Daily Mashriq


اختلاف اصولی یا سیاسی

اختلاف اصولی یا سیاسی

صوبہ سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کی جانب سے قومی اقتصادی کونسل(این ای سی)کے اجلاس سے واک آئوٹ سنجیدہ معاملہ ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ وفاقی حکومت کو صوبوں کے موقف اور مفادات کی زیادہ پرواہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ضمن میں وفاق نے سرد مہری کا رویہ اختیار کئے رکھا۔تینوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا موقف ہے کہ وفاق نے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی)میں صوبائی سکیموں کو شامل نہیں کیا جس کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں جاری اجلاس میں بیٹھنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی تھی۔وزرائے اعلیٰ کا یہ بھی موقف تھا کہ ملک کے سب سے بڑے اقتصادی معاملات پر فیصلہ کرنے والی باڈی کا کورم مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اگلے سال کا ترقیاتی بجٹ منظور نہیں ہو سکتا۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ این ای سی نے قومی اسمبلی سے منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا اور نوٹ کیا ہے تاہم آئین کی رو سے ضروری نہیں کہ وفاق، صوبائی سالانہ ڈویلپمنٹ پلانز(اے ڈی پی ایس)کی منظوری دے اور وفاق پی ایس ڈی پی کے لیے صوبائی حمایت حاصل کرے۔وزرائے اعلیٰ کا یہ بھی موقف تھا کہ وفاقی حکومت غیر آئینی رویہ اختیار کرتے ہوئے اگلی حکومت کے لیے پورے سال کا بجٹ پیش کررہی ہے جبکہ حکومت کی مدت ختم ہونے میں ایک ماہ باقی ہے۔اس حوالے سے وفاقی وزیر داخلہ اور ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ بجٹ تین ماہ کا نہیں بنایا جا سکتا اور یہ پورے سال کا ہوتا ہے، بعض صوبے چاہتے ہیں کہ صوبائی اسکیموں کو پی ایس ڈی پی میں شامل کیا جائے جبکہ 18ویں ترمیم کے تحت صوبائی وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی اسکیمیں خود مکمل کریں۔انہوں نے واضح کیا کہ پی ایس ڈی پی قومی انفراسٹرکچر کی ضرورت کو پورا کرتا ہے جس میں صوبائی منصوبوں کو شامل کرنا وفاق کی ذمہ داری نہیں تاہم بعض پسماندہ صوبوں اور علاقوں کی مدد جاری رہتی ہے۔دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ اچھا برتائو نہیں کررہی اور اگلی حکومت کے لیے بجٹ کی تشکیل کررہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے بجٹ سیشن سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کے لیے اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں آگے کے لائحہ عمل پر غور ہوگا لیکن یہ واضح ہے کہ کرنٹ اخراجات جیساکہ تنخواہیں وغیرہ کے لیے بجٹ کی منظوردے دی جائے گی۔اس ضمن میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے کہا وفاق نے پی ایس ڈی پی میں صوبائی حکومتوں کی سفارشات پر غور نہیں کیا اس لیے فورم کا حصہ بنانا لاحاصل ہے، انہوں نے مزید کہا کہ وفاق اپنے منصوبوں کے لیے تمام اقدامات اٹھارہا ہے جس کی اس وقت آئین میں کوئی گنجائش نہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی حکومتوں کے مینڈیٹ کے دم اختتام اس قسم کے اختلافات کی ایک بڑی وجہ سیاسی بھی ہوسکتی ہے جبکہ دوسری جانب اس ضمن میں صوبے برحق ہیں کہ وفاقی حکومت مالیاتی معاملات میں اپنی ہی کرتی ہے اور این ایف سی ایوارڈ کی منظوری کے بغیر مالیاتی وسائل کی تقسیم اپنے ہاتھ میں رکھنے اور صوبوں کو پرانے ایوارڈ کے مطابق وسائل کی فراہمی کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان اعتراضات سے قطع نظر یہ بھی حقیقت ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد صوبوں کو مالیاتی معاملات میں بڑی حد تک خود مختاری مل چکی ہے۔ بہر حال صوبوں اور وفاق کے درمیان اس طرح کے معاملات غیر معمولی نہیں۔ صوبوں اور وفاق کے درمیان اختلافات بارے ہر فریق اپنے موقف ہی کو درست سمجھتا ہے ۔ ایک عمومی شکایت اس امر کی پائی جاتی ہے کہ چھوٹے صوبوں کا خیال نہیں رکھا جاتا اور زیادہ فنڈز پنجاب کو ملتے ہیں۔ اس طرح کا موقف قانونی کم اور سیاسی بنیادوں پر زیادہ اختیار کیا جاتا ہے کیونکہ وسائل کی تقسیم تو مروجہ پالیسی کے مطابق ہوتی ہے اور صوبوں کا اپنا بجٹ ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ وفاق پر منحصر ہے کہ وہ صوبے کے کن منصوبوں کو عوامی اہمیت کے لحاظ سے اہم سمجھتا ہے اور اس کے لئے اضافی وسائل دئیے جاتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان معاملات کا حل واک آئوٹ اور احتجاج نہیں بلکہ اس کا حل مدت اقتدار کے اختتامی دنوں میں تینوں صوبوں کا اس طرح اکٹھ اور اظہار یکجہتی نہیں بلکہ وقت پر مشترکہ موقف اپنانا ہے جس کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی اور ہر سال صوبوں کے وزرائے اعلیٰ قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس میں شریک ہوتے ہیں اور ان کی سعی ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبوں کے لئے جتنا ممکن ہوسکے وفاقی حکومت سے وسائل حاصل کرسکیں۔ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں پی ایس ڈی پی نہ بنانے اور پورے مالی سال کی بجائے تین ماہ کا بجٹ بنانے کے موقف کی اگر اصابت کا جائزہ لیا جائے تو اس فارمولے کا اطلاق صوبوں پر بھی ہوتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صوبے بجٹ کی تیاری میں مصروف ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ابتداً بجٹ پیش نہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا مگر اب بجٹ کی منظوری کے قابل اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود بجٹ پیش کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جس سے تین مہینے کا بجٹ پیش کرنے کے خود ان کے اپنے موقف کی بھی نفی ہوتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اہم قومی معاملات پر سیاسی بنیادوں پر موقف اپنانے کی بجائے ایک ٹھوس اور مدلل موقف اپنانے کی ضرورت ہے اور موقف اختیار کرتے ہوئے اس کے آئینی اور قانونی جواز اور امکانات پر بھی غور ہونا چاہئے تاکہ محض عوام کے سامنے واویلا اور عملی طور پر کچھ حاصل وصول نہ ہونے کی صورت نہ رہے۔

متعلقہ خبریں