Daily Mashriq

نفرتیں نہیں محبتیں ہماری ضرورت ہیں

جناب عمران خان کے دورۂ ایران کو لیکر سوشل میڈیا پر تیسرے روز بھی پانی پت کی چھٹی جنگ جاری ہے۔ اس کا انجام ہمیشہ کی طرح یہی ہوگا کہ لشکری تھک ہار کر واپس کونوں کھدروں میں جا کر آرام کریں گے۔ پھر ایک نیا معرکہ برپا ہوگا' نئے دلائل کے زہر میں بجھی تلواریں' تیر اور الفاظ' کسی ایک پر دوش نہیں، ہم سب ہی ایسے ہیں۔ یہ اعتراف کرنے کا حوصلہ ہے اس تحریر نویس میں کہ گاہے ہم بھی اسی رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے ایک بار پارلیمان میں انگریزی میں خطاب کیا تو پی ٹی آئی کے اس وقت کے ارسطو اسد عمر نے انہیں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا بلاول عوام کیلئے نہیں اپنے غیرملکی آقاؤں کیلئے انگریزی زبان بول رہے تھے۔ پرسوں انہوں نے (بلاول) اُردو میں تقریر کر دی اب نیا سیاپا جاری ہے کاف شین میں سے مین میخ وہ بھی نکال رہے ہیں جن کے پرکھوں اور خود ان کے بارے میں کہا جاتا ہے ''وہ جب اُردو بولتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جھوٹ بول رہے ہیں''۔ ہمارے جواد چچا کے عزیز دوست مراد سعید تو بلاول کی تقریر پر آگ بگولہ ہوئے برس رہے تھے' عجیب طعنے۔ ارے میاں کیا خود آپ حادثاتی طور پر دوسری بار ایم این اے اور اب وزیر نہیں بنے، کسی دن ایم این اے اور وزیر بننے کی اہلیت ضرور بیان کیجئے گا تاکہ قوم اور جواد چچا کا سر فخر سے بلند ہوسکے۔ چھوڑئیے ہم بھی کیا قصہ لے بیٹھے، بلاول جانے جیالے انصافی جانے، مراد سعید سانوں کی خوب لڑیں دونوں ات اُٹھائیں۔ گالم گلوچ کریں، سیاست کے بازار میں اب جو جتنا بڑا بدزبان ہے اتنا بڑا دیانتدار اور محب وطن بھی۔ تین سلام ایسی دیانت اور حب الوطنی کو۔

وزیراعظم نے ایران میں صدر حسن روحانی سے ملاقات کے دوران کہا ''ماضی میں چند گروپ پاکستان کی سرزمین استعمال کرکے ایران کیخلاف دہشتگردی کرتے رہے، اسی طرح کچھ عناصر ایرانی سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کرتے ہیں، آئیں مل کر ایسا نظام بنا لیں جس سے باہمی تعلقات پر اثرانداز ہونے والے ان دہشتگردوں کی سرکوبی کی جاسکے'' اچھا اس میں غلط کیا ہے کہ ہنگامہ برپا ہوا اور جاری ہے۔ نون لیگ کی حب الوطنی کی باسی کڑی میں اُبال آگیا۔ جیالے بھی قومی اسمبلی میں برس رہے تھے۔ کیا ہم تاریخی حقائق کو نظرانداز کرکے محض ذاتی تناؤں اور نفرت سے بھری فضا میں جینا چاہتے ہیں؟ کون انکار کرسکتا ہے کہ ماضی میں اس ملک کے اندر وہ منہ زور دہشتگرد گروپ سرگرم عمل رہے جنہوں نے اسی ہزار پاکستانیوں کو خاک وخون میں نہلایا۔ 2014 میں ان گروپوں کیخلاف یکسوئی سے آپریشن شروع ہوا، قبل ازیں پیپلز پارٹی کے دور میں سوات آپریشن ہوا تھا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وزیراعظم نے ایران میں یکطرفہ نہیں مجموعی بات کی اور جواباً ایرانی قیادت نے مشترکہ نظام بنانے کی افادیت کو کھلے دل سے تسلیم کیا۔ یہ دہشتگرد گروپ کسی کے سگے نہیں، اپنے آقاؤں کے مذموم ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ البتہ وزیرخارجہ کا سانحہ کوسٹل ہائی وے کے حوالے سے موقف زمینی حقائق کی روشنی میں درست نہیں۔ ایران میں وزیراعظم کا بیان قومی پالیسی کا اظہار تھا۔ ضرورت بھی اس بات کی ہے کہ دونوں ملک مشترکہ دشمنوں کیخلاف متحد ہو کر اقدامات کریں تاکہ سرحد کے دونوں طرف حالات بہتر ہوں، تجارتی روابط بڑھیں۔ وزیراعظم کے دورۂ ایران میں ان کے ہمراہ جانے والی وفاقی وزیر محترمہ شیریں رحمن کا ایرانی اقدار کے مطابق لباس زیب تن کرنا بھی سوشل میڈیا پر طعنہ بنا دیا گیا۔ عجیب لوگ ہیں تنقید کی آڑ میں تذلیل کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ سعودی عرب ہو یا ایران دونوں ملکوں میں ان کی اپنی اپنی فہم کے اسلامی قوانین واقدار کی پیروی ہوتی ہے، بیرونی دنیا سے آنیوالے مرد وزن اس پر عمل کرتے ہیں۔ کبھی کسی آزاد خیال شخص نے ویٹی کن سٹی میں مذہبی اقدار کے احترام کی تو بھد نہیں اُڑائی۔ سعودی عرب اور ایران کا ذکر آتے ہی انکا خون کھولنے لگتا ہے۔

بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر صاحبان علم کم اور کھمبیوں کی طرح اُگ آئے دانشوران عصر بہت زیادہ ہیں جو ٹائپ کرسکتا ہے وہ لکھتا ہے، کیا لکھ رہا ہے یہ وہ خود بھی نہیں جانتا۔ مقصد مخالف کی توہین وتذلیل کے سوا کچھ نہیں۔ آپ چچا جواد والے معاملے کو ہی لے لیجئے اس پر بہت سارے دوست ناراض ہوئے اور ہوں گے مگر کیا کسی لکھنے والے کو اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ان باکس میں جاکر گالیاں اور دھمکیاں دینا سیاسی وعلاقائی روایات کے مطابق درست ہے؟ پتہ نہیں گالی دینے اور توہین کرنے والے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ چھوٹا سا ملک ہے ہر شخص تیسرے یا پانچویں شخص کے توسط سے پہلے شخص کی زندگی کھوج کر نکال لاتا ہے' ایسے میں اگر کوئی وفاقی وزیر مراد سعید کا کزن بن کر لوگوں کو دھمکائے' گالیاں دے' اغواء کرنے کی طاقت بتائے تو جواب کیا ہوگا۔ مجھے نہیں معلوم کہ راشد خان نامی بندہ مراد سعید کا واقعی کزن ہے یا دو نمبر جگاڑی لیکن اس کے طرزعمل اور دشنام طرازیوں کا نزلہ مراد سعید پر ہی گرے گا۔ خیر چھوڑیں یہ یونہی درمیان میں ایک معاملے کا ذکر چھڑ گیا ہم اصل موضوع پر بات کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے ایران میں کچھ ایسا غلط نہیں کہا' خود ان کی مشیر اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان وضاحت سے کہہ چکی ہیں کہ وزیراعظم کا موقف ہمارا قومی بیانیہ ہے اور اس پر تمام اسٹیک ہولڈر متفق ہیں۔ ان سطور میں ایران اور افغانستان سے بہتر تعلقات کار قائم کرنے کیلئے متوجہ کرتا رہتا ہوں۔ صدیوں نہیں کئی ہزاریوں سے ہم پڑوسی ہیں۔ باہمی مفادات' رشتوں اور ضرورتوں سے انکار کوئی کج بحث ہی کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کسی کی بھی ہو جو بات جائز اور ملکی مفاد میں ہو اس کی تائید کی جائے، مخالفت برائے مخالفت پر مبنی رویوں نے ماضی میں کچھ دیا نہ اب ان سے کچھ ملنے کی توقع ہے سوائے نفرتوں کے بڑھاوے کے، ہماری ضرورت نفرت نہیں محبت ہے۔

متعلقہ خبریں