Daily Mashriq

پاک امریکہ تعلقات کا مستقبل

پاک امریکہ تعلقات کا مستقبل

پچھلے دو ہفتوں میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان بہت زیادہ سفارتی سرگرمی دیکھنے میں آئی ہے جس سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری کی اُمید کی جارہی ہے۔ اگر پاکستانی میڈیا کو دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پاکستان نے کوئی بہت بڑی سفارتی جیت حاصل کرلی ہو لیکن اس ساری صورتحال کو غیر جانبدار طریقے سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس سفارتی سرگرمی سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے خاتمے کے خطرے کو ہی ٹالاجا سکا ہے جوکہ ٹرمپ انتظامیہ کی نئی افغان پالیسی کے بعد پاکستان کے سر پر منڈلا رہا تھا۔ حالیہ سفارتی گرم جوشی سے ہمیں زیادہ اُمیدیں نہیں لگانی چاہئیں کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات کو آج بھی کوئی مثالی تعلقات نہیں کہا جاسکتا۔ دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر مشترکہ مسائل کا ایسا حل تلاش کرنا ہوگا جوکہ دونوں کیلئے قابلِ قبول ہونے کیساتھ ساتھ قابل عمل بھی ہو، اس حوالے سے سب سے اہم مسئلہ افغانستان میں بھارت کا بڑھتا ہوا کردار ہے جوکہ پاکستان کے لئے ناقابل قبول ہے اور امریکہ بھارت کے کردار میں مزید اضافے پر مُصر دکھائی دیتا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں سے پاک، امریکہ تعلقات دونوں ممالک کی جانب سے ’’ڈو مور‘‘ کے مطالبے کے گرد ہی گھو م رہے ہیں لیکن ان تمام سالوں میں دونوں ممالک پر یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے مطالبات کے مطابق کچھ حاصل نہیں کر سکتے اور دونوں کو اپنے اپنے موقف میں لچک دکھانے کے ساتھ ساتھ تھوڑا سا پیچھے بھی ہٹنا ہوگا۔ دونوں ممالک یہ بھی جان چکے ہیں کہ جارحانہ پالیسی اپنانے سے مسائل کا حل نہیں نکالا جاسکتا اور نہ ہی جارحانہ پالیسی کے ذریعے دوسرے کو اپنی بات ماننے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ امریکہ ہمیشہ سے پاکستان میں حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے لیکن گزشتہ انتظامیہ میں ان مطالبات پر عمل درآمد نہ کرنے پر پاکستان کے خلاف کوئی جارحانہ اقدامات کرنے سے گریز کیا گیا تھا کیونکہ گزشتہ انتظامیہ جارحانہ پالیسی کو تعلقات کی خرابی کا باعث سمجھتی تھی۔ دوسری جانب پاکستان کو امریکہ کی اس خطے میں بدلتی ہوئی پالیسی اور بھارت کی جانب جھکاؤ سے تحفظات رہے ہیں لیکن پھر بھی پاکستان نے خطے میں ایسی کوئی پالیسی نہیں اپنائی جس میں امریکہ کے ساتھ پارٹنرشپ نہ کی گئی ہو۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کی خواہش دونوں ممالک میں موجود رہی ہے لیکن ان تمام سالوں میں پاکستان میں موجود افغان طالبان کی پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کا امریکی مطالبہ تبدیل نہیں ہوا۔ اس وقت امریکہ کی جانب سے پاکستان سے کئے جانے والے مطالبات کا ون پوائنٹ ایجنڈہ افغان طالبان کے خلاف کارروائی ہے جس پر عمل درآمد کروانے کے لئے امریکہ جارحانہ اقدامات کی دھمکی بھی دے رہا ہے۔ اگر امریکہ کی نئی افغان پالیسی کے حوالے سے پاکستانی سفارت کاروں کی رائے لی جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ پاکستان کے سفارت کار یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی افغانستان میں مذاکرات کی بجائے ہتھیار کی پالیسی سے خطے میں پاکستان کے مفادات کو نقصان اور بھارت کے مفادات کو فائدہ پہنچے گا۔ اسی طرح افغانستان کی نئی افغان پالیسی کی حمایت بھی پاکستان کے لئے سودمند نہیں ہے۔ جہاں امریکہ کی نئی پالیسی پاکستانی پالیسی سازوں کے لئے پریشانی کا باعث بن رہی ہے وہیں پر بہت سے سفارت کار یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو مستقبل میں اس خطے میں ’’مائنس امریکہ‘‘ صورتحال سے نمٹنے کے لئے پلاننگ کرنی کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کا امریکہ کے ساتھ موجودہ تعلقات کو وقت گزارنے کی حکمت عملی کہا جاسکتا ہے لیکن دوسری جانب ایک رائے یہ بھی ہے کہ پاکستان امریکہ کو ہتھیاروں کی بجائے مذاکرات کے ذریعے طالبان کو افغان سیاست کے مرکزی دھارے میں لانے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ امریکہ اس وقت افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے ایجنڈے پر اپنی پوری توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اور پاکستان کی جانب سے ایسی ہر اس تجویز کو رد کر دیا جائے گا جس سے اس نکتے سے امریکہ کی توجہ ہٹ جائے۔ پاکستان اپنی سفارت کاری میں لچک کا مظاہرہ کرکے امریکہ کی توجہ اس مطالبے سے ہٹانے کی کوشش کرے گا لیکن امریکہ میں بیٹھے ہوئے پالیسی ساز اس لچک کو امریکہ کی جانب سے سخت رویہ اپنانے کا نتیجہ بھی سمجھ سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کا موقف سمجھتے ہوئے اس بات پر بھی اتفاق کرنا ہوگا کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد کی صورتحال ایسی ہو جوکہ دونوں ممالک کے ساتھ ساتھ خطے کے بڑے کھلاڑیوں کے لئے بھی قابل قبول ہو تاکہ افغانستان میں قیام امن کے دورانئے کو طول دیا جاسکے۔ امریکہ کی نئی افغان پالیسی کے بعد پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنا ایک مستقل اڈہ رکھنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے خطے کے استحکام کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ دوسری جانب امریکہ کو یقین ہے کہ پاکستان افغان طالبان کی حمایت اسی طرح جاری رکھے گا جس کی وجہ سے بھارت کی افغانستان میںموجودگی ضروری ہے۔ اگر دونوں جانب پائے جانے والے ان تحفظات کو دور نہ کیا گیا تو پاک،ا مریکہ تعلقات مستقبل میں بھی اسی طرح غیر مستحکم رہیں گے جیسا کہ آج ہیں۔

(بشکریہ:ڈان، ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں