Daily Mashriq


ہتھیلی پر سرسوں جمانے سے گریز کی ضرورت

ہتھیلی پر سرسوں جمانے سے گریز کی ضرورت

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے آئندہ48گھنٹوں کے دوران نئے بلد یاتی نظام کو حتمی شکل دینے کی ہدایت ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے مترادف امر ہے۔ پنجاب کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وزرا کیلئے کوئی چھٹی نہیں ، وزرا ہفتے میں 7 روز کام کریں، منتخب نمائندوں کا بھی احتسا ب ہوگا، حقیقی تبدیلی تب آئے گی جب نچلی سطح پر اختیا را ت کو منتقل کرکے عوام کوبااختیار بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ آفس میں عوام کے لئے شکایتی سیل بنایا جائے اور مسائل کے حل کے لیے روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر ان کا حل تجویز کیا جائے۔ اس موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ اختیارات کونچلی سطح تک منتقل کرنا پی ٹی آئی حکومت کا سب سے اہم ایجنڈا ہے، عوام کو صحیح معنوں میں بااختیار بنانا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ یہ بات یقینی بنائی جائے گی کہ عوام اپنے منتخب نمائندوں کا موثر احتساب کریں اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور لوکل باڈیز نظام سے نئی لیڈرشپ کو اوپر آنے میں مدد ملے گی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پارلیمنٹرینز کی توجہ قانون سازی پر کم اور فنڈز کے حصول پر زیادہ رہی، نئے بلدیاتی نظام کا مقصد اسٹیٹس کو کو توڑنا ہے، ایسا بلدیاتی نظام لایا جائے گاجس میں عوامی نمائندوں کو بلیک میل نہ کیا جا سکے۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسانظام دیں گے کہ بلدیاتی نمائندے اپنی پوری توجہ عوام کی فلاح پر مرکوز کر سکیں۔ اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے میں قباحت نہیں احسن ہوگا بلدیاتی نظام میں مثبت تبدیلی بھی حکومت کا حق ہے لیکن وزیر اعظم اس ضمن میں جس عجلت میں ہیںوہ مناسب نہیں۔ اڑتالیس گھنٹوں میں تو ایک ڈرافٹ ہی بمشکل تیار ہوتا ہے کجا کہ ایک مروج نظام کی جگہ دوسرا نظام وضع کیا جائے۔ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام کی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے لیکن کیا یہاں کے عوام کے مسائل واقعی پست سطح پر حل ہورہے ہیں یا عوام اس سے مطمئن ہیں۔ عوام سے یہ سوال کیاجائے تو جواب نفی میں ہوگا بلکہ خود بلدیاتی نمائندے بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں نہ تو ان کو فنڈز ملے ہیں اور نہ ہی اختیارات اور نہ ہی کوئی سیاسی حکومت ان کو اختیارات دینے پر تیار ہوتی ہے اور جواختیارات ملے ہیں ان کو استعمال میں لانے میں مشکلات حائل ہیں۔ بیورو کریسی بھی کبھی بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت ہونا نہیں چاہے گی اس قسم کے حالات میں اڑتالیس گھنٹوں کے اندر نیا بلدیاتی نظام کاغذوں کی حد تک لایا بھی جائے تو اس نظام کو فعال کیسے بنایا جاسکے گا اور اس پر عملدرآمد کون کرے گا۔ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام اور پولیس کی اصلاح کے بلند و بانگ دعوے تو بہت ہوتے آئے ہیں لیکن حقیقی معنوں میں کیا کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں حکومت کو اولاً اس کا حقیقت پسندانہ انداز میں جائزہ لینے کے بعد ان اصلاحات کو دیگر صوبوں میں متعارف کرایا جائے۔ بلدیاتی نظام کی تبدیلی کو تبدیلی کی بنیاد بنانے کی بجائے اس نظام میں بتدریج اصلاحات لا کر اگر اس نظام کو موثر اور نا فع بنایا جائے اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر واقعی حل ہونے لگیں تو یہ تبدیلی اور کامیابی قرار پائے گی۔ وزیر اعظم بار بار اس حقیقی ضرورت کا اعادہ کرتے آئے ہیں کہ ترقیاتی فنڈز اراکین اسمبلی کی بجائے بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے خرچ کرائے جائیں گے اور ترقیاتی منصوبوں کو بلدیاتی نمائندوں کی وساطت سے تیار اورمکمل کیا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت بلدیاتی نظام کی تبدیلی کی بجائے اگر تبدیلی کی ابتداء بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز دینے سے کرے تو تبدیلی کی اچھی ابتداء ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بلدیاتی اداروں کو فعال اور موثر بنا کر ان سے عوام کی خدمت لینا احسن امر ہوگا لیکن اس کے لئے جلد بازی کی بجائے آہستگی اور یکے بعد دیگرے ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو موثر ثابت ہوسکیں۔ کسی نظام میں اصلاح بتدریج ہو تو سامنے آنے والے خامیوں پر ساتھ ساتھ قابو پایا جاسکتا ہے لیکن راتوں رات نظام تبدیل کرکے خامیوں سے پاک نظام کا حصول شاید ہی ممکن ہو۔ جہاں تک وزیر اعظم کی صوبائی حکومتوں اور بیورو کریسی سے کارکردگی کی توقعات کاسوال ہے ایسا ضرور ہونا چاہئے لیکن اگر وزیر اعظم وفاقی حکومت کی کارکردگی کو ان کے لئے اولاً مثال بنا سکیں تو یہ زیادہ مناسب ہوگا۔ تحریک انصاف نے پہلے سو دن کا جو پلا ن دیا تھا اس مدت کا تقریباً نصف گزرچکا ہے اور باقی دن بھی تیزی سے گزر رہے ہیں مگر بجائے اس کے کہ بہتری اور عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات سامنے آئیں، پٹرولیم‘ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ جیسے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جس سے مہنگائی میں اضافہ اور عوام کا مزید بوجھ تلے آنا فطری امر ہوگا۔ ملک کے معاشی مسائل سے انکار ممکن نہیں لیکن کم از کم ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہئے جس سے عوام پر مزید بوجھ پڑے۔ پنجاب میں اڑتالیس گھنٹوں میں کیا بلدیاتی نظام اور اصلاحات متعارف کرائے جاتے ہیں۔ یہ دلچسپی کا حامل امر ہوگا۔ دعا کی جانی چاہئے کہ موجودہ حکومت تبدیلی لانے اور عوام کو مشکلات سے نجات دلانے میں کامیاب ہو اور ملک مشکلات کے بھنور سے نکل آئے عوامی مسائل میں کمی آئے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

متعلقہ خبریں