Daily Mashriq


چشم کشا معاملہ

چشم کشا معاملہ

کرایہ داروں اور دینی مدارس کی باقاعدہ رجسٹریشن کے علاوہ صوبے میں افغان مہاجرین کی خصوصی نگرانی اور من حیث المجموع مشکوک افراد پر نظر رکھنے کے انتظامات اور امن وامان کی صورتحال پر نظر رکھنے کے اقدامات کے باوجود ہمارے رپورٹر کی یہ خبر جہاں حیرت کا باعث وہاں اس سے ہمارے اداروں کی کارکردگی کا پول بھی کھل جاتا ہے۔ ناقابل یقین امر یہ سامنے آیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے9اضلاع میں قائم مساجد اور مدارس میں 268افغان پیش اماموں میں سے بیشتر آئمہ نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے قومی شناختی کارڈحاصل کر رکھے ہیںبجائے اس تعداد میں سال بہ سال کمی آنے کے سال2017ء کی نسبت سال2018ء میں خیبر پختونخوا کی مساجد اور مدارس میں افغان پیش اماموں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سب سے زیادہ118افغان پیش امام ضلع پشاور کے مختلف مدارس اور مساجد میں درس و تدریس کاکام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت سمیت صوبے کے بڑے شہروں میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان جس طرح پاکستانی شہریوں کو ہراساں کر رہے ہیں ایسے میں مقامی شہری جن مشکلات کا شکار ہیں اس کا اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح نادرا میں فارم ب اور قومی شناختی کارڈ بنانے میں مقامی شہریوں کو پورے دستاویزات پیش کرنے کے باوجود جس قسم کے سوالات اور اعتراضات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے ان مراحل سے گزرنے والاہر شہری واقف ہے۔ مساجد اور مدارس میں افغان علماء اور آئمہ کی موجودگی کی خصوصی طور پر حوصلہ شکنی کی جاتی ہے مگر باوجود اس کے اعداد وشمار سے سامنے آنے والی تفصیلات قابل توجہ ہیں۔ سرحدوں پر سفری دستاویزات کے بغیر آمدورفت پر مکمل پابندی کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ محولہ امور کا اگر اعدادو شمار کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو ان کے ہیچ ہونے کا گمان کرنا غلط نہ ہوگا ۔ گوکہ رپورٹ میں ان افراد کے پاس پاسپورٹ اور ویزے ہونے کی کوئی تفصیل موجود نہیں لیکن قیاس کیا جا سکتا ہے کہ قانونی دستاویزات کم ہی کے پاس ہوں گے۔ علمائے کرام اور آئمہ حضرات سے کم از کم جعلسازی سے پاکستان کا قومی شناختی کارڈ بنوانے کی توقع نہ تھی لیکن اس کے بھی واضح اعداد وشمار سامنے آئے۔ علماء و آئمہ کے بھیس میں نجانے کتنے افراد مقیم ہوں گے اس کی بھی چھان بین کی ضرورت ہے ۔ اس رپورٹ کی روشنی میں ایک مرتبہ پھر شہرمیں چھان بین اور دستاویزات کرایہ داری و شناخت کی تجدید کی جہاں ضرورت ہے وہاں خیبر پختونخوا میں نادرا کے تمام دفاتر کا ریکارڈ بھی دیکھنے کے بعد جعلسازی میں ملوث عناصر اور نادرا کے متعلقہ عملے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ مقامی علمائے کرام ، مساجد کے متولی حضرات اور مدارس کے منتظمین کو چاہیئے کہ وہ جعلی کارڈوں کے حامل عناصر کو ان کے عہدوں سے الگ کریں ۔ اس امر کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیئے کہ مقامی طور پر قابل اور اہل علمائے کرام کی موجودگی میں غیر مقامیوں کا تقرر کیا جائے ۔

متعلقہ خبریں