Daily Mashriq


سرائیکی وسیب کا مقدمہ

سرائیکی وسیب کا مقدمہ

پنجاب کے جنوبی حصہ میں سرائیکی بولنے والے صدیوں سے نہیں ہزاریوں سے آباد ہیں۔ معلوم تاریخ کے اعتبار سے ملتان لگ بھگ 7ہزار سال قدیم شہر ہے۔ ہندو دیو مالائی تاریخ کی اگر محققین کے اند از میں چھان پھٹک ہو تو یہ عرصہ سات سے دس ہزار سال کا درمیانی زمانہ ہے۔ حفیظ خان سمیت ہمارے بہت سارے محققین اس بات سے متفق ہیں کہ ملتان کے راجہ پر ہلاد نے یہاں توحید پرستوں کی پہلی درسگاہ قائم کی اور یہ درسگاہ 10ہزار سال قبل قائم ہوئی۔ پرہلاد کے دانش کدہ کو اپنی طرز تعمیر کی وجہ سے بعد کی ہزاریوں اور بالخصوص خطے میں مسلمانوں کی آمد کے بعد سے پرہلاد مندر کہا جانے لگا۔ یہی ٹھونسی گئی ہندوانہ شناخت اسے بابری مسجد کے سانحہ کے دنوں میں لے ڈوبی۔ افسوس کہ بابری مسجد کے بدلے میں پرہلاد کے دانش کدہ کو تباہ کرنے والوں نے ہماری دس ہزار سالہ تاریخ کی سچی نشانی برباد کر دی۔ ہمارے ایک مرحوم ترقی پسند بزرگ ساتھی ملک عطاء اللہ دانش کدہ پرہلاد کی بربادی کے چشم دید گواہ تھے۔ بھیگی آنکھوں سے جب وہ بربادی کے ان لمحوں کا نقشہ کھینچتے تو گفتگو کے اختتام پر ٹھنڈی سانس بھر کے یہ ضرور کہتے '' یار شاہ جی شکر ہے پرہلاد دانش کدہ کے حملہ کرن الیاں اچ ہک و ی سرائیکی کوئی ناہئی (شکر ہے کہ حملہ آوروں میں ایک بھی سرائیکی نہیں تھا)۔

سرائیکی وسیب کے لوگ اپنی قومی شناخت اور فیڈریشن کے اندر قومی اکائی کادرجہ حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ یہ سیاسی جدوجہد لگ بھگ چار عشرے قبل شروع ہوئی۔ بجا کے ایک منظم تحریک برپا نہیں ہو سکی پھر بھی تقسیم شدہ سرائیکی وسیب کے دونوں حصوں میں اپنی زبان' قومی شناخت اور قومی اکائی کا درجہ حاصل کرنے کی تڑپ موجود ہے۔ درجن بھر قوم پرست تنظیموں کے ساتھ انگنت ادبی و سماجی تنظیمیں بھی اس جدوجہد میں حصہ ڈال رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اپنے پچھلے دور میں سرائیکی صوبہ کے لئے کمیشن بنوایا۔ سینیٹ سے قرار داد منظور کروائی۔ نون لیگ نے بھی پچھلے دور میں ہی پنجاب اسمبلی سے صوبہ جنوبی پنجاب اور صوبہ بہاولپور کے قیام کے لئے قراردادیں منظور کروائیں۔ لیکن ان قرار دادوں کا مقصد سرائیکی وسیب کی اجتماعی شناخت کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا تھا۔ ان دنوں نون لیگ کے چند باغی ارکان اسمبلی نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے نئے سیاسی سفر کا اعلان کیا ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام پر اختلاف فطرتی ہے لیکن یہ کوئی کفر و اسلام کا سا معاملہ نہیں اہل دانش مکالمے میں مصروف ہیں اور اب 5 مئی کو وسیب کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک شہر خانپور میں ورلڈ سرائیکی کانگریس کے سربراہ عبید خواجہ کی دعوت پر '' سرائیکی قومی مشاورتی کٹھ'' ہونے جا رہا ہے۔ اس قومی کٹھ کا اعلان خانپور سرائیکی وسیب کے لوگوں کی جدوجہد میں معاون ثابت ہوگا۔ ان دنوں پنجاب کی تقسیم کے معاملے کو لے کر کچھ پنجابی دوست بڑے برہم ہیں۔ ان برہم دوستوں کا دعویٰ ہے کہ سرائیکی زبان الگ سے کچھ نہیں بلکہ یہ پنجابی کا ایک لہجہ ہے۔ مکالمے کا دروازہ کھولنے کے بغیر فیصلہ صادر کرنے والے ان پنجابی دوستوں میں زیادہ تر ان مہاجرین کی نئی نسل ہے جن کے بزرگ 1947ء کے بٹوارے کے بعد وسطی پنجاب یا سرائیکی وسیب میں آن کر آباد ہوئے۔ کچھ تو بہت اتاولے ہیں خبط عظمت کی ساٹھویں منزل پر براجمان پھبتیاں کسنے اور توہین میں مصروف ہیں۔ انکار کی ہٹ دھرمی کو نظریہ کے طور پر پیش کرتے ان دوستوں کو کبھی وقت اور توفیق ملے تو1920ء کی دہائیوں میں مرتب ہوئے گزٹیئر کا مطالعہ کرلینا چاہئے اس سے قبل 1904ء کے چند گزٹیئرز میں بھی زبان اور اقوام کے حوالے سے زندہ نشانیاں موجود ہیں۔ ملتان کی حاکمیت اعلیٰ رنجیت سنگھ کے ملتان پر قبضہ سے ختم ہوئی اور اس کی صوبائی حیثیت کو ہندوستان پر انگریزوں کے کلی اقتدار نے ختم کیا۔

