Daily Mashriq


معیشت پر سمگلنگ کے منفی اثرات

معیشت پر سمگلنگ کے منفی اثرات

گزشتہ دنوں میں نے صوابی میں ایک سٹور سے شیمپو،تو ٹھ پیسٹ اور شیونگ کریم خریدے ۔ ٹو تھ پیسٹ کا برانڈ بالکل اصلی دکھائی دے رہا تھا جب میں نے اسکو استعمال کیا تو ذائقہ مختلف تھا ۔شیمپو سے بھی جب نے بال دھوئے تو بال تیزی سے گرنا شروع ہوئے. میں نے دکاندار سے پو چھاکیا ما جرا ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ افغا نستان کا مال ہے۔ ہو سکتا ہے ٹھیک نہ ہو۔ مگر ہم نے اچھے افغانی سے لیا جو تمام دکانوں کو سپلائی کرتا ہے ۔ جب میں نے ان اشیاء کو اسلام آباد میں ایک مشہورسرکاری لیبا رٹری سے ٹسٹ کیا تو دونوں مشہور برانڈز کے نام سے جعلی ٹو تھ پیسٹ اور شیمپو تھے۔ ان سمگل شدہ چیزوں سے نہ صرف ہماری صحت کا بلکہ پاکستانی اقتصادیات کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔اگر تجزیہ کیا جائے تو ہم باہرسے جوچیزیںدر آمد کر تے ہیںان کا کل خرچہ تقریباً 49 ارب ڈالر ہے جبکہ اسکے بر عکس ہم جواشیاء بر آمد کرتے ہیں وہ 22 ارب ڈالر کی ہیں۔ اس سے صا ف ظاہر ہے کہ وطن عزیز تو اس وقت تجا رتی خسارے کا سامنا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہماری در آمدات کے ساتھ ساتھ جو چیزیں پاکستان سمگل کی جاتی ہیں اُس سے بھی پاکستانی اقتصادیات کو نقصان ہورہا ہے۔اگر ہم غور کریں تو پو ری دنیا میں 1.6 ٹریلین ڈالر یعنی 1600 ارب ڈالر کی اشیاء کی سمگلنگ ہو رہی ہے جبکہ پاکستان میں 15ارب ڈالر سے لیکر 20 ارب ڈالر تک اشیاء سمگل ہو رہی ہیں جس سے ٹیکس کی مد میں پاکستان کو 500ارب روپے نُقصان ہوتا ہے۔اگر ہم سمگلنگ پر قابو پالیں تو اس سے ہماری معیشت کو بُہت فا ئدہ ہوسکتا ہے اور اپنی قومی آمدنی میں 3.9 فی صد سے لیکر 15 فی صد تک اضا فہ کر سکتے ہیں۔پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 2430 کلومیٹر، بھارت کے ساتھ 2240 کلومیٹر، ایران کے ساتھ 909کلومیٹر اور چین کے ساتھ 595 کلومیٹر طویل سر حدات ہیں اور ان تمام ممالک سے پاکستان کو مختلف اشیا سمگل کی جاتی ہیں۔ ان میں موبائل فون 38 فی صد شیئر کے ساتھ سر فہرست ہے۔ دوسرے نمبر پر ڈیزل 30 فی صد، پلاسٹک 8 فی صد، گا ڑیاں اور انکے پُرزہ جات 6.2 فی صد ، سٹیل کی چا دریںاور ٹائیر 4.4 فی صد ،چائے2.4فی صد ، سگریٹ، گا رمنٹس اور ٹی وی سیٹ بھی اس میں شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں بھارت سے ادویات اور کا سمیٹکس کی مصنو عات سمگل کی جا تی ہیں۔ بھارت سے صرف 4.2 ارب ڈالر کی کا سمیٹکس مصنو عات پاکستان سمگل کی جاتی ہیں۔ اگر ہم وطن عز یز میں بیرونی سرمایہ کا ری پر غور کر یں تو زیادہ تر سر مایہ کار اسلئے پاکستان چھوڑ جاتے ہیں کیونکہ وہ سمگل شدہ اشیاء کی قیمتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔گزشتہ دو سالوں میں پاکستان کو افغانستان ہونے والی سمگلنگ کی وجہ 100 ارب روپے کا نُقصان پہنچا۔افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے افغانستا ن جو چیزیں بھیجی گئی تھیں اُ ن میں 70 فی صد اشیاء پھر پاکستان کو سمگل کی جاتی ہیں۔خیبر پختونخوااور فاٹاسے روزانہ ٹیکس کی مد میں 130 ملین روپے جمع ہو تے ہیں یہ ان سمگلنگ شدہ اشیاء پر ٹیکس سے بُہت کم ہے جو روزانہ کی جاتی ہے۔کسٹم اہل کار کہتے ہیں کہ 2000 کے قریب کسٹم چور گا ڑیاں اور سپیئر پا رٹس پاکستان میں ژوب، ڈی آئی خان وزیرستان اور میاں والی کے راستے سمگل ہو کرآتے ہیں۔فرنٹیئرکنسٹیبلری کے اہلکار فا ٹا کے اندر 18 کلو میٹرعلاقے کی نگرانی کرتے ہیں جبکہ افغانستان کے ساتھ 2400کلومیٹر علاقے کے لئے 300 کسٹم اہل کار ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ اور ایک لاکھ کے قریب سمگلر سیاسی اثر رسوخ کے بل بو تے پر سمگلنگ میں ملوث ہیں۔اگر حکومت پاکستان 2 ارب روپے کا خرچہ کر کے کسٹم اہل کا ر بھرتی کریں تو اس سے حکومت اور ملکی خزانے کو کئی سوارب روپے کا فا ئدہ ہو سکتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ روزانہ تقریباً1500 گا ڑیاں کا رخانو سے پشاور بس سٹینڈ تکسمگلنگ میں ملوث ہیں۔کسٹم اہل کار نے سال 2013-14میں 7.4 روپے کی اشیا پکڑیں اور سال 2014-15 میں 24 ارب روپے کی اشیا پکڑیں۔اب ضرو رت اس امر کی ہے کہ ہماری وفاقی اورصوبائی دونوں حکومتوں کو چاہئے کہ وہ ہر تحصیل سطح پر ایسی لیبارٹریاں بنائیں جن میں ملکی اور بیرون ممالک سے لائی گئی مصنو عات ٹیسٹ ہوںاور ساتھ ساتھ حکومت نے صا رفین کے لئے جو عدالتیں قائم کی ہیں انکے پاس ایسا طریقہ کار ہو جو دودھ سے لیکر خوراک ، میڈیسن ، اور کا سمیٹکس کی تمام مصنو عات کوٹیسٹ کرسکیں۔ حکومت کو چاہیئے کہ فا ٹا کو فی الفور خیبر پختون خوا میں شامل کیا جائے ۔ اسکے علاوہ افغانستان، بھارت اور ایران کی سر حدوں پر لیویز اور کسٹم اہلکاروں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میںتعینات کیا جانا چاہئے اور اس کام کے لئے مزید اہل کار بھرتی کرنے چاہئیں۔ علاوہ ازیں بیرونی سر ما یہ کاری کے لئے زیادہ سے زیادہ مواقع اور سہولیات دینی چاہئیں ۔ پاکستانی مصنوعات کی اس وقت طلب زیادہ ہو گی جب اسکی قیمتیں کم ہو نگی اور وہ بیرون ملک مصنوعات کا مقابلہ کر سکیں۔سمگلنگ کی روک تھام کے لئے مزید قانون سازی کی ضرورت ہے۔ اگر سمگلنگ کو مو ثر اور جامع حکمت عملی سے روکا گیا تو اس کا ہماری معیشت پر انتہائی اچھا اثر پڑے گا۔ کئی ممالک میں سمگلنگ اور منی لا نڈرنگ کی انتہائی سخت سزائیں ہیں ، کو شش کرنی چاہئے کہ پاکستان میں بھی اس سلسلے میں سخت سے سخت سزائیںنافذ ہوں۔

متعلقہ خبریں