Daily Mashriq


اصلاحات اور فکر نظر کے اثرات

اصلاحات اور فکر نظر کے اثرات

پاکستان کتنا پرامن تھا ، اس کا حال ہمارے ملک کے ہر علاقے کے وہ باشندے بتا سکتے ہیںجو اپنی عمر کی ساٹھ بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ ہمارے شہروں اور دیہاتوں دونوں جگہ حرام حلال کی اتنی تمیز ضرور تھی کہ کتوں ، گدھوں ، مردہ مرغیوں اور جانوروں کا گوشت حرام ہی سمجھا جاتا تھا ۔ 1970ء کے عشرہ میں ہمارے بڑے شہروں میں حالات آہستہ آہستہ تبدیل ہونے لگے تو فکرونظر ، تہذیب و ثقافت ، رسم ورواج ، رشتے ناتے سب متاثر ہونے لگے ۔ یہ وہی دورتھا جب اشتراکی انقلاب روس میں قدم جما چکا تھا اور مشرق یورپ کے علاوہ ایشیاء کے بعض ملکوں میں بھی سُرخ انقلاب کی ہوائیں چلنے لگی تھیں اور اس کے اثرات ، الفاظ ، اصلاحات حجروں دکانوں اور دفاتر میں ظاہر ہونا شروع ہوگئے تھے۔ الفاظ اور اصلاحات کی اپنی نفسیات ہوتی ہیں لیکن عام لوگوں کو اس کا احساس بہت بعد میں ہوتا ہے ۔ شرفاء اورمثقف لوگوں کی زبان اور اُٹھک بیٹھک لین دین اور رشتوں ناتوں کے انداز اور ہوتے ہیں اور بازاری لوگوں کے اور۔ شہروں میںمختلف علاقوں ، قبائل ، زبانوں اور تہذیب و ثقافت کے لوگ مل کر بودوباش اور لین دین کرتے ہیں تو ایکملغوبہ ٹائپ زبان اور ثقافت وجود میں آتی ہے اور پھر عام بول چال کے محاورے اور الفاظ تبدیل ہو کر اپنے نئے معانی تلاش کرلیتے ہیں ۔ جاگیردار ، سرمایہ دار ، کارخانہ دار ، صنعت کار کی تراکیب اور الفاظ کے سامنے آتے ہی ان کے فنی مفہوم کے علاوہ ایسے لوگوں کا تصور بھی ذہن پر طاری ہونے لگتا ہے ، جو غریبوں کا حق غصب کرتے ہیں ۔اپنے آپ کو معاشرے میں بالا دست اور عام لوگوں سے الگ تھلگ شمار کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ان تراکیب واصلاحات اور اسماء کے ساتھ استحصال ، استعمار ، سامراج وغیرہ منسلک سمجھے جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس اشترا کی انقلاب نے ان ہی طبقات کے خلاف بورژوا ، بالشویک ، اشتمالیت ، اشتراکیت ، وغیرہ جیسی اصلاحات سے اپنا تعارف کرایا ۔