تاریخی سچائی یہ ہے کہ سرائیکی ایک الگ زبان ہے' اپنی تاریخی و تہذیبی جڑت کے اعتبار سے سرائیکی وسیب رنجیت سنگھ کے قبضہ ملتان سے قبل ہمیشہ الگ رہا۔ بلکہ اگر تاریخ کے چند مزید اوراق الٹ لئے جائیں تو کبھی ملتان کی ریاست کی حدود جموں کے باہر بہنے والے دریائے توی تک تھیں' ملتان اور موجودہ سندھ جب متحدہ مملکت تھے تو تب بھی دریائے توی تک سندھ تھا اور آگے کشمیر۔ جغرافیوں میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے 1947ء کی 8 ویں مہینے کی 14 تاریخ سے قبل پنجاب کا جغرافیہ بھی آج سے مختلف تھا۔ اب بھی اگر سرائیکی وسیب الگ صوبہ کا درجہ حاصل کرتا ہے تو یہ نہ انکار قرآن و حدیث ہوگا اور نہ ہی ملکی سلامتی پرحملہ۔ اپنی تہذیبی ثقافتی اور آزادانہ حیثیت کی تاریخ رکھنے والے خطے کے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے مسائل پنجاب کی انتظامی حدود میں حل نہیں ہوسکتے کیونکہ انہیں مساوی شہری حقوق کا مالک سمجھنے کی بجائے زیر دست کالونی سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے وسائل غیروں میں تقسیم ہو رہے ہیں۔ زمینیں غیر مقامی لوگوں کو دی جا رہی ہیں' پنجاب کے انتظامی دفاتر میں ان کی کوئی نمائندگی نہیں یہ اور اس نوعیت کی دوسری شکایات ہیں جن کے جواب میں بٹوارے کے زخم خوردہ لوگوں کی نئی نسل کا ایک حصہ انتہائی بد زبانی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ عجیب بات ہے نام اور تاریخ کا تعلق ہم سے ہے اور فیصلہ جالندھر امر تسر' ہشیار پور سے آئے ہوئے کریں گے۔ ان چند کج فہموں کے مقابلہ میں ایک بہت بڑی تعداد میں لوگ مقامی بھائیوں کے مطالبات کو جائزقرار دے کر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سرائیکی صوبہ کا مطالبہ انکار اسلام و پاکستان ہر گز نہیں۔ وسیب کے لوگ اپنی الگ قومی و صوبائی شناخت چاہتے ہیں کھلے دل سے ان کی بات سنی جانی چاہئے۔

متعلقہ خبریں