Daily Mashriq


شاپنگ اور تعلیم کا منافع بخش کاروبار

شاپنگ اور تعلیم کا منافع بخش کاروبار

شاپنگ بھی ہماری زندگی کا اٹوٹ انگ ہے،زندہ انسانوں کو اشیاء کی ضرورت پڑتی ہے فی زمانہ شاپنگ کرنا تو باقاعدہ ایک فن کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ خرید وفروخت کی کہانی میں جھوٹ کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، دکاندار راتوں رات زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے چکر میں رہتا ہے، گاہک کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اشیائے ضرورت کی خریداری کرتے ہوئے دکاندار کی لچھے دار باتوں میں آئے بغیر کوئی ڈھنگ کی چیز مناسب دام میں خرید لے لیکن گاہک کی یہ خواہش ہمیشہ خواہش ہی رہتی ہے فتح ہمیشہ دکاندار ہی کی ہوتی ہے مگر اب ایسی بھی اندھیر نگری نہیں ہے، شاپنگ کے فن کے اسرار ورموز سے آشنا لوگ دکاندار کو ناکوں چنے چبوانے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں، دراصل یہ فن کتابوں میں نہیں ملتا یہ سینہ درسینہ منتقل ہوتا رہتا ہے۔ لوگوں نے فن خریداری کے حوالے سے بڑے مجرب نسخے تجویز کر رکھے ہیں مثلاً جن اشیاء کی خریداری مطلوب ہو ان کی قیمتوں کے بارے میں بازار میں گھوم پھر کر پہلے ہی سے معلومات حاصل کر لی جائے تاکہ دکاندار کے دھوکے سے بچا جاسکے، دکانداروں کا بھی اپنا طریقہ کار ہوتا ہے وہ گاہک کو دیکھ کر طریقہ واردات کا انتخاب کرتے ہیں اگرآپ سادہ لوح قسم کی شخصیت کے مالک ہیں زیادہ بات چیت نہیں کرتے، مزاج میں شرمیلا پن بھی موجود ہے تو وہ آپ کے سامنے کپڑے کے بے شمار تھان کھول دیتا ہے جو اچھا خاصا محنت طلب کام ہے اس سے وہ آپ کی رگ شرافت پھڑکانا چاہتا ہے، آپ دل میں سوچتے ہیں کہ دکاندار نے اتنی محنت سے اتنے بہت سارے تھان میرے سامنے کھول کر رکھ دئیے ہیں اب یہاں سے خریداری نہ کرنا بڑی نامناسب بات ہوگی آپ شرما حضوری کچھ نہ کچھ خرید کر ہی اس کی دکان سے نکلتے ہیں، دکاندار گاہک شناس ہوتا ہے وہ آپ کے مزاج کے شرمیلے پن کو دیکھتا ہے پندرہ سو روپے والے سوٹ کی قیمت پچیس سو روپے بتاتا ہے آپ کی طبعی شرافت اس کی محنت کے بوجھ تلے دبے ہوتی ہے آپ ڈرتے ڈرتے تھوڑی سی رعایت کی درخواست کرتے ہیں وہ پینترا بدلتے ہوئے کہتا ہے جناب میں نے آپ کو رعایتی قیمت ہی بتائی ہے آپ تسلی رکھیں بے شک آپ بازار کا چکر لگا کر دیکھ لیں انشاء اللہ قیمت میں فرق نہیں ہوگااچھی خریداری کیلئے آپ کو تھوڑا سا بیباک ضرور ہونا چاہئے، دکاندار آپ کے سامنے تھان کھولتا رہے آپ اطمینان سے اپنی مرضی کا کپڑا پسند کریں اگر اچھا نہ لگے یا قیمت زیادہ ہو تو دکاندار کا شکریہ ادا کرکے مسکراتے ہوئے اس کی دکان سے باہر تشریف لے آئیں اس موقع پر آپ ایک سکہ بند قسم کا جملہ بھی استعمال کر سکتے ہیں: جناب تکلیف کی معافی چاہتا ہوں! خواتین اور شاپنگ کا چولی دامن کا ساتھ ہے جس طرح ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اسی طرح ہر دکاندار کے بلڈپریشر کے پیچھے بھی ایک حوا کی بیٹی کا ہاتھ ہوتا ہے، یہ نیک بخت پوری دکان چھان مارتی ہے دکاندار چیزیں بتا بتا کر تھک جاتا ہے لیکن جب دام طے کرنے کا لمحہ آتا ہے تو اس وقت دکاندار کی حالت بڑی ناگفتہ بہ ہوتی ہے وہ پانچ سو روپے کہتا ہے تو یہ ایک سو پچاس! یہ حقیقت ہے کہ خواتین دکاندار کو تگنی کا ناچ نچاتی ہیں لیکن ان تمام فنکاریوں کے باوجود کامیابی ہمیشہ دکاندار ہی کی ہوتی ہے، اگر صورتحال اسی طرح ہوتی جس طرح بیان کی گئی ہے تو پھر ہر سال مینا بازار کے بہت سے دکاندار دیوالیہ ہو جاتے جبکہ صورتحال اس کے برعکس ہے وہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں جبکہ حوا کی بیٹیاں اپنے شوہروں کا دیوالیہ ضرور نکال رہی ہیں۔ دکاندارکا واسطہ جب اس قسم کی خواتین سے پڑتا ہے جو اپنی بات سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹتیں تو وہ ان سے کم قیمت وصول کر کے انہیں گھٹیا درجے کی مصنوعات پکڑا دیتے ہیں اور یہ راز اس وقت کھلتا ہے جب جوتا استعمال ہوتا ہے یا کپڑا دھلتا ہے تو انہیں پتہ چلتا ہے کہ دکاندار ان کیساتھ ہاتھ کر گیا ہے۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے، دکاندار گاہکوں کو دیکھ کر ان سے رقم بٹورنے کے نت نئے طریقے ایجاد کرتے رہتے ہیں! رقم بٹورنے پر یاد آیا کہ آج کل نجی سکول ہڑتال کے موسم سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، ہائی کورٹ نے سالانہ تین فیصد اضافے کا حکم جاری کر دیا ہے لیکن نجی سکولوں کے مالکان اس حکم کو ماننے سے انکاری ہیں وہ دس فیصد اور اس سے بھی زیادہ اضافہ کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نجی تعلیمی ادارے ایک منافع بخش انڈسٹری کی صورت اختیار کر چکے ہیں یہ ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمدکے اشتہار کے ردعمل میں احتجاج کر رہے ہیں جبکہ بچوں کے والدین بھی میدان عمل میں اُتر آئے ہیںکل انہوں نے بھی نجی سکولوں کی ہٹ دھرمی اور من مانی کیخلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا کیا حکومت اس پوزیشن میں ہے کہ نجی سکولوں کے مالکان کیخلاف مناسب کارروائی کرتے ہوئے ان کا قبلہ درست کرے؟۔

متعلقہ خبریں