سرمایہ دارانہ اور اشتراکی فکر و نظر کے درمیان اسلام اور قرآن وسنت پر مبنی معاشروں کے اندر جو چیزیں عقائد ، عبادات ، اخلاقیات اور معاملات اور زندگی کے دیگرشعبوں میںرائج چلی آرہی تھیں ، اُن کا ایک خاص پس منظر ، اور موقع محل کے مطابق خاص معانی ہوتے تھے ۔ اور ان چیزوں پر مسلمانوں کا سخت اعتقادہوتا تھا ۔ لیکن مغرب و مشرق کی طرف سے آنے والی ان دو متضاد مگر مسلمانوں کے لئے اثرات کی یکساں اہمیت رکھنے والی تہذیبوں نے بہت بڑا نقصان کیا ۔ مغرب کا سرمایہ دارانہ معاشرہ سودی نظام پر استوار ہونے کے سبب مسلمانوں کے معاشی نظام کو چیلنج کرتے ہوئے ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکا ۔ ایک زمانہ تھا کہ سود ، سود خور اور سودی لین دین کو بہت ملعون و معیوب سمجھا جاتا تھا ، لیکن آج سودی بنکوں کے نظام کے تحت سواد اعظم کو پروا ہی نہیں ۔ اس کے ساتھ ہی حلال وحرام کا عقیدہ یوں کمزور پڑ گیا کہ مسلمان دولت کے حصول کے لئے بھائی کا گلہ کاٹنے سے نہیں چُوکتا ۔ اسی طرح تہذیبی لحاظ سے مسلمان معاشروں میں خواتین میں حجاب وپردے کا کتنا اہتمام ہوتا تھا مگر اب اہتمام تو درکنار پردہ کرنے والی خواتین کو قدامت پسند ، پھو ہڑ اور جدید تقاضوں اور اقدار سے بے خبر و ناواقف سمجھا جاتا ہے اس کی اثراندازی کا اندازہ کیجئے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کوجہاں سے حجاب کا حکم ملا تھا آج اُس سرزمین پر جدیدیت کے نام پرطبقہ خواتین میں ایک ناقابل تصور انقلاب برپا ہو چکا ہے ۔ مغربی تہذیب نے جس عاقبت نااندیشانہ انداز میں انسانی معاشرے اور خاندان کی بنیادی اکائی (نکاح) کے ادارے کو اُدھیڑا ہے اور اس نے مغرب اور مشرق کو جس بری طرح متاثر بلکہ پائمال کیا ہے وہ کہنے کے قابل نہیں ۔ مسلمان معاشروں میں طلاق (جو کبھی مبغوض ترین ) شے تھی آج اس کا استعمال کھلے عام ہورہا ہے ۔ کیونکہ اب نکاح کا وہ تقدس اور طلاق کی نحوست کا احساس نہیں رہا ۔ اور بھی کئی شعبہ ہائے زندگی ہیں جوالفاظ و اصلاحات کی نفسیات تبدیل ہونے کے سبب تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں ۔ اسی طرح اشتراکی نظام زندگی نے مسلمان نوجوانوں میں دین و مذہب کے ساتھ لگائو کوکم کیاکیونکہ کارل مارکس نے مذہب کو گورکھ دھندہ قرار دیا تھا ۔ اسی فکر کے تحت مسلمان معاشروں میں مذہب بیزار طبقہ پیدا ہوا ۔ موجودہ دور میں چونکہ مغرب و مشرق عقیدہ فکر کے لحاظ سے ایک ہوگئے ہیں البتہ مفادات کے لحاظ سے مخالف ہیں ، اس لئے ان دونوں کے مشترکہ اثرات کے تحت ہمارے ہاں سیکولر ، لبرل ، ترقی پسند اور تجدد پسند طبقات وجود میں آئے ہیں ۔ ان کے اور قدامت پسندوں کے درمیان جو کشمکش اسلامی دنیا میں شروع ہوئی اُس نے دہشت گردی کی ایسی لہریں اُٹھائیں جس نے ہماری تہذیب ، امن ، رواداری ، اخلاقیات ، معاشیات اور نہ جانے کیا کیا تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ۔ اگر کابل میں اشتراکی فکر کے حاملین پیدا نہ ہوتے تو اسلام پسند کیونکر مقابلے میں آتے ۔ اشتراکیت کے علمبرداروں کی مدد کے لئے روس نہ آتا تو امریکہ کویہاں آنے کا موقع کیسے ملتا ۔ یہ دونوں یہاں نہ آتے تو میرے ملک میں دہشت گردی کی وبا کیوں پھیلتی ۔ امن کے قیام اور سلامتی کے لئے اب بھی اسلامی زندگی ضمانت ہے ۔ آئین پاکستان کی حفاظت اسلام کے ذریعے کریں تاکہ مشرق ومغرب کی وبائوں سے محفوظ ہو جائیں ۔

متعلقہ خبریں