Daily Mashriq

مگر وہی تو بہت کامیاب چہرہ تھا

مگر وہی تو بہت کامیاب چہرہ تھا

کھیلنا کودنا اور شرارتیں کرنا بچوں کا پیدائشی حق ہوتا ہے۔ اگر کوئی بچہ شرارتی نہ ہو تو اس کے متعلق کند ذہن ہونے کا مفروضہ گڑھ لیا جاتا ہے۔ بعض بچے اس قدر شرارتی ہوتے ہیں کہ ان کی شرارتوں سے ان کے بڑوں کے ناک میں دم آجاتا ہے۔ بعض بچے ذرا سی دھونس دھمکی سے شرارتوں سے باز آکر محدود مدت کیلئے چپ سادھ لیتے ہیں یا نچلا بیٹھ جاتے ہیں اور موقع پاتے ہی اپنی شرارتوں کا سلسلہ وہیں سے شروع کردیتے ہیں جہاں پر وہ منقطع ہوا تھا۔ ایسے مناظر ہم نے اسکولوں کی کلاس روموں میں بھی دیکھے ہیں۔ گھروں میں سخت گیر امی ابو کے سامنے بھی اور کھیل کود کے میدانوں میں بھی۔ ہمارے ہاں کیا، دنیا بھر میں کھیل کود کے کچھ اصول یا ضابطے ہوتے ہیں جن کی پابندی کرنا کھیل کود میں شامل کھلاڑیوں کیلئے ضروری ہوجاتا ہے لیکن کھیلنے والے بچوں یا بڑوں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے ہم میدان کھلاڑیوں کو چکمہ دینے کے ماہر ہوتے ہیں۔ کھیل میں شامل ہو کر چکمہ دینے کے اس عمل کو ''یوٹرن'' کے داؤ پیچ کہنا چاہئے، ایسے بچے جب بڑے ہوکر کھیل کے میدان سے نکل کر سیاست کے میدان میںکودتے ہیں تو ''یوٹرن نامی سیاست کے موجد'' ہی نہیں ٹھہرتے بلکہ اپنے اس شرارتی عمل پر فخر بھی کرنے لگتے ہیں کیونکہ اس گر کے سبب وہ اپنے مدمقابل سیاسی حریفوں کو چاروں شانے چت گرانے کے علاوہ ان لوگوں سے بھی اپنا دامن چھڑا سکتے ہیں جن کی حمایت حاصل کرنے کیلئے انہوں نے ان کو بہت سے سبزباغ دکھائے تھے اور ووٹوں کے بدلے ان پر حسین خواب بیچے تھے لیکن جب ان کی حمایت کرنے والے ان کا 'یوٹرن'' دیکھتے ہیں تو ان میں سے کچھ حساس طبیعت لوگ پکار پکار کر کہنے لگتے ہیں کہ ''تم تو کہتے تھے اُٹھاؤں گا نہ کچکول کبھی، کہتے تھے چوروں کو پکڑ کے ماروں گا، ان کو بھیجوں گا ایوانوں سے میں ایسا واپس، ان کے ہی ہاتھوں سے نکالوں گا میں پیسہ واپس'' یہ اور اس قسم کی بہت سی چیخیں وائرل ہونے لگتی ہیں رابطوں کے سوشل میڈیا پر جنہیں ہم جیسے لوگ بھی

