Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

بوعلی سینا ایک بزرگ کے پاس ملنے گئے اور اظہار علم کے لیے بڑی علمی تقریریں کیں ۔ وہ سمجھے کہ یہ بزرگ میرے بڑے معتقد ہوگئے ہوں، گے بعد میں لوگوں سے پوچھا کہ میرے بارے میں شیخ کیا کہتے ہیں ؟ لوگوںنے کہا یوں کہتے ہیں ’’بوعلی اخلاق ندارد‘‘ یعنی بوعلی سینا اخلاق نہیں رکھتا ، اس کے اخلاق اچھے نہیں ہیں۔بو علی سینا کو یہ سن کر بڑا غصہ آیا اور اخلاق کے بارے میں ایک ضخیم کتاب لکھ کر اس بزرگ کے پاس بھیجی، بزرگ نے کتاب دیکھ کر فرمایا’’من نہ گفتہ بودم کہ اخلاق نداند بلکہ گفتہ بودم اخلاق ندارد‘‘یعنی میں نے یہ کب کہا کہ اخلاق کے بارے میں معلومات نہیں رکھتا ، معلومات تو اس کی بہت ہے ، لیکن اس کے خود اخلاق اچھے نہیں ہیں ۔ (مخطوظات، ص، 238)

احمد نگر کے نظام شاہی خاندان کا حکمران احمد نظام شاہ المتوفی904ہجری میں بہت ہی پرہیز گار اور نیک خصلت گزراہے ، وہ جب بھی باہر نکلتا تو شہر کے راستے میں دائیں بائیں نہیں دیکھتا ، بلکہ اپنی نظریں نیچے کیئے رہتا، کسی نے ان سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے ؟تو فرمایا کہ شہر میں میری سواری کا تماشہ کرنے کے لیے ہر قسم کی عورتیں کھڑی ہو جاتی ہیں ، میںڈرتا ہوں کہ میری آنکھ کسی نامحرم عورت پر نہ پڑجائے اور اس کا وبال میرے اوپر نازل ہو۔

(تاریخ فرشتہ )

زیادبن حبان عرب کا مشہور بہادر آدمی تھا ، بنوامیہ کی سلطنت کے کئی معر کے اس نے جیتے تھے ، اس کی عمر کے آخری دن عراق میں گزرے تھے ، جہاں کا گورنر زیاد بن امیہ تھا ، ابن حبان کی بیوی مرچکی تھی ، صرف ایک لڑکا تھا جو ابھی کم عمر ہی تھا۔ ابن حبان اتفاق سے بیمار ہوا اور موت کی تمام علامتیں ظاہرہو چکیں ، بیٹے کو بلایا، کہا جان پدر ابھی تم بالکل ہی کم سن ہو ، میں تو مر رہا ہوں ، تمہاری خبر گیری کون کرے گا؟ کہو تو گورنر کو تمہاری سفارش کا رقعہ لکھ دوں کہ وہ تمہاری مدد کرے ؟

بیٹے نے جواب دیا ابا ! جینے والے کا اگر مرنے والے ہی کی سفارش سے کام نکل سکتا ہو تو وہ زندہ نہیں ، بلکہ مردہ ہے ، آپ میری سفارش نہ کریں ، میری محنت اور ہمت میری سفارش کرے گی ۔ باپ کے مرنے کے بعد لڑکے نے ہمت نہیں ہاری ، بلکہ جس کام میں ہاتھ ڈالا ، اسے پورا کر کے چھوڑا ، پھر وہ اسلامی فوج میں شامل ہوگیا اور اپنی بہادری سے اتنا نام پایا کہ بہت بڑے عہدے پر پہنچ گیا ۔ یہی اہمیت اور حوصلہ تھا جس کی وجہ سے کم عمر مسلمان لڑکے قسطنطنیہ فتح کرلیا کرتے تھے ۔ (سچی اسلامی کہانیاں،ص38)

ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطابؓنے ایک شخص کوبائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھا تو اس سے کہادائیں ہاتھ سے کھائو، وہ کہنے لگا کہ میرا دایاں ہاتھ جنگ موتہ میں شہید ہو چکا ہے ، حضرت عمرؓ یہ سن کر غمزدہ ہوگئے اور کہنے لگے : تمہیں وضو کون کراتا ہوگا ؟ تمہارا سرکون دھوتا ہوگا؟ تمہیں کپڑے کون پہنا تا ہوگا ، چنانچہ آپؓ نے اس کیلئے ایک خادم مقرر کردیا اور دیگر ضروریات مہیا کردیں۔

(بوستان اولیاءؒ)

متعلقہ خبریں