Daily Mashriq


مسلم لیگ ن کے وجود پر لدا ہوا بوجھ

مسلم لیگ ن کے وجود پر لدا ہوا بوجھ

مکمل باطل اجتماعی شعور پر زیادہ عرصہ بوجھ نہیں بن سکتا، یہ انسانی فطرت ہے۔ اگر فطرت کے برخلاف یہ کام ہونا شروع ہو جائے تو قومیں مٹ جاتی ہیں‘ بستیوں پر عذاب آتے ہیں اور وہ فنا ہو جاتی ہیں۔ 

ہمارے پیارے نبیؐ کا ارشاد ہے گرامی ہے کہ میری اُمت کا باطل پر اجماع نہیں ہو سکتا۔ اس قول مبارک نے اجتماعی اجتہاد کا دروازہ کھولا اور اجماع امت کی پیروی کی جانے لگی۔ پاکستان مصطفوی نظام پر قائم ہونے کے لیے بنا تھا چنانچہ ڈھیر ساری خامیوں اور خرابیوں کے باوجود آج تھیوری کے اعتبار سے ہی سہی لیکن مسلمانان پاکستان کی ترجیح اسلامی تعلیمات کے مطابق نظام حکومت کو ڈھالنا ہے۔ اخلاقیات کا پست ترین معیار کبھی ہمیں اپنے حکمرانوں کے طرز حکمرانی یا سیاست میں دکھائی دیتا ہے لیکن اجتماعی شعور جلد ہی اس کو رد کر دیتا ہے۔ دور نہ جائیں ماضی قریب کی ایک مثال سامنے رکھ لیں۔ جنرل مشرف اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان این آر او ہوا لیکن یہ این آر او اجتماعی شعور پر بوجھ بن گیا۔ پیپلز پارٹی اکثریت رکھنے کے باوجود این آر او کو پارلیمنٹ سے منظور نہ کروا سکی۔ اُسے یہ حوصلہ ہی نہ ہوا کہ وہ این آر او کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کرتی۔ یوں ایک بدنام زمانہ قانون اپنی موت آپ مر گیا۔ ماضی کو چھوڑ کر حال میں آجائیں۔ نواز شریف نے نااہل ہونے کے بعد پارلیمنٹ سے ایک ایسا قانون منظور کرا لیا ہے جس کی رُو سے وہ اپنی جماعت کے صدر بن سکتے ہیں مگر ہر گزرتے دن ان کے جماعت کے اراکین میں یہ احساس گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ یہ کوئی اچھا کام نہیں ہوا۔ ایک ایسا شخص جو خود پارلیمنٹ کا ممبر بننے کا اہل نہ ہو اس کے ہاتھ میں پارلیمنٹ کی لگام کیسے دی جا سکتی ہے؟ مسلم لیگ ن کے کئی اراکین کی رائے کو پہلی مرتبہ زبان وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ کی پریس کانفرنس نے دی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے34 اراکین ایسے ہیں جو قیادت کی تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں‘ مرکز میں بھی اس رائے کے حق میں صورتحال تیزی سے مرتب ہو رہی ہے کہ نواز شریف کی جگہ میاں شہباز شریف پارٹی قیادت سنبھال لیں۔ اصولی اور اخلاقی طور پر ایسا ہی ہونا چاہئے کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد کوئی اور پارٹی رہنما قیادت سنبھال لیتا لیکن عدلیہ سے محاذ آرائی کا راستہ چنا گیا اور ایک غلط اقدام کے ذریعے پارٹی رہنماؤں کی بصیرت اور شعور کو امتحان میں ڈالا گیا۔ معاشرے اچھائی اور اعلیٰ اقدار کے دم پر زندہ اور قائم رہتے ہیں۔ نواز شریف کو نااہلی کے باوجود پارٹی صدر منتخب کر کے مسلم لیگ ن نے اخلاقیات اور اقدار کے منافی جو کام کیا ہے اس کی اصلاح کی ضرورت جماعت کے اندر اب محسوس کی جانے لگی ہے۔ جلد یا بدیر یہ کام ہو کر رہنا تھا‘ ریاض پیرزادہ اس کا کریڈٹ لے گئے ہیں۔ پیرزادہ صاحب کا کمال ہے کہ وہ پارٹی کے اندر رہتے ہوئے بھی بات کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ جن دنوں یہ مسلم لیگ ق میں ہوا کرتے تھے تو بڑے سخت انداز اور لب ولہجے سے اپنی صوبائی حکومت پر تنقید کیا کرتے تھے۔ میں اُن دنوں ایک مقامی روزنامہ کیلئے لکھتا تھا اور میں نے ایک کالم میں پیرزادہ صاحب کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی روداد لکھی تھی جو کانٹ چھانٹ کے باوجود بڑی سخت تھی۔

مسلم لیگ ن میں چوہدری نثار علی خان اپنی بے باکی کی وجہ سے بڑے مشہور تھے لیکن انہوں نے اپنی پھُس پھُسی کانفرنسوں کے بعد اپنی ساکھ کو کافی نقصان پہنچایا ہے یعنی جب وقت قیام آیا تو آپ سجدے میں گر گئے۔ اگر چوہدری نثار دلیری دکھاتے اور بھرپور سٹینڈ لیتے تو نواز شریف یوں دوبارہ پارٹی صدر منتخب نہ ہو سکتے تھے مگر انہوں نے اپنی قومی ذمہ داری ادا کرنے سے گریز کیا۔ آج وہ دوبارہ سرگرم دکھائی دیتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ میاں شہباز شریف کی طرف سے گرین سگنل ملنے کے بعد وہ قیادت کی تبدیلی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ میاں نواز شریف جس طرح مسلم لیگ ن کو قومی اداروں سے لڑانا چاہتے ہیں وہ چند اراکین کے علاوہ کسی کی خواہش نہیں ہے۔ سچ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن مزاحمت کی جماعت ہی نہیں ہے۔ جب کبھی مزاحمت کی صورت بنتی ہے تو اس جماعت کا اکثریتی گروپ مسلم لیگ ق بنا لیتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ ن کا چولی دامن کا ساتھ ہے چنانچہ یہ ممکن نہیں کہ مسلم لیگی اس ادارے کے مقابلے میں برسر پیکار ہو جائیں جس کے کیاریوں اور گملوں میں وہ پل بڑھ کر جوان ہوئے ہیں۔ نواز شریف قدرے منتقم مزاج ثابت ہو ئے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن کی اکثریت مصلحت کوش ہے۔ اس تضاد کو پیش نظر رکھ کر آپ باآسانی اپنی رائے قائم کر سکتے ہیں کہ نواز شریف کو دو کاموں میں سے ایک کام چھوڑنا پڑے گا یا وہ مسلم لیگ ن کی قیادت چھوڑیں گے اور یا پھر انہیں محاذ آرائی کا راستہ ترک کرکے آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر عافیت تلاش کرنا ہوگی۔

مسلم لیگ ن ایک بڑی قومی جماعت ہے۔ اس جماعت میں راجہ ظفر الحق جیسی قدآور اور نابغہ روزگار شخصیات شامل ہیں چنانچہ اس جماعت کو اپنے وجود پر سے نااہل صدر کا لدا ہوا بوجھ اُتارنا ہوگا ورنہ یہ بڑے پیمانے پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔ کسی معاشرہ کا اجتماعی شعور مکمل طور پر باطل بوجھ نہیں اُٹھا سکتا۔ نواز شریف کا انتخاب بحیثیت جماعت مسلم لیگ ن کا ایک غلط فیصلہ ہے جس کی اصلاح نہ کی گئی تو مسلم لیگ ن کو اس غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں