Daily Mashriq


چند گزارشات

چند گزارشات

حکومت ہو کہ اپوزیشن دونوں ابھی تک انتخابی فضا میں جی رہے ہیں۔ ادھر کچھ لوگ ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ ملک اپنے تاریخ کے نازک ترین دور سے گزررہاہے۔ ساڑھے چار دہائیوں سے صحافت کے کوچے میں طالب علم کی حیثیت سے ہم یہی سنتے آرہے ہیں ’’ ملک اپنی تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے‘‘۔ اکہتر برسوں میں یہاں ملک‘ اسلام‘ نظریاتی سرحدیں خطرے میں ہی رہیں۔ کوئی جائے اور جا کر ہمہ قسم کے لیڈروں کو سمجھائے بندہ پرور ریاستیں‘ جغرافیہ اور عوام سے بنتی ہیں‘ دونوں لازم ہیں اور ان سے لازم انصاف‘ مساوات‘ اعتدال اور نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی ہے۔ آگے بڑھنے سے قبل ایک معاملہ پر چند سطور مکرر رقم کئے دیتا ہوں۔ رواں مہینے کے دوران جناب زرداری کے حوالے سے لکھے گئے کالم میں عرض کیا‘ زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات پر تحقیقات کا ڈول نواز شریف کے دور اقتدار میں ڈالا گیا تھا۔ چودھری نثار علی خان نے نواز شریف کی مرضی سے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا جس کے بعد کارروائی شروع ہوئی۔ اس کالم کی اشاعت کے بعد نون لیگ کے میڈیا سیل کے متعلقین اور دو ذمہ دار اشخاص نے رابطہ کیا اور کہا تحریر نویس کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ ان کی خدمت میں تفصیل عرض کی تو جواب ملا چونکہ آپ نون لیگ سے ذاتی نفرت اور پیپلز پارٹی سے محبت کے اسیر ہیں اس لئے خاص ڈھب سے کہتے لکھتے ہیں۔ عرض کیا شواہد سے تردید کیجئے۔ وعدہ انہوں نے کیا تو پورا نہ کر سکے۔ اب آج ایک معاصر اخبار میں اس موضوع پر ایک دوست کا تفصیلی کالم شائع ہوا۔ نون لیگ والے محترم دوست کو ٹیلی فون کیا اور عرض کیا۔ ہم تو محبت اور نفرت کے اسیر ہیں اس لئے خاص ڈھب سے سوچتے اور لکھتے ہیں لیکن یہ یک از محبان جاتی امراء پنجاب کو کیا ہوا انہوں نے بھی زرداری والے معاملے میں نون لیگ کی حکومت کے کردار کی تاریخ رقم کردی ہے؟ ان کا جواب تھا ’’ وہ نئی حکومت سے تعلقات استوار کرنے کے خواہش مند ہیں‘‘۔ ہم اصل موضوع کی طرف پلٹتے ہیں۔ انتخابی فضا سے باہر نکلے بغیر زمینی صورتحال اور گمبھیر ہوتے مسائل دونوں کو سمجھنا اور پھر ان کا حل تلاش کرنا بہت مشکل ہوگا۔ دوسری بات یہ بھی عرض کئے دیتا ہوں کہ 18 ویں ترمیم میں ترمیم لانے کے لئے ہوتے صلاح مشورے درست نہیں۔ ان مشوروں کو ملک نازک ترین صورتحال سے گزر رہا ہے‘ سے ملا کر دیکھئے تو جواب یہی ہوگا کہ اٹھارہویں ترمیم کو نہ چھیڑا جائے۔ پیپلز پارٹی جو اس ترمیم کی خالق ہے کسی قیمت پر نہیں چاہے گی کہ پارلیمان کے اختیارات کم ہوں اور وزیر اعظم کی جگہ اختیارات کا مرکز صدر بنے۔ وہ لوگ جو صدارتی طرز حکومت کو پاکستانیوں کے مزاج اور ضرورتوں کے مطابق قرار دیتے ہوئے اٹھتے بیٹھتے اپنا اپنا سودا فروخت کرنے میں مصروف ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ تجربے کا وقت نہیں اصل کرنے کا کام یہ ہے کہ عوام کو شریک اقتدار کیا جائے۔ یہ کہنا کہ پارلیمانی ترتیب اس طرح ہوگی یعنی مرکز میں ایوان دو ہی رہیں گے بس صدر مملکت وفاقی اور گورنر صوبائی کابینائیں تشکیل دیں گے اور کابینائوں میں پارلیمان سے باہر کے ماہرین کو شامل کرنے کا ان کے پاس اختیار بھی ہوگا وہ غلطی پر ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ صدارتی طرز حکمرانی کے لئے آئینی ترمیم کے لئے جس عددی اکثریت کی ضرورت ہے وہ تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے پاس نہیں ہے۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کسی بھی طور اس کی حمایت نہیں کریں گی۔ پھر چھوٹے صوبوں میں ایک سخت گیر وفاق کا جو تصور ابھرے گا اس سے اختلافات پیدا ہوں گے۔ تیسری بات یہ کہ اگر ایسا کرنا مقصود ہے تو پھر صدر اور گورنرز کے لئے الیکٹورل کالج کیا ہوگا۔ کیا ان عہدوں کے لئے براہ راست انتخابات کے ذریعے چنائو ہوگا یا اسمبلیاں منتخب کریں گی؟ مکرر عرض کئے دیتا ہوں کہ پارلیمانی طرز حکومت کی جگہ صدارتی نظام کو ’’ نواب ٹیوب ویل‘‘ بنا کر پیش کرنے والے آگ سے کھیلنے جا رہے ہیں۔ مناسب یہ ہے کہ ان نابغوں کے مشوروں اور مسودوں پر غور کرنے کی بجائے موجودہ نظام کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے اور عوام کو شریک اقتدار کرنے پر توجہ دی جائے۔ ایسی تجاویز جن سے عوام کی مشکلات دور ہوں ملک میں انصاف‘ مساوات اور دیگر امور میں بہتری آئے اپوزیشن بھی تعاون پر آمادہ ہو جائے گی۔ بالفرض اگر عوامی بھلائی اور اجتماعی مفاد کے معاملے میں حزب اختلاف کی جماعتیں تعاون نہیں کرتیں تو تحریک انصاف اور اس کے اتحادی عوام کے پاس جانے کا حق رکھتے ہیں۔ ان معروضات کا مقصد یہی ہے کہ 18 ویں ترمیم یا پارلیمانی نظام کی روح کو نہ چھیڑا جائے۔ ضمنی بات یہ ہے کہ اکہتر برس ہو لئے تجربوں پر تجربے کرتے اب آگے کی طرف بڑھنے اور حقیقی مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہاں ایک بات کی طرف توجہ دلانا بھی لازم ہے وہ یہ کہ جب حکمران قیادت یہ کہتی ہے کہ فلاں اور فلاں کو اس کی کرپشن کی وجہ سے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا تو لمحہ بھر کے لئے اپنی صفوں پر بھی نگاہ دوڑائی جانی چاہئے کہ کتنے لوگ اپنے معاملات کی پردہ پوشی کے لئے سیاسی ہجرت کرکے آئے تھے۔ مناسب ہوتا کہ جن لوگوں پر مالیاتی یا دوسرے معاملات کے حوالے سے الزامات ہیں وہ جب تک ان الزامات سے خود کو بری نہ کروا لیتے حکومت میں شریک نہ کیا جاتا۔ حرف آخر یہ ہے کہ تحریک انصاف اپنے وعدے کے مطابق فوری اور بلا امتیاز احتساب کے لئے قانون سازی کرے تاکہ احتساب کے دائرے میں وہ نابغے بھی آئیں جو اکثر شاموں کو ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر امانت‘ دیانت‘ شرافت‘ صداقت کے لمبے لمبے بھاشن دیتے ہوئے یہ تاثر دیتے ہیں کہ سیاستدان اس کرہ ارض کی سب سے بری مخلوق ہیں۔ امید پر دنیا قائم ہے اور سو ہم بھی امید ہی کر سکتے ہیں کہ بلا امتیاز احتساب کا عمل جلد ہی شروع ہوگا۔

متعلقہ خبریں