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے

ہوتا ہے شب وروز تماشا مرے آگے

کے مصداق چپ ہوکر سن لیتے ہیں یا دل ہی دل میں کڑھنے یا ہنسنے لگتے ہیں۔ عمران خان نے ثابت کردیا کہ وہ حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے مقبول کھیل کرکٹ کی ٹیم ہی کے کپتان نہیں تھے بلکہ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئر میں بھی کبھی دھیرے دھیرے کھیل کر اور کبھی چوکے چھکے لگا کر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ میدان سیاست میں کھیل کھلواڑوں کے وہ تمام گر استعمال کر رہے ہیں جو شرارتی بچے اپنی ماں کی کوکھ سے لیکر اس دنیا میں آتے ہیں اور ان کی یہ شرارتیں ان کے کھلنڈرے پن کی عمر میں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ ہم اپنے بچپن کے دور میں اپنے مفلر کے ایک سرے کو گانٹھ دے کر موٹا کرتے اور دوسرے سرے کو ہاتھ میں پکڑ کر گھماتے اور اپنے ساتھ کھیلنے والے فریق کی چھترول کرنے لگتے۔ جب تک مخالف فریق مار کھاتا رہتا ہم اس پر مفلر کے کوڑے برساتے رہتے مگر جیسے ہی دیکھتے کہ ہمارا مخالف ہم پر غالب آنے لگا ہے ہم فوراً کہہ دیتے کہ ''لڑائی بند'' اور یہ بات کہتے ہی ہم اس کے حملہ سے اپنے آپ کو بچا لیتے کیونکہ اس کھیل کو شروع کرنے اور اس کو ختم کرنے کیلئے ہی ہم نے ایسے اصول وضع کئے ہوتے، بقول عظیم نیازی ''خود ہی قانون بناتے ہو، خود ہی توڑ دیتے ہو، کھیل اور کھلواڑ میں یہی فرق ہے، ہم جوے کو بھی کھیل کہتے ہیں، فری سٹائل کشتیوں کو بھی کھیل سمجھتے ہیں اور سیاست بازی کو بھی بازی ہی سمجھتے ہیں، یہ دنیا شروع روز ہی سے شریر یا شرارت کے پرکالوں کے آگے گھٹنے ٹیک دیتی ہے، اگر کوئی شریر اپنے چہرے پر شریف ہونے کا ماسک چڑھا کر میدان سیاست میں اترے تو اس کی اس حرکت کو کسی شرارت ہی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ جس کو وقت گزرنے کیساتھ رنگ بدلنا نہیں آتا آپ اس کو شریف النفس اور سادہ دل سادہ لوح تو کہہ سکتے ہیں لیکن سیاسی میدان کا کھلاڑی نہیں کہہ سکتے، دیکھتے نہیں نریندر مودی کو جب وہ بغل میں چھری دبائے منہ سے رام رام کرتا عوامی اجتماعات میں اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر مخاطب ہونے آتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسا اس جیسا کوئی بھی شانتی کا پرچارک نہیں لیکن جب ہم اس کے اشارے پر بے چارے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹتے دیکھتے ہیں تو کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے، یہی حال ہمارے ملک کے سیاسی اکھاڑے کے نامور پہلوانوں کا ہے، مولانا فضل الرحمان دینی کارڈ لے کر اسلام آباد کی جانب جہاد کرنے روانہ ہورہے ہیں، حالانکہ ان کو بارڈر پر جاکر جہاد کرنا چاہئے تھا، سرینگر جاکر کشمیریوں کے حق میں آواز اُٹھانی چاہئے تھی، ان سب باتوں کو ہم سیاسی پینترے کہتے ہیں، کہتے ہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کی مسلم لیگ اور شہباز شریف کی مسلم لیگ میں دراڑیں پڑنے لگی ہیں اور شہباز شریف نے تو کشمیر پالیسی میں عمران خان کا ہاتھ بٹانے کا عندیہ بھی دیدیا، ہم سیاست اور سیاست بازوں کی یہ قلابازیاں دیکھ کر اس ''یوٹرن'' کی حقیقت جان لیتے ہیں جن کی اساس ہمارے بچپن کی شرارتوں اور چالاکیوں پر قائم ہے، لگتا ہے کہ زندگی میں کامیابی ان ہی کے قدم چومنے کیلئے آگے بڑھتی ہے جو ہوا کے رخ پر چلنا جانتے ہیں۔

یہ سچ ہے رنگ بدلتا تھا وہ ہر اک لمحہ

مگر وہی تو بہت کامیاب چہرہ تھا

متعلقہ خبریں