Daily Mashriq


یہ تو کوئی حل نہیں

یہ تو کوئی حل نہیں

ہمارے رپورٹر کے مطابقخیبر پختونخوا میں سنٹرل اور ضلعی جیل خانوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے مزید قیدیوں کی گنجائش مشکل ہو گئی ہے جس کیلئے معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث قیدیوں کی پیرول اور پروبیشن بنیادوں پر رہائی دینے کی تجویز پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے سے معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ ساتھ قانونی چارہ جوئی کی استطاعت نہ رکھنے والے قیدیوں کو بھی عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کیلئے مفت سہولت حاصل ہو گی۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کو رکھنے کے حوالے سے شکایات سامنے آئی ہیں جس کیلئے متعدد مرتبہ اقدامات تجویز کئے گئے جس میں کئی اضلاع میں جیلوں میں توسیع بھی کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود مسئلہ پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے ۔بجائے اس کے کہ ہمارے بندی خانے اصلاح خانے ہوتے جہاں سے سزایافتہ شخص معاشرے کا کارآمد فرد بن کر باہر آئے معاشرے کیلئے ناسور بن کر باہر آتا ہے جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ حکام اور بااثرقیدی جو سلوک کرتے ہیں وہ اپنی جگہ ایک درد ناک کہانی ہے۔ اصولی طور پر معمولی نوعیت کے قیدیوں اور خطرناک مجرموں کیلئے الگ الگ جیل ہونے چاہئیں تاکہ معمولی جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو پیشہ ور مجرموں کی صبحت میسر نہ آئے اس وقت عملی طور پر جیلیں مجرموں کی نرسریاں اور تربیت گاہیں بن چکی ہیں اس قسم کے حالات اور معاملات پر توجہ دینے کی نوبت اسی وقت ہی آئے گی جب قیدیوں کی تعداد میں کمی آئے گی۔ بہر حال خیبرپختونخوا کی جیلوںمیں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں کی موجودگی سنگین مسئلہ اور سنگین مسائل کا باعث ہے جس کے حل کیلئے کمیٹیاں بھی بنتی ہیں اور جیل اصلاحات کی باز گشت صوبائی اسمبلی کے اجلاسوں میں بھی سنائی دیتی رہی ہے لیکن عملاً کچھ نہیں ہوا جس کے نتیجے میں قیدیوں کی مشکلات اور زبوں حالی ہیں آئے روز اضافہ ہورہا ہے۔ بجائے اس کے قیدیوں کے مسائل بارے سنجیدہ اقدامات پر توجہ دی جائے حکومت کی جانب سے معمولی نوعیت کے جرائم میں ملوث قیدیوں کی رہائی پر غور اپنی جگہ اچھی تجویز ضرورہے لیکن مسئلے کا حل نہیں جرم معمولی اورسنگین نہیں ہوتا جرم قانون کی نظر میں جرم ہوتا ہے جس کی سزا اس کی نوعیت کے مطابق قیدیوں کو بھگتنا ہوتا ہے لیکن صرف اس بناء پر کہ جیلوں میںمزید قیدیوں کی گنجائش نہیں مجرموں کی رہائی اس بناء پر زیادہ مناسب نہیں ہوگی کہ اس سے معاشرے کو مثبت پیغام نہیں ملے گا۔ ہمارے تئیں اگر اس کی بجائے اگر اس امر پر توجہ دی جائے کہ بہت سے قیدی جرمانوں کی عدم ادائیگی دستاویزات کے گم ہونے اور غفلت کی بناء پر عدالتوں میں پیش نہ کئے جانے کے باعث اپنے حصے سے زیادہ کی سزا ئیں بھگت چکے ہیں اس قسم کے قیدیوں کو ترجیحی طور پر رہا کیا جائے جبکہ دیگر قیدیوں کو جگہ نہ ہونے پر رہائی کی بجائے ان کی مدت قید کے حساب سے ان سے جرمانہ وصول کر کے چھوڑ ا جائے۔ اس مقصد کیلئے ایگزیکٹیو آرڈر یا جو بھی دیگر قانونی گنجائش ہو اس پر توجہ دی جائے۔ علاوہ ازیں جو قیدی دوران قید اچھے طرز عمل کا مظاہرہ کریں ان کو بھی سزاء میں خصوصی رعایت دی جائے اس طرح سے جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں کمی ممکن ہوگی اور بلاوجہ کسی قیدی کی رہائی عمل میں نہیں آئے گی ۔

تاریخی عمارتوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے

ڈھائی ہزار سال پرانے ایشیاء کے واحد زندہ شہر پشاور میں 1868تاریخی عمارتوں کی نشاندہی کے بعد ان سے عوام کی آگاہی اور تحفظ کے حوالے سے جلد سے جلد اقدامات کی ضرورت ہے ۔ محکمہ آثار قدیمہ خیبر پختونخوا کی جانب سے پشاور میں موجود تاریخی عمارتوںکو پہلی مرتبہ دستاویزی صورت میں محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس دستاویز کی تکمیل اچھی کاوش ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے دستاویز کی تیاری کے احسن اقدام کے بعد اب ان عمارتوں کو ان کی تاریخی اہمیت کے مطابق درجہ بندی اور تحفظ بارے اقدامات کی تاخیر کی اس لئے گنجائش نہیں کہ یہ وقت گزرنے کے ساتھ ان عمارتوں کی حفاظت اور بحالی کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے شہر کے مشہور و معروف قدیمی ورثوں کی حالت زار دیکھ کر اور بعض اہم ترین عمارتوں کے ارد گرد کے علاقوں کو تجاوزات اور تجارتی مقاصد کیلئے تیزی سے استعمال میں لانے کے باعث ان کو درپیش خطرات واضح ہیں جن کی روک تھام ہونی چاہیئے۔ قلعہ بالاحصار شہر کی نمایاں قدیم عمارتوں میں سے ایک ہے۔ اس عمارت کو محکمہ آثار قدیمہ کے حوالے کرنے کے اقدامات ہونے چاہئیں شہر کی تاریخی مساجد کی بحالی اور مرمت ہونی چاہیئے قدیم باغات کو ان کی اصل حالت میں بحالی اور مقابر کو تجاوزات مافیا سے چھڑا نے پر توجہ دی جانی چاہیئے۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ محکمہ آثار قدیمہ اہم تاریخی عمارتوں کی جامع فہرست مرتب کرنے کے بعد ان کی حفاظت کی ذمہ داری پر بھی توجہ دے گی جبکہ صوبائی حکومت محکمے کو وسائل اور افرادی قوت سمیت تمام ضروری سہولیات فراہم کرکے قومی ورثہ کے تحفظ کی ذمہ داری نبھائے گی ۔

متعلقہ خبریں