خدا نے ہمیں صرف ایک رہنما سے نوازا جو صادق بھی تھا اور امین بھی۔ راست باز بھی تھا اور اعلیٰ ترین انسانی صفات کا عملی نمونہ بھی لیکن ہم نے اسے قبر میں اُتارا اور ساتھ ہی وہ مقصد اور نصب العین بھی دفن کر دیا جس کی خاطر اس نے ہندوؤں اور انگریزوں کے ساتھ ایک طویل لڑائی لڑ کر ملک خداداد پاکستان حاصل کیا۔ اس عظیم راہنما نے اس ملک کی بنیادوں کو لا الہ الا اللہ سے سینچا اور ان پر کلمہ طیبہ کی شاندار عمارت کھڑی کی لیکن ہم نے اس کی موت کے بعد اس مٹی، اس دھرتی کے تن سے روح محمدﷺ ہی نکال کر رکھ دی۔ اس جرم کی پاداش میں خدا نے ہمارے مقدر میں وہ بدبختی لکھ دی جس نے ہمارے ہر شعبہ زندگی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور ہم سیدھا کام بھی کرتے ہیں تو وہ الٹا ہو جاتا ہے۔

ہمارے قومی ادارے تباہی کے دہانے پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ ہمارے عوام معاشی، عدالتی اور سماجی انصاف سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔ ریاست کا تصور ماںکا سا ہوتا ہے لیکن یہ ماں اپنی بے بسی اور بے کسی پر آنسو بہاتے ہوئے اپنے بچوں کو حالات کی چکی میں پستے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ ستر سالوں میں ہماری اس ماں پر ظلم کے وہ پہاڑ توڑے گئے کہ اس کے وجود کا ہر حصہ زخموں سے چور ہے۔ اس ماں کا کوئی بچہ دوا سے محروم ہے تو کوئی روٹی کے نوالے کو ترس رہا ہے۔ کوئی حالت بے بسی میں ہسپتال کے بستر پر پڑا ہے تو کوئی تعلیم سے محروم رہ کر سڑکوں پر جوتے پالش کرتا پھر رہا ہے۔ کوئی اخلاقی تربیت سے محروم ہو کر بندوق ہاتھ میں تھامے اپنے ہی بھائیوں کو خاک اور خون میں نہلا رہا ہے توکوئی باپ سے ہاتھ دھو کر یتیمی کی دلدل میں اتر رہا ہے۔ کوئی رزق کی تلاش میںدیار غیر کا مسافر بن رہا ہے تو کوئی اسی کوشش میں غرق سمندر ہو کر مگرمچھوںکے لئے رزق آب بن رہا ہے۔

کسی کے پاس سر چھپانے کو سائباں نہیں تو کوئی کوڑے کے ڈھیروں سے روٹی کے ٹکڑے چن کر پیٹ کے دوزخ کو ٹھنڈا کر رہا ہے۔ کوئی سڑکوں پر کھڑا بھیک مانگ رہا ہے تو کوئی بھکاریوں جیسی زندگی سے تنگ آکر اس زندگی کا ہی خاتمہ کر رہا ہے۔

ٹی وی چینل ان اجڑوں پجڑوں اور خانماں بربادوں کی تباہی کی داستانیں سنا رہے ہیں لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ دل سے محروم مردہ سیاست کے بیوپاری ان کے درد کی دوا ڈھونڈنے کی بجائے وہ نئے کھلونے تلاش کر رہے ہیں جن سے انہیں بہلا کر ان کے ووٹ اینٹھے جائیں تاکہ ان کے نیم جان وجودوں میں سے بچے کھچے خون کے قطرے بھی نکال سکیں۔

اس نیم جان اور جاں بہ لب سماج کی ایک تصویر یہ بھی ہے کہ اس میں موجود کچھ بھیڑئیے مال کی ہوس میں مبتلا ہو کرکمزور لوگوں کے کمزور وجودوں کو درندوں کی طرف بھنبھوڑ رہے ہیں۔ معمولی رقم کے عوض ان کے گردے نکال کر لاکھوں روپوں میں ان امیروں کو بیچ رہے ہیں جو اپنی جان بچانے کیلئے کسی کی بھی جان لے سکتے ہیں، وہ سیٹھ جن کے نوکر روکھی سوکھی روٹی کھاتے اور جن کے کتے بیرون ملک سے درآمد کی گئی مہنگی غذاؤں پر پلتے ہیں۔

اس تباہ حال اور نفسا نفسی کے شکار اس معاشرے کی ایک تصویر یہ بھی ہے کہ کچھ ابلیس زادے اپنے منافعے کو زیادہ سے زیادہ کرنے کے لئے لوگوں کو زہر کھلا رہے ہیں۔ دودھ کے نام پر زہریلا کیمیکل، مرچ کے نام پر لکڑی کا رنگدار برادہ قوم کے معدوں میں اتار رہے ہیں۔ اپنے ہی ہم وطنوں کو گدھوں اور کتوں کا گوشت کھلا رہے ہیں اور وہ کہ جو رسولؐ اللہ کی سنت میں منبر ومحراب پر جمے بیٹھے ہیں، اللہ کے نبیؐ کا راستہ چھوڑ کر تفرقات کا میٹھا زہر بانٹ رہے ہیں۔ اللہ کا حکم یہ کہ اس کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور علمائے سو کی منشا یہ کہ منتشر رہو۔ کوئی نہیں جو نبیﷺ کے امتیوں کوایک اللہ، ایک رسولؐ اور ایک قرآن پر اکھٹاکرنے کا بیڑہ اٹھائے اور امت کی گردنوں سے فرقوں کا طوق اتار کر دور پھینک دے۔ لیڈر نہیں مسیحا چاہئے جو اس تباہ حال قوم کی نبض پر ہاتھ رکھے تو اس کا ہاتھ قوم کے لئے دست شفا بن جائے، راہزن نہیں راہنما چاہئے جو اکیس کروڑ کے اس ہجوم کو قوم بنا دے۔ کوئی ہے جو یہ بیڑہ اٹھا سکے؟۔

متعلقہ خبریں