Daily Mashriq


پی ڈی اے کو ایک خاتون خانہ کی تجویز

پی ڈی اے کو ایک خاتون خانہ کی تجویز

میرا خیال تھا کہ کالم چھپتے ہی خطوط اور ای میلز کی بھرمار ہو جائے گی مگر میرا خیال درست ثابت نہ ہوا لیکن بہرحال ضروری نہیں کہ اپنے قارئین کے بارے میں میرا ہر اندازہ درست ثابت ہو یا پھر لوگوں کا اب میڈیا پر سے اعتماد اٹھ چکا۔ گزرے چند سالوں سے ٹیلی ویژن پر اینکرز جو اوٹ پٹانگ اور جانبدارانہ پروگرامز کر رہے ہیں یہ صورتحال جاری رہی تو لوگ ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیں گے۔ معروضیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ لوگ اپنے جذبات اپنی وابستگیوں بلکہ اپنے مفادات کو صحافت کا نام دینے لگے ہیں حالانکہ صحافت خود کو خود سے جدا کرکے حقائق کو پرکھنے اور نتیجہ اخذ کرنے کا نام ہے۔ ویسے بھی اب لوگ پڑھنا نہیں چاہتے۔ اب دیکھنا بھی کم ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا سے وہ ضرورت شاید لمحہ بھر میں پوری ہو جاتی ہے جس کے لئے پہلے لوگ گھنٹہ بھر بیٹھا کرتے تھے مگر حرف مطبوعہ کی اہمیت کو سمجھنے والے لوگ بہرحال اس سے جڑے رہیں گے۔ میڈیا کی اہمیت میں کمی اس لئے بھی فطری امر ہے کہ اب یہاں گلا پھاڑ کے اور نوک قلم سے پہاڑ بھی گراؤ تو کم ہی اس کا نوٹس لیا جاتا ہے۔ بہرحال یہ باتیں تو چلتی رہیں گی حیات آباد فیز6 سے ایک خاتون جس نے گھریلو خاتون کے طور پر اپنا تعارف کراتے ہوئے کچھ ایسی باتیں لکھی ہیں اور تجاویز دی ہیں کہ اگر اس طرح کے لوگ گھروں میں بیٹھنے کی بجائے باہر آکر کام کریں تو معاشرہ سدھر جائے، لوگوں کے مسائل میں بھی کمی آئے اور سرکاری وسائل کا درست استعمال بھی ممکن ہو۔ ان کا مشاہدہ ہے کہ حیات آباد فیز6 این9 میں ان کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر ایک میدان ہے جہاں رات کو کوئی دوسو گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں۔ تھوڑے سے اور فاصلے پر نواب مارکیٹ کے ساتھ مسجد کی پشت پر ایک اور میدان موجود ہے جہاں پھیری والوں کو اشیاء بیچنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ایف8 میں بھی اس طرح کی جگہ موجود ہے جہاں دن میں ٹھیلے لگائے جاتے ہیں اور رات کو پارکنگ ہوتی ہے۔ اسی طرح ایف6 میں بھی جگہ موجود ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اور جگہیں بھی جگہ جگہ موجود ہوں گی جن کا مثبت استعمال کوئی مشکل نہیں مگر ایسا ہو نہیں رہا ہے۔ خاتون کاخیال ہے کہ اگر ان جگہوں کو باقاعدہ اور سرکاری طور پر ادارتی اجازت نامے کے ساتھ استعمال میں لایا جائے تو اس سے اگر پی ڈی اے کو فائدہ نہ بھی پہنچے تو عوام اور روزگار کرنے والوں کو فائدہ ہوگا۔

ان کھلی جگہوں کا جو استعمال اس وقت ہو رہا ہے وہ کچھ یوں ہے کہ ریڑھی والوں کو میدان میں اشیاء فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے مگر چونکہ یہ باقاعدہ اجازت نامے کے تحت نہیں اس لئے پی ڈی اے اور پولیس والے ان سے اپنا اپنا حصہ باقاعدگی سے وصول کرکے چلتے بنتے ہیں۔ اگر ان کو باقاعدہ اجازت دی جائے اور ان سے رشوت کی وصولی کی بجائے ان کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ سرکاری ریٹ پر صارفین کو اشیاء کی فروخت کریں گے تو مکینوں کا بھلا ہوسکتا ہے مگر اس میں پی ڈی اے اور پولیس والوں کا کیا فائدہ، سو سرکاری ملازمین سے لوگوں کو اجتماعی طور پر کوئی فائدہ نہیں ادارے کے فنڈ میں بھی ایک روپیہ نہیں جاتا پی ڈی اے اور پولیس کو آمدنی ہوجاتی ہے۔

ان پارکنگ کے پس پردہ مالکان پی ڈی اے کے افسران بتائے جاتے ہیں۔ رات کو چوکیدار گاڑیاں کھڑی کرنے کی نگرانی کرتا ہے فی گاڑی پچاس روپے وصول ہوتی ہے۔ رات کو پولیس اہلکار آکر گاڑیاں گنتے ہیں اور فی گاڑی دس روپے کا اپنا حصہ اینٹھتے ہیں۔ دس روپے پی ڈی اے کو جاتا ہے اور تیس روپے چوکیدار کو بچتے ہیں۔ اگر پی ڈی اے اور پولیس کا بھتہ نہ ہو اور باقاعدہ اجازت نامے کے ذریعے یہ بیس روپے پی ڈی اے کو جائیں تو یہ ایک معقول آمدنی کا ذریعہ ہوسکتا ہے۔

خاتون نے اپنے مشاہدے اور سوچ کے مطابق نہایت احسن تجویز پیش کی ہے مگر جس ملک میں لوگ کروڑوں اور اربوں روپے ہڑپ کرنے کی ’’بڑی سوچ‘‘ رکھتے ہوں وہاں اس طرح کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر غور کون کرے اور اس پر عمل درآمد کیوں کرے۔ سرکاری وسائل عوام اور حکومت کی ملکیت ہوتے ہیں۔ اس سے استفادہ یا تو افادہ عوام کے لئے ہونا چاہئے یا پھر سرکاری خزانے میں اس کی آمدنی جمع ہو۔ اگر ہم نے اس ملک کو بنانا اور سنوارنا ہے تو اس خاتون خانہ کی سوچ اپنانی ہوگی جو اپنے کچن کے خرچے سے بھی دو چار روپیہ بچا کر رکھتی ہے اور سینت سینت کر رقم خرچ کرتی ہے کہ میاں پر خدانخواستہ قرضوں کا بوجھ نہ آئے اور وہ مسلسل دبائو کاشکار نہ رہے۔ ہمارے ملک میں تو ایک خاتون خانہ جیسی سوچ کے وزیر خزانہ بھی نہیں آتے جو آئی ایم ایف سے بھاری شرائط پر قرضے لے کر لوگوں کو معاشی ترقی اور نمو کا سبز باغ دکھاتے ہیں مگر ملکی معیشت کی حالت روز بروز کھوکھلی ہوتی جارہی ہے۔ کاش کوئی سمجھے اے کاش ایں بسا آرزو کہ خاک شد۔

نوٹ: قارئین اس ہفتہ وار کالم میں اپنی آرائ‘ تجاویز اور شکایات اس ای میل مسیج واٹس ایپ 03379750639 پر بھیج سکتے ہیں اس کے علاوہ روزنامہ مشرق بلال ٹائون جی ٹی روڈ کے پتے پر بھجوا سکتے ہیں۔ کوئی ادارہ کالم میں شامل کسی معاملے پر موقف دینا چاہے تو اس کا بھی خیر مقدم کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں