Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

سیر کی روایات میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایک چور کواپنی آنکھوں سے دیکھا کہ وہ رات کو چوری کر رہا ہے اور دن میں بھی دیکھا کہ وہ چوری کررہا ہے۔ اس کو پکڑ کر فرمایا : ظالم !دن دیہاڑے چوری کرتا ہے ، تجھے شرم نہیں آتی ؟۔

اس نے کہا: قسم ہے اس ذات کی ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، میں نے چوری نہیں کی ۔ ''حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ '' اپنے پروردگار کے نام کی تصدیق کرتا ہوں اور آپنی آنکھوں کو جھٹلاتا ہوں ، بے شک تو نے چوری نہیں کی ۔ جب تو نے خدا کے نام پر حلف دیا تو خدا کانام سچا ہے ، میں اس کی تکذیب نہیں کر سکتا ''۔ یہ اتباع کامل کا درجہ ہوتا ہے کہ جب اللہ کانام بھی آجائے ، حالانکہ چور اس پاک نام کو غلط استعمال کر رہا ہے ، مگر جرأت نہیں کرتے کہ تکذیب کریں کہ اللہ کا نام آگیا ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ خادم کو گوشت خریدنے کے لئے بھیجتے ، جب وہ لے کر آتا تو گوشت کی بوٹیاں گن لیتے تھے ۔ مثلاً ایک پیسے میں چھ بوٹیاں آنی چاہئیں تو یہ چھ لایا ہے یا پانچ لایا ہے ۔ خادم کہتا کیا مجھ پر اعتماد نہیں ؟ ۔ فرمایا اعتماد ہے ، اپنے قلب کی تسکین اور تیرے ساتھ حسن ظن باقی رکھنے کے لئے میں یہ کام کرتا ہوں کہ گن لیتا ہوں ۔ کسی نے کہا کہ یہ خادم دھوکہ کرتا ہے ، یہ گوشت کم لے کر آتا ہے اور پیسے آپ سے زیادہ لے جاتا ہے ۔ فرمایا کہ وہ خادم اللہ کانام لے کر کہتا ہے کہ میں پورا پورا لے کر آیا ہوں ۔ اس شخص نے کہا خادم غلط بیانی کرتا ہے ، غلط حلف اٹھاتا ہے ،کم لے کر آتا ہے ، اور آپ کود ھوکہ دیتا ہے فرمایا :''جو اللہ کا نام لے کر دھوکہ دے گا ، ہم ضرور اس کے دھوکے میں آئیں گے ،اللہ کے نام کو ہم نہیں جھٹلاسکتے ''۔

شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن جعفر کے پاس سوالی بن کر آیا ۔ اس وقت ان کی باندی ان کے سامنے کسی خدمت میں لگی ہوئی تھی ۔ حضرت ابن جعفر نے سائل سے کہا کہ اس باندی کو لے جائو ، یہ تمہاری ہے ۔ یہ سن کر باندی بولی ، میرے آقاآپ نے تو مجھے مارڈالا۔ حضرت ابن جعفر نے فرمایا ، یہ کیسے ؟ ۔ باندی نے کہا آپ نے مجھے ایسے شخص کو ہبہ کردیا جس کی تنگدستی نے اسے سوال کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔ باندی کی یہ بات سن کر حضرت ابن جعفر نے اس سائل سے فرمایا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ باندی میرے ہاتھ فروخت کردو ۔ اس شخص نے کہا بہت اچھا ۔ جس قیمت پر چاہیں اسے لے لیں ، تو حضرت ابن جعفر نے فرمایا میں نے اسے سوا شرفی میں خریدا تھا ، اب تم مجھے دوسو اشرفی میں اسے دے دو ۔ چنانچہ حضرت ابن جعفر نے وہ باندی واپس لے لی اور سائل کو دوسو اشرفی دے کر فرمایا جب یہ ختم ہو جائے تو پھر آجانا ۔ یہ حیرت انگیز ماجرا دیکھ کر باندی نے عرض کیا : آقا ! میری وجہ سے آپ کو بڑا بوجھ اٹھانا پڑا ۔ حضرت ابن جعفر نے فرمایا کہ تیری عزت میرے نزدیک تیرے اوپر خرچ کئے گئے مال سے زیادہ ہے ۔

(مکارم الاخلاق)

متعلقہ خبریں