Daily Mashriq


کدھر… جماعت اسلامی

کدھر… جماعت اسلامی

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے گزشتہ روز خیبر پختونخوا حکومت میں اتحادی پاکستان تحریک انصاف پر نہایت کاری وار کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے برسرعام تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک سے ایک گفتگو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پرویز خٹک نے سینیٹ کے انتخابات میں جماعت اسلامی کو تحریک انصاف کے ساتھ ووٹ دینے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی۔ جب سراج الحق نے پوچھا کہ کس کو ووٹ دیا جانا مقصود ہے تو پرویز خٹک نے کہا کہ نمائندہ بلوچستان سے ہو گا۔ مزید استفسار پر بتایا کہ یہ'' اوپر'' سے ہدایت ہے۔ امیر جماعت اسلامی کو تحریک انصاف پر وار کرنے کا ایک جواز ہاتھ آ گیا۔ ''اوپر'' سے مراد انہوں نے وہی لی جو الزام ن لیگ کے قائد نواز شریف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر عائد کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر سیاست کرتے ہیں۔ اور امپائر کی انگلی کے منتظر رہتے ہیں ، امپائر سے ان کی مراد اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے۔ امیر جماعت نے نہایت آسانی سے یہ یقین کر لیا کہ پرویز خٹک نے تصدیق کر دی ہے کہ بلوچستان کے امیدوار کے لیے ووٹ ڈالنے کی ہدایت اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے آئی ہے اور پرویز خٹک نے نہایت آسانی اور بھولپن سے یہ بات امیر جماعت اسلامی کو بتا دی۔ اس بنیاد پر امیر جماعت اسلامی نے پی ٹی آئی کی طرف توپوں کا رُخ موڑ دیا۔ پرویز خٹک کے بیان نے اگلے ہی روز اس غبارے سے ہوا نکال دی اور کہا کہ اوپر سے مراد ان کی بنی گالہ یعنی عمران خان تھے۔ امیر جماعت کی سبکی تو ہوئی لیکن انہوں نے اس پرشرمندگی کا اظہار نہیں کیا۔ سراج الحق بھی ایک نیک اور صالح انسان ہیں۔ پرویز خٹک کی وضاحت کے بعد سراج الحق کو اپنے الزامات واپس لینے چاہیئے تھے۔ لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ سینیٹ کے انتخابات میں تحریک انصاف کے سینیٹروں نے کم از کم ڈپٹی چیئرمین کے عہدے کے لیے مانڈوی والا کو ووٹ دے کر بے اصولی کا مظاہرہ کیا ہے اور یہ عمران خان کے ایماء پر کیا گیا۔ اس لیے یہ عمران خان کے قول و فعل میں تضاد کا ثبوت ہے۔ اس حقیقت کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ عمران خان پیپلز پارٹی کے آصف زرداری پر بھی کرپشن کے ویسے ہی الزام عائد کرتے ہیں جیسے وہ ن لیگ کے میاں نواز شریف پر کرتے ہیں ۔ انہوں نے بار بار کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف کا اتحاد نہیں ہو سکتا۔ ایسے ہی الزامات کو بنیاد بنا کر سراج الحق نے تحریک انصاف کے سینیٹروں کے سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دینے کو کم از کم قول و فعل میں تضاد اور بے اصولی قرار دیا ہے۔ سراج الحق ایک اہم سیاسی جماعت کے امیر ہیں جس کی ایک تاریخ ہے۔ انہیں یہ بخوبی معلوم ہوگا کہ عام انتخابات کے آتے آتے ملک کی ایک سو سے زیادہ پارٹیوں میں سے تین پارٹیاں ن لیگ ' پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نمایاں ہیں۔ ان میں سے ہر جماعت تین مکھی لڑائی لڑ رہی ہے۔ ان پارٹیوں کے اپنے اتحادی بھی ہیں جیسے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کی حکومت میں تحریک انصاف کی اتحادی ہے۔ لیکن یہ تین پارٹیاں سیاسی منظر نامے میں نمایاں ہیں۔ ان میں سے ہر پارٹی دوسری دونوں کو یکجا کر کے طعنے دیتی ہے ۔ حوالے کے لیے تینوں پارٹیوں کے لیڈروں کے بے شمار بیانات پیش کیے جا سکتے ہیں ۔ یہ بات بھی سب کو معلوم ہے کہ سیاست سمجھوتوں کا کھیل ہے۔ سمجھوتے کو ڈیل یا سودے کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے کہ ڈیل کا مطلب کوئی ایسی خرید و فروخت کرنا ہوتا ہے جس میں مال یا غیر اخلاقی لین دین کیا گیا ہو۔ سینیٹ کے انتخابات میں اگر تحریک انصاف نے عارضی طور پر محدود کم تر خرابی کا انتخاب کیا یعنی ن لیگ کے امیدوار کے سامنے اپنے امیدوار کی فتح کے لیے کوئی سمجھوتا کیا تو یہ ایک سیاسی عمل ہے۔ اسے اخلاقی جرائم میں شمار نہیں کیا جانا چاہیے۔ آئین میں صرف تین موضوعات پر ووٹ دینے کے لیے ارکان اسمبلی پر اپنی پارٹی کے سربراہ کی لائن کے مطابق ووٹ دینے کی پابندی ہے۔ (١)۔ وزیر اعظم کا انتخاب (٢)۔ بجٹ کی منظوری (٣)۔ عدم اعتماد کی کارروائی۔ سینیٹ کے انتخابات میں خفیہ رائے شماری کے اہتمام کی بنیاد یہ ہے کہ سینیٹر پارٹی لائن کی تابعداری کی بجائے اپنی مرضی کے مطابق ووٹ دیں۔ اس لیے تحریک انصاف کے سینیٹرز نے اگر ن لیگ کے امیدوار کے مقابلے میں صادق سنجرانی اور سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دیا ہے تو کوئی غیر قانونی یا غیر اخلاقی کام نہیں کیا۔ یہ ٹھیک ہے کہ عمران خان یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ آصف زرداری سندھ کی سب سے بڑی بیماری ہیں لہٰذا آصف زرداری کی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینا بے اصولی کی بات ہے۔ لیکن تحریک انصاف کے فواد چودھری نے گزشتہ روز کہا کہ سراج الحق خود پاناما کیس انکشافات کے حوالے سے نواز شریف کے خلاف مقدمہ لے کر سپریم کورٹ گئے اور پھر خود بھی ان کے سینیٹرز نے نواز شریف کی مسلم لیگ ن کے سینیٹ کے چیئرمین کے امیدوار کو ووٹ دیا۔ سراج الحق ذی فہم آدمی ہیں ، یہ سب کچھ ان کی نظر میں یقینا ہو گا۔ لیکن انہوں نے پرویز خٹک سے ''اوپر کی ہدایت'' کے بارے میں وضاحت حاصل کرنے کی بجائے اسے فوری طور پر تحریک انصاف سے دوری اختیار کرنے کے لیے کیوں استعمال کیا؟ ممکن ہے انہیں تحریک انصاف سے دوری کا جواز حاصل کرنے کی جلدی ہو کہ وہ ممکنہ نئے اتحادیوں میں جماعت کی مانگ میں شدت پیدا کر سکیں۔ ن لیگ کے نواز شریف نے سراج الحق کا الزام فوری طور پر اچک لیا ۔ اس الزام میں ن لیگ کی قیادت کے لیے دلچسپی کا عنصر بھی زیادہ ہے ۔ دوسری طرف سراج الحق مجلس عمل کے احیاء میں بھی سرگرم ہیں۔ جب خیبر پختونخوا حکومت میں پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کے کمزور ہونے کی خبر عام ہو جائے ۔ لیکن اتحادقائم بھی رہے تو نئی پارٹی میں جماعت اسلامی کے لیے زیادہ اہمیت کا مطالبہ کرنا آسان ہو گا۔

متعلقہ خبریں