Daily Mashriq


ترمیمی فنانس بل اور تحریک انصاف کے وعدے

ترمیمی فنانس بل اور تحریک انصاف کے وعدے

سب سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ حکومت کو مِنی بجٹ پیش کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اعداد و شمار سے واضح ہے کہ(ن) لیگ حکومت اپنی مالیاتی ذمہ داری کو نبھانے سے قاصر رہی اور اُس نے فقط ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اختیار کیے رکھی۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2013ء میں جی ڈی پی کا 1.1فیصد تھا جو 2018ء میں بڑھ کر 5.7فیصد تک پہنچ گیا ۔ یعنی ملکی ایکسپورٹس گر گئیں اور امپورٹس بہت زیادہ بڑھ گئیں۔ 2013ء میں امپورٹس 140ارب تھیں جو نواز حکومت کے پہلے تین سالوں میں اوسطاً 22 ارب ڈالر رہیں۔ ٹیکس کولیکشن 2018ء میں گری لیکن حکومت نے الیکشن کے سال ترقیاتی سکیموں کا جال بچھانے کی کوشش کی اور 1289ارب روپے کی خطیر رقم ان کے لیے مختص کی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے ان میں سے 450ترقیاتی سکیموں کو ختم کیا ہے ۔ (ن) لیگ حکومت نے معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی بجائے اندرونی و بیرونی قرضوں کا سہارا لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2013ء میں 14ہزار ارب روپے کا قرضہ 2018ء میں 28ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ نواز حکومت برسراقتدار آئی تو قوم کو خوشخبری سنائی گئی کہ سرکلر قرضے سے ملک کی جان چھڑا لی گئی ہے۔ یہ گردشی قرضہ اس وقت 734ارب روپے تھا اب جب کہ 2018ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت رخصت ہوئی ہے تو یہ گردشی قرضہ بڑھ کر 1180ارب روپے ہو گیا ہے۔ کرپشن ‘ بیڈ گورننس ‘ بجلی چوری اور دیگر عوامل کی وجہ سے ہر سال گردشی قرضے میں 170ارب روپے کا ریکارڈ اضافہ ہوتا رہا۔ نئی حکومت کو اب یہ مسئلہ درپیش ہے کہ یا تو وہ بجلی کے نرخ پر 2سے 3روپے فی یونٹ بڑھا دے یا پھر پاور سیکٹر 300ارب روپے کی سبسڈی دے۔ دوسری طرف گیس کے نرخوںکا معاملہ ہے۔ گیس کمپنیوں کے واجبات میں سالانہ 160ارب روپے کا فرق ریکارڈ کیا جاتا رہا لیکن حکومت نے اس جانب سنجیدگی سے توجہ دینا گوارہ نہ کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے سامنے دو آپشنز ہیں‘ 160ارب روپے کے فرق کا بوجھ صارفین پر ڈال دے یا حکومت پاکستان اس فرق کو ختم کرنے کے لیے سبسڈی کا آپشن استعمال کرے۔ قارئین اگر 2013ء کی وہ الیکشن مہم یاد کریں جب نواز شریف اور ان کی ٹیم اپنے تجربہ کار ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اور قوم اس خوش گمانی کا شکار ہو گئی کہ اپنے وعدوں کے مطابق میاں نواز شریف پاکستان کے بڑے اداروں کو خسارے سے نکال کر انہیں منافع بخش ادارے بنا دیں گے۔ ان پبلک سیکٹر آرگنائزیشنز میں صرف تین پاکستان سٹیل مل ‘ پی آئی اے اور پاکستان ریلوے کا خسارہ 2018ء میں 700ارب تک جا پہنچا ہے۔ واضح رہے کہ 2013-14ء میں یہ خسارہ تین سو ارب روپے تھا۔ یہ بات سمجھنے والی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے ذمے گزشتہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ادائیگیوںکا جو بوجھ ڈالا ہے اس کی مالیت 2093ارب روپے ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کے پاس اب دو راستے تھے۔ اول راستہ ماضی کی حکومتوں کے نقش قدم پر چلنے کا تھا‘ یعنی حالات اور موقع محل کے مطابق مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کی پالیسی اختیار کی جائے جب کہ دوسرا راستہ ایک سوچے سمجھے ریفارم ایجنڈے کے تحت معیشت کو ٹھوس بنیادوںپر استوار کرنے کا تھا۔ تحریک انصاف کے وزیر خزانہ نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا ہے ۔ انکم ٹیکس کے ضمن میں بوجھ ان افراد پر ڈالا گیا ہے جو بہت زیادہ کمائی کرنے والے ہیں۔ 12لاکھ روپے سالانہ کمائی پر محض دو ہزار روپے سالانہ ٹیکس ہے جب کہ اس سے زیادہ کمانے والوں کو مختلف سلیبز (SLABS)میں تقسیم کر کے کمائی کے 25فیصد تک ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ یعنی حکومت کی پالیسی ہے کہ امیروں سے ٹیکس لیا جائے اور عام آدمی کو غیر ضروری ٹیکس کے بوجھ سے نجات دلائی جائے۔ ترمیمی فنانس بل میں حکومت نے عوام پر بوجھ بننے والی پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کو ختم کردیا ہے جو 100ارب روپے بنتی ہے۔ عوام کو ریلیف دینے کے لیے یہ ایک بڑا دلیرانہ اقدام ہے۔ ٹیکس نیٹ کو بڑھا کر 92ارب روپے اکٹھا کرنے کا اعلان بھی خوش آئند ہے جب کہ ایکسپورٹ کو بڑھانے کے لیے خام مال پر عائد ریگولر ڈیوٹی کو ختم کرکے 5ارب روپے کا ریلیف دینا بھی دریں حالات میں ایک مثبت قدم ہے۔ نان فائلرز کو نئی گاڑی اور جائیداد خریدنے کی اجازت دینے کے اقدام کو اگرچہ تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اپنے منشور کے مطابق تحریک انصاف نے بلا واسطہ ٹیکس لگانے کے نظام کو درست کرنے کے لیے اقدامات نہیں اُٹھائے لیکن یہ کہتے ہوئے زبوں حال معیشت کو بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ جو اعداد وشمار کالم کے ابتداء میں آپ کے سامنے پیش کیے ہیں ان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اپنے منشور کے مطابق فوری اقدامات لینے کی گنجائش تحریک انصاف کے پاس بہت کم ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت عمران خان کے وژن کے مطابق جس پالیسی کی خواہاں ہے اس میں ایف بی آر کو منسٹری آف فنانس کے اثر سے آزاد کر کے زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینا شامل ہے۔سردست معاشی وکٹ اس کے لیے سازگار دکھائی نہیںدیتی۔ چنانچہ بعض مشکل فیصلے ہمیں دیکھنے کو ملے ہیں۔ اُمید کی جانی چاہیے کہ ماضی کی غلط کاریاں جلد دور ہوں گی اور حکومتی اقدامات کے نتیجے میں عوام کو معاشی خوشحالی کی منزل نصیب ہو گی۔

متعلقہ خبریں