Daily Mashriq


پہلے اپنے گھر کو سدھاریئے

پہلے اپنے گھر کو سدھاریئے

انگریزی میں کہی ہوئی بات کا اطلاق کیا یہاں نہیں ہوتا ، یعنی پہلے اپنے گھر کو درست کیجئے ! آجکل وہ جو ایک جملہ بیماری کی طرح معاشرے میں سرایت کر چکا ہے اور کہا جاتا ہے کہ فلاں فلاں ادارے ایک پیج پر ہیں حالانکہ اس صورتحال پر سیدھی سیدھی آسان زبان میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ باہم اتفاق رائے ہے ، یا ایک دوسرے سے متعلق ہیں وغیرہ وغیرہ مگر اس جدیدیت نے سادگی کو بالکل ہی کھا لیا ہے اور ہم من حیث القوم جب تک اردو محاوروں اور روزمرہ میں انگریزی کا تڑکا نہ لگالیں ہمیں کسی کل چین آتا ہی نہیں ، خیر ان جملہ ہائے معترضہ کو جانے دیں اور واپس انگریزی ہی کے محاورے پہلے اپنے گھر کو درست کیجئے کی جانب چلتے ہیں ، جس نے ہمیں ضیاء الحق دور کا ایک لطیفہ بھی یاد کروادیا ہے ، یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ہر دور میں کچھ نہ کچھ لطیفے مشہور ہو جاتے ہیں بلکہ مقبولیت کی سند اوڑھ لیتے ہیں ، جن کے پیچھے اس دور کے حکمرانوں کا مذاق اڑانا مقصود ہوتا ہے کیونکہ ویسے تو ان کے خلاف مخالفین کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے اور یوں اپنی بے بسی کا اظہار مخالفانہ قسم کے نعروں ، تبصروں یا پھر لطیفوں میں ڈھونڈتے رہتے ہیں ، تو ضیاء الحق کے دور میں بھی ایک لطیفہ لوگ مزے لے لیکر ایک دوسرے کو سنایا کرتے ، لطیفہ یوں تھا کہ اس دور کی بھارتی اداکارہ ہیما مالینی کا تذکرہ کرتے ہوئے ضیاء الحق نے اپنی کا بینہ کے چند وزیروں کی نجی محفل میں کہا ، دیکھومیری آنکھیں ہیما مالینی سے کتنی ملتی ہیں ، ظاہر ہے ایسے موقعوں پر خوشامدی اور موقع شناس ٹولے کا کام تعریفوں کے پل باندھنا ہی ہوتا ہے تو واہ واہ کے ڈونگرے اور آپ درست فرما رہے ہیں جیسے تبصرے کئے گئے ، مگر ایک وزیر نے دبی زبان سے دوسرے کے کان میں کہا ، وہ آپ میں نہیں ملتیں تو ہیما مالینی سے کیا ملیں گی۔ حالانکہ اس دور میں پوری قوم یہی سوچ رہی تھی کہ

تیری آنکھوں کا کیا بگاڑاتھا

چین دل کا چراگئیں آنکھیں

صورتحال اس وقت ضیاء الحق کی آنکھوں پر کئے جانے والے تبصرے جیسی بھی ہے اور پہلے اپنے گھر کو درست کرنے جیسے انگریزی مقولے کی بھی ۔ اور وہ یوں کہ گزشتہ روز لاہور میں پنجاب کا بینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اگرچہ وزیراعظم عمران خان نے بہت سی باتیں کی ہیں ، جن پر اگر صحیح معنوں میں عمل ہوجائے تو عوام کے بہت سے مسائل ختم ہوجائیں گے ، تاہم نیک نیتی سے ادا کئے گئے ایک جملے کو خود حکومت ہی کے ترجمان یعنی وفاقی وزیراطلاعات ونشریات فواد چودھری صرف ایک روزپہلے اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سوالیہ نشان بنا چکے ہیں ، یعنی وزیراعظم اور حکومتی ترجمان کے خیالات ہیمامالینی کی آنکھوں کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔ فواد چودھری نے کہا تھا کہ بیوروکریسی کو منتخب نمائندوں کے قانونی کام کرنے ہوں گے اور اسے سیاسی مداخلت قرار دینا غلط ہوگا ، جبکہ وزیراعظم نے گزشتہ روز لاہور میں بیورو کریسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ آزادانہ کام کرے ، دوبارہ ایسی حکومت نہیں ملے گی ، اب بیوروکریسی کس کی بات مانے اور کس کی رد کرے ، جہاں تک عوامی نمائندوں کے جائز کام کا تعلق ہے توپورا ملک جانتا ہے کہ ان کے جائز کام کونسے ہوتے ہیں ، یعنی (پنجاب میں بالخصوص) تھانیداروں اور پٹواریوں کے تبادلے اورانہیں ایم این ایز اور ایم پی ایز کی مرضی سے مطلوبہ علاقوں میں تعینات کرنا ، جس کا نظارہ حالیہ ہفتوں میں لوگوں نے بخوبی دیکھ لیا تھا جب کم از کم تین ڈپٹی کمشنروں نے ’’اوپر‘‘ شکایت کی کہ بعض منتخب عوامی نمائندے ان پر دبائو ڈال کر من مرضی کے تبادلے چاہتے ہیں یعنی کچھ پٹواریوں کو ان کی مرضی کے مطابق تبدیل کیا جائے۔ خبریں میڈیا پر سامنے آنے سے سیاسی حلقوں میں ارتعاش پیدا ہو ا تھا وہ سب کو معلوم ہے ایسی صورت میں بیورو کریسی کیسے آزاد کام کر سکتی ہے حالانکہ خود بانی پاکستان بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی بیوروکریسی کو ایسی ہی ہدایات دی تھیں اور جب ہم اسلامی تاریخ کے اوراق اُلٹتے ہیں توہمیں وہ عظیم شخصیت بھی نظر آجاتی ہیں جنہوں نے عوام کو مخاطب کرکے کہا تھا ، اے لوگو، تم مجھ پر کڑی نظر رکھو ، اگر میں تمہارے درمیان اسلامی اصولوں کے مطابق انصاف قائم رکھوں تو تم پر میری اطاعت کرنا فرض ہے اور اگر میں ایسا نہ کرسکوں تو بے شک تم میری بات ماننے سے بری الذمہ ہو ۔اب کیا اس بات پر غور کرنا بنتا نہیں ہے کہ حکومت پہلے اپنے گھر کا جائزہ لے اور وزیراعظم اپنے ہی وزیراطلاعات سے پوچھنے کی زحمت کریں کہ موصوف نے کس برتے پر بیوروکریسی کو منتخب عوامی نمائندوں کے کام (جنہیں وہ جائز بھی قرار دے رہے ہیں ) کرنا پڑیں گے ، حالانکہ خود وزیراعظم تو بیورو کریسی کو آزادانہ یعنی دوسرے لفظوں میں بلا کسی خوف اور دبائو کے ، اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی تلقین کررہے ہیں ، گویا بہ الفاظ دیگر یہی کہا جاسکتا ہے کہ پہلے اپنے گھر کے معاملات تو درست کر لیں اور اس کے بعد ایک پیج پر ہونے کا تاثر بھی دیں اور تب بیوروکریسی بھی ان کی باتوں کو سنجیدگی سے لے گی ۔

متعلقہ خبریں