Daily Mashriq

وعدے نہیں،عملی اقدامات کی ضرورت

وعدے نہیں،عملی اقدامات کی ضرورت

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ9/11 سے پہلے یہاں جرم نہیں ہوتے تھے کیونکہ یہاں فوری اور سستا انصاف ملتا تھا، یہاں بہترین پرانا بلدیاتی نظام ہے، جرگے میں گاؤں اپنے فیصلے کرتا ہے انہیں کہیں نہیں جانا پڑتا لیکن ضم ہونے کے بعد پاکستان کا حصہ بننے پر قبائلیوں کو مشکل آئے گی، انہیں وکیل کرنا پڑے گا اور پیسہ خرچ کرنا پڑے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں سے سیکھ کر باقی جگہوں پر اصلاحات کر رہے ہیں، جرگے کا نظام تھانے میں لیکر آرہے ہیں تاکہ جرگہ دونوں کو سن کر فوری اور مفت انصاف فراہم کرے۔ یہ نظام کے پی میں بہت کامیاب رہا ہے، ہم چاہیں گے قبائلیوں کے فیصلے ان کی روایت کے مطابق جلدی ہوں۔ وزیراعظم عمران خان نے قبائلی نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقے میں کچھ لوگ نوجوانوں کو انتشار کی طرف لے جا رہے ہیں، ان کی سوچ یہ ہے کہ آپ کے دکھ درد کو کیش کر کے انتشار پھیلایا جائے اور اس سے فائدہ اُٹھایا جائے، ان میں سارے نوجوان ٹھیک ہیں لیکن ان کے لیڈروں کو باہر سے پیسہ آرہا ہے۔ اس سے قبل جنوبی وزیرستان کے علاقے سپین کئی راغزئی میں قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں قبائلیوں کی تاریخ جانتا ہوں اور ان کے سارے مسئلے سمجھتا ہوں، پہلے سربراہوں کو قبائلی علاقوں کا پتہ نہیں تھا، قبائلیوں نے ہمیشہ ملک کیلئے قربانی دی ہے لیکن قبائلی علاقہ سب سے پیچھے رہ گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے قبائلی اضلاع کے حوالے سے جن معاملات کا تذکرہ کیا ہے وہ انضمام کے فیصلے وعمل کی مخالفت اور پرانے نظام کی وکالت کے زمرے میں آتا ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کے خیالات سے اتفاق کیا جائے تو پھر قبائلی علاقوں کے مستقبل کے حوالے سے نظرثانی کی ضرورت ہوگی۔ سابقہ قبائلی نظام میں عوام کو سب سے زیادہ چالیس ایف سی آر' اجتماعی ذمہ داری کا قانون' پولیٹکل ایجنٹس کے لامحدود اختیارات کا غلط استعمال' عوام کو انصاف کیلئے عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق نہ ملنا اور اس جیسے درجنوں مشکلات اور شکایات تھیں۔ قبائلی علاقہ جات میں جرائم نہ ہونے' بلدیاتی نظام کی تعریف اور جرگے میں رقم خرچ کئے بغیر انصاف کا ملنا اگر قبائلی عوام کیلئے باعث اطمینان تھا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ قبائلی اضلاع کی تشکیل کی ضرورت نہیں تھی۔ وزیراعظم کی اس بات سے ضرور اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ اب قبائلی عوام کو وکیل کرنے پر پیسہ خرچ کرنا پڑے گا۔ اس منفی پہلو کے پہلو میں اگر مثبت سچائی تلاش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ اب قبائلی عوام کو جان پر کھیل کر یا جان لیکر بندوق کے ذریعے فیصلہ کرنے کی بجائے عدالت اور قانون کا سہارا لینا پڑے گا۔ اب یہ قبائلی عوام پر منحصر ہے کہ وہ کس صورت کو بہتر سمجھتے ہیں۔ جس معاشرے میں قانون کی عملداری سرے سے نہ تھی اس وقت جرگہ کا نظام مجبوری تھی یا واقعی یہ سہل اور آسان تھا اس سے قطع نظر وزیراعظم اگر جرگہ اور مروجہ نظام دونوں ہی کی بجائے اگر قبائلی عوام کی اُمنگوں کے مطابق شریعت کا نظام نافذ کریں تو یہ ہر دو نظاموں سے زیادہ سہل اور مبارک ہوگا۔ وزیراعظم ایک جانب پرانے نظام کو بہتر قرار دے رہے ہیں تو ساتھ ہی جرگہ کا نظام تھانے میں لانے کا عندیہ دے رہے ہیں حالانکہ عدالت ہر قسم کے جرگوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ تھانوں میں جو مصالحتی عدالتیں چل رہی ہیں ان کا دائرۂ کار زیادہ وسیع اور موثر نہیں البتہ ان کی افادیت اور چھوٹے موٹے تنازعات نمٹانے کی شرح حوصلہ افزاء ہے جن کا دائرۂ کار قبائلی اضلاع تک بڑھا کر خاطرخواہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے قبائلی علاقوں میں سرگرم بعض عناصر کو باہر سے پیسہ ملنے اور ان کی جانب سے قبائلی نوجوانوں کو ورغلانے کی جو واضح بات کہی ہے اگر اس ضمن میں حکومت کے پاس ٹھوس ثبوت ہوں تو پھر ان عناصر کیخلاف طالبان کیخلاف تاخیر درتاخیر کرکے پانی سر سے اونچا ہونے کے بعد حرکت میں آنے کی غلطی دہرانے کی بجائے ان کیخلاف قانون کو حرکت میں لایا جائے اور عدالتوں میں ان پر الزام ثابت کرکے سزائیں دلوائی جائیں۔ وزیراعظم اس بارے میں پُراعتماد ہیں کہ انہیں قبائلی معاملات کا سابق حکمرانوں سے زیادہ ادراک ہے۔ بنابریں توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت قبائلی اضلاع کے عوامی مسائل کے حل اور قبائلی اضلاع کیلئے وسائل کی فراہمی میں سنجیدگی دکھائے گی اور قبائلی عوام کو انضمام کے ثمرات سے روشناس کرایا جائے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی عوام جن محرومیوں کا شکار رہے ہیں اور ماضی میں اُن سے جو وعدے کر کے پورا کرنے کی نوبت نہیں آنے دی گئی اب اُس سلسلے کا خاتمہ اس لیئے ضروری ہے کہ قبائلی عوام جن مشکلات سے گزر کر انضمام کے مرحلے تک آگئے ہیں ماضی کی تلخیاں اور مشکلات اپنی جگہ ،لیکن اب اُن کو مایوس کرنے کی گنجائش نہیں ہم بجا طور پر امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان قبائلی عوام کی مشکلات کے حل کا وعدہ ہر قیمت پر پورا کر کے اُن کو تبدیلی کا عملی احساس دلائیں گے ۔

متعلقہ خبریں