Daily Mashriq


افغانیوں اور بنگالیوں کی نیشنلٹی کا مسئلہ

افغانیوں اور بنگالیوں کی نیشنلٹی کا مسئلہ

جیسا کہ گزشتہ ایک کالم میں ذکر کیا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان بنیادی طور پر نرم دل انسان ہیں۔ وزیر اعظم نے اپنی ابتدائی تقریر میں بھی اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قوم سے التجا کی تھی کہ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کے لئے اہل ثروت درد پیدا کریں۔ اپنے کروڑوں‘ اربوں اثاثوں اور جاگیروں میں سے غریبوں کا حق ادا کریں۔ کسی بھی منظم ریاست میں غریبوں کے حقوق کی ادائیگی کا شائستہ طریقہ ٹیکسوں اور واجبات کی ادائیگی ہے۔اسی طرح شاید انہیں کراچی میں پارٹی کے کسی شخص/ عہدیدار نے وہاں برسوں سے آباد بنگالیوں اور افغانیوں کو سٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لئے گُر کے طور پر بتایا ہوگا اور ساتھ اس مسئلے کے انسانی پہلوئوں پر بھی بات کی ہوگی کہ وہ لوگ جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی‘ پلے بڑھے یہاں پر تو اب ان کو نیشنلٹی کی اس لئے ضرورت ہے تاکہ وہ کوئی روز گار کرسکیں اور یوں سٹریٹ کرائم کے بجائے کوئی مثبت اور تعمیری شغل اختیار کرکے پاکستان اور اپنے خاندان کے لئے کمائو پتر بن جائیں۔ ہوسکتا ہے کسی نے اس کا سیاسی پہلو بھی اجاگر کیا ہو کہ اس طرح بیٹھے بٹھائے تحریک انصاف کو کراچی میں لاکھوں کی تعداد میں مزید ووٹر بھی میسر آسکیں گے۔ مکرر عرض ہے کہ امریکہ اور یورپ کو دیکھتے ہوئے کہ وہاں کوئی بچہ پیداہو کر رجسٹر ہو جائے تو نیشنلٹی بہر حال اس کا حق بن جاتا ہے۔ ہمارے بہت سارے بھائی اسی خواہش کے پیش نظر بچوںکی تولید کے لئے وہاں جانا پسند کرتے ہیں۔ ہمارے کئی ایک پروفیسرز جو کبھی پی ایچ ڈی کے لئے تشریف لے گئے تھے لیکن ان کے جو بچے وہاں چار پانچ سال قیام کے دوران پیدا ہوئے وہ یہاں آکر پڑھ لکھ کر اور جوان ہونے کے بعد وہاں جا کر گرین کارڈ کے مزے اڑارہے ہیں۔ اسی نظیر کے پیش نظر ہونا تو یہی چاہئے کہ جو لوگ وطن عزیز میں پیدا ہوئے اور پل کر جوان ہوئے ان کو شہریت کا ملنا ان کا بنیادی حق ہے۔ لیکن امریکہ‘ یورپ اور پاکستان جیسے ملکوں میں جہاں اور بہت سارے فرق ہیں اس طرح نیشنلٹی کے حصول میں بھی بڑا فرق ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ خوشحال ملک ہیں‘ وہاں صنعتیں اور دیگر شعبے ترقی کے بام عروج پر ہیں۔ آبادی‘ مردم شماری اور ان کے لئے وسائل‘ تعلیم اور صحت وغیرہ کے شعبے ایک منظم انداز میں کام کر رہے ہیں۔ وہ شہریت بھی ایک قانون اور نظم کے مطابق دیتے ہیں اوردنیا کے بہت سارے ملکوں کے لاکھوں شہری امریکہ کے شہری بنے لیکن اب وہاں وہ صورتحال نہیں رہی جو کبھی پہلے تھی۔ ابھی حال ہی میں لا طینی امریکہ کے ان افراد کو ملک بدرکیاگیا جو غیر قانونی طور پر مقیم تھے لیکن ان کے چھوٹے بچوں کو جو امریکہ میں پیدا ہوئے ہیں امریکہ ہی رہنے دیاہے۔ یہی حال یورپی ممالک میں ان امیگرینٹس کا ہے جو وہاں ترکی یونان وغیرہ کے راستے غیر قانونی طور پر آئے ہیں وہ اس وقت مہاجر کیمپوں میں ہیں اور وہ بہت برے حال میں ہیں۔ اس بات میں بہت بڑا وزن ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان بہت گہرے مذہبی اور تاریخی رشتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ 1979ء میں جب افغان مہاجرین پاکستان اور ایران دو برادر اسلامی ملکوں کی حیثیت سے چلے آئے ت ان دونوں اسلامی ملکوں نے مختلف انداز میں ان کو رکھا۔ ایران نے افغان مہاجرین کو آزاد نہیں رکھا جبکہ پاکستان میں افغانیوں کو جو آزادی ملی وہ شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک نے کبھی مہاجرین کو دی ہوگی۔ پاکستان نے یہ سب کچھ اسی معاہدہ مواخات اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیمات کے پیش نظر کیا تھا اور حقیقت یہ ہے۔ 37 برسوں تک جس طرح افغان مہاجرین کو برداشت کیا وہ بہت کم ملک کرسکتے ہیں۔اسی طرح وہ بنگالی جو 1971ء کے بعد پاکستان کی محبت میں بنگلہ دیش نہیں گئے یا جا نہ سکے یاکسی بھی وجہ سے رہ گئے یا 1971ء کے بعد وہاں سے غیر قانونی طریقے پر آئے۔ بہر حال اس وقت پاکستان میں رہ رہے ہیں۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بہت اہم ایشوکو پارلیمنٹ میں لا کر اپوزیشن کی رائے کو بھی شامل کیا جائے کہ آخر اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل تو نکالنا ہوگا اور اس کے ساتھ بنگلہ دیش میں محصور تین چار لاکھ بہاریوں کا مسئلہ بھی پاکستان کے شہریوں کی حیثیت سے زیر غور لانا ہوگا۔ بنگلہ دیش کی حکومت پچاس سال گزرنے کے بعد بھی ان کی اس نسل کو جو بنگلہ دیش میں جوان ہوگئی‘ بنگالی شہری کے طورپر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔لیکن ان ساری ہمدردیوں اور انسانی حقوق کی دہائی کے باوجود اس بات کاخیال رکھنا بہت ضروری ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی اور معیشت پر ان کے اثرات کا اندازہ لگایا جائے۔ پاکستان کی آبادی پہلے ہی حدوں سے نکل چکی ہے اور وسائل کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں کو پارلیمنٹ کی کسی قرار داد کے ذریعے شہریت مل جانے کے بعد بہبود آبادی کے محکمہ کو دن رات کام کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کی شرح پیدائش کو جو اس وقت خطے میں 2.4 فیصد ہونے کے سبب سب سے زیادہ ہے کم از کم 1.8 فیصد پر لایا جاسکے ورنہ 2فیصد پر لانا تو ناگزیر ہے۔ اگر یہ نہ ہوسکا اور نئی آبادی آگئی تو ہماری آبادی انڈونیشیاء سے بڑھ جائے گی اور حالات بدسے بد تر ہوجائیں گے۔ لہٰذا ہمدرددیاں اپنی جگہ لیکن سب سے پہلے پاکستان اور پھر افغانیوں میں سو قسم کے لوگ ہیں لہٰذا بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں