Daily Mashriq


موت کے سوداگر

موت کے سوداگر

سانپ پولیس کے کانسٹیبل کو ڈس کر بھاگ گیا اور پولیس والے اس کی لکیر کو پیٹتے رہ گئے۔ اور دوسرے دن اخبار کے صفحہ اول پر صوبائی دارالخلافہ پشاور میں رونما ہونے والے اس چونکا دینے والے سانحہ کی سہ کالمی خبر لگی کہ گرفتار آئس ڈیلر نے اسلحہ چھین کر کانسٹیبل کو قتل کردیا۔ لمبی فہرست ہے قانون کے ان محافظوں کی جو لاء اینڈ آرڈر کی پاسداری قائم کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے۔ پولیس کے ان سجیلے اور پھرتیلے شہیدوں کی تصویریں پشاور کے مختلف چوراہوں پر آویزاں گزرنے والوں سے اپنی بے بہا قربانیوں کے صلے میں خراج تحسین کا تقاضا کرتی نظر آتی ہیں۔ لیکن اس بھاگتی دوڑتی دنیا کے ہجوم میں کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ ان کی کارکردگی کو سیلوٹ کرسکے۔ یا ان کی خدمت میں دیکھتی آنکھوں کے دو آنسوئوں کا نذرانہ پیش کر سکے

شہید کی جو موت ہے

وہ قوم کی حیات ہے

یہ سب کہنے اور سننے کی باتیں ہیں۔ جگرا تو ان ماؤں کا کٹ گیا جن کی گود میں کھیل کر ان گبرو جوانوں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا۔ انہوں نے پولیس کی وردی پہنی اور خطروں کے کھلاڑی بن کر وطن کے کونے کونے میں پھیلے جرائم پیشہ قانون شکن اور ملک دشمن ناسوروں کی بیخ کنی کرنے لگے۔ ان میں سے بہت سے اپنی سہاگنوں کے سہاگ تھے۔ اپنے یتیم ہوجانے والی بچیوں اور بچوں کے سروں کے سائبان تھے۔ تم شہیدوں کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں لیکن تم اس کا شعور نہیں رکھتے۔ یہ ہمارا ایمان ہے اور ہم یہ آیت مبارکہ سن یا پڑھ کر لاریب فیہ کہنا اپنے ایمان کی پختگی کا جزو لاینفک سمجھتے ہیں۔ مگر اس کا کیا کیا جائے جو ہم اپنے فراٹے بھرتے رہواروں پر گزرتے وقت پولیس کے ان جواں سال و جواں مرد شہیدوں کی تصویریں لگے بینروں پر پر اچٹتی سی نظر ڈالنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ بس گزرجاتے ہیں اپنے دھندوں کو انجام تک پہنچانے کی غرض سے چہ جائیکہ ہم قوم کی حفاظت کی قسم کو وفا کرنے والے ان جری جوانوں کو اپنی جھپکتی پلکوں کا سلام پیش کر تے۔ عارف اللہ اور اس کا ساتھی آئس نامی موت کے سوداگر کو گرفتار کرکے گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر تھانہ منتقل کر رہے تھے کہ ایسے میں اس نے گلے میں تکلیف کا ڈرامہ رچایا۔ اس کی اس حالت کے پیش نظر ایک سپاہی پانی لینے اترا اور پھر موقع پاتے ہی آئس کے ڈیلر نے پولیس والوں کی کلاشن کوف اٹھائی اور عارف اللہ کو شہید کرکے خیبر ایجنسی کو بھاگ گیا۔ عین ممکن ہے کہ وہ کلاشن کوف کے علاوہ پولیس کی گاڑی بھی لیکر بھاگا ہو۔ عام ذہن و شعور کا بندہ ایسی خوفناک مجرمانہ حرکت صرف اس وقت کرتا ہے جب اس نے آئس نامی قہر آلود بلا چڑھا رکھی ہو۔ کہتے ہیں آئس کا نشہ کرنے والا عارضی طور پر جناتی طاقتوں کا حامل خوفناک دیو بن جاتا ہے۔ اس کے ذہن میں قتل مقاتلے جیسا مجرمانہ فعل ایک عام سا کھیل بن جاتا ہے۔ ہر ان ہونی کو ہونی میں تبدیل کر بھاگتا ہے وہ اور لکیر کو پیٹتے رہ جاتے ہیں ہمارے قانون دان اور قانون کے محافظ۔ ہمارے تعلیمی اداروں کے بچے اور بچیاں آئس کے نشہ میں اس وجہ سے مبتلا ہورہے ہیں کہ شروع شروع میں وہ نیند کو شکست دینے اور اپنی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کی غرض سے آئس نامی بلا کو گلے لگانے لگے تھے۔ ہائے مارے جانے لگے بچے اور قوم کی جواں نسل کے لوگ اس بلا کے ہاتھوں جو کمبل بن کر جواں نسل کے نمائندوں کو اپنی جبڑوں میں جکڑ چکی ہے۔ وہ آئس کے دھویں کے ایک کش کے لئے کچھ بھی کر گزر سکتے ہیں۔ اذیت بن جاتی ہے ان کی زندگی نہ صرف ان کے لئے بلکہ ان کے ماں باپ اور سجن پیاروں کے لئے بھی۔ راقم السطور بذات خود گرفتار بلا ہے۔ اس کا جواں سال لاڈوں پالا آئس پھونکنے کا عادی ہوکر اپنے بیوی بچوں، گھر بار موروثی جائیدادتک سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے پھر بھی آئس نہ ملے تو اس کے وجود میںخوفناک بلائیں در آتی ہیں۔ بھلا ہو پبی تھانہ کے ایس اییچ او کا جنہوں نے میری فریاد پر اسے نوشہرہ جیل بھجوادیا لیکن انہوں نے اس کو والد کی رپورٹ پر جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کی بجائے دفعہ اک سو سات کے تحت بند کرکے ایک آدھ دن میں نکال باہر کرنے کا عندیہ دے دیا۔ جو راقم السطور کے لئے ہی نہیں ہماری پوری فیملی کے لئے کسی بہت بڑے خطرے سے کم نہیں۔ یہ فریاد لیکر راقم السطور ضلع کچہری نوشہرہ کے معزز جج صاحبان کی خدمت میں بھی حاضر ہوا اور پشاور کی عدالتوں کے در انصاف پر بھی دستک دیتا رہا۔ لیکن تادم تحریر اس کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس کالخت جگر جیل کی سلاخوں کے اس پار سے ٹیلی فون کرکے اپنے گھر والوں کو موت کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ اخبار میں ایک اور کمبخت بیٹے نے اپنے ماں باپ اور بھائی کو قتل کردیا کی سہ کالمی سرخی چھپے۔ میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی خدمت میں دست بستہ عرض گزار ہوں کہ وہ سن لیں فریاد منشیات زدہ لڑکوں اور لڑکیوں کے سسکتے بلکتے اور تڑپتے والدین کی۔ اگر سعودی عرب اور ملیشیاء جیسے ممالک میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کی سزا موت ہے تو ہمارے ملک میں ایسا کیوں نہیں شاید اس لئے کہ

ہر کہ در کان نمک رفت نمک شود

کے مصداق ہمارے قانون کے محافظ بھی شریک ہیں موت کی اس سوداگری میں۔

متعلقہ خبریں