Daily Mashriq

زبان کی پھسلن

زبان کی پھسلن

سیاست میں زبان درازی کی بنیاد پی پی کے دور سیاست میں ڈالی گئی، جب پارٹی کے چیئرمین ذوالفقارعلی بھٹو اپنے مخالفین کیلئے بے لباس الفاظ بھی استعمال کر جاتے تھے، اس طرز سیاست کو اس دور میں پسند نہیں کیا گیا اور نہ کسی دوسری سیاسی جماعت نے اس پر عمل کیا، البتہ جب سے پی ٹی آئی گزشتہ ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے جو زبان مخالفین کیلئے استعمال کر رہی ہے اس نے مرحوم بھٹو کی زبان دانی کو باپردہ کر دیا ہے۔ گزشتہ دنوں پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں جو تقریر کی وہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان نظر آئے۔ اپنی عمر عزیز کے مطابق ان سے توقع نہیں تھی کہ وہ ایسے نپے تلے لہجے میں الفاظ کے تیر حکومتی پارٹی پر برسا دیں گے کہ سب ہی تلملا اُٹھیں گے، اسی تلملاہٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی نے جن کو نو ماہ کے اقتدار گزرنے کے باوجود یہ احساس نہیں ہو پایا ہے کہ وہ اب صرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کے وزیراعظم ہیں، بلاول بھٹو کیلئے جو طرزتخاطب اختیار کیا وہ نہ تو پارلیمانی اور نہ سیاسی آداب کے معیار کے مطابق قرارپاتاہے چنانچہ حزب اختلاف کے رہنماؤں کا اس پر ردعمل کا اظہار ایک فطری عمل ہے۔ اس سے پہلے عمران خان نے اپنے دورۂ ایران میں جو اظہارخیال کیا وہ بھی متنازعہ بن گیا ہے اور اس بارے میں خود پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو وضاحت کرنا چیل کا دودھ لانے کے برابر ہو رہا ہے۔ عمران خان نے بلاول بھٹو کے بارے میںکہا ہے کہ وہ بلاول بھٹو صاحبہ تو پرچی کے چیئرمین ہیں لیکن وہ منتخب وزیراعظم ہیں انہیں پرچی کے ذریعے وزارت عظمیٰ نہیں ملی ہے، بات کا رخ موڑنے کا فن بھی پی ٹی آئی والوں کو خوب آتا ہے چنانچہ عمران خان اپنے ایران کے دورے پر جو کہہ گئے اس کی بناء پر ان کا حزب اختلاف نے گھیراؤ کر لیا تھا مگر بلاول بھٹو صاحبہ کا شوشا چھوڑ کر ایرانی دورے کی تنقید سے خود کو بچانے کی سعی کی ہے۔

ایران کے دور ے کے دوران موصوف نے جو کہا اس سے اندازہ لگتا ہے کہ وہ پاکستان تبدیل کرنے کی بات کرتے تھے انہوں نے تو دنیا ہی بدل ڈالی، جرمنی اور جاپان جو ایک دوسرے سے چھ ہزار میل کے فاصلے پر واقعہ ہیں ان کی سرحدیں مشترکہ کر ڈالی اس سے بڑھ کر اور کیا تبدیلی آسکتی ہے، پی ٹی آئی کے چیئرمین نے تو دنیا کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔ مخالفین کہہ رہے ہیں کہ چھ ہزار میل کی دوری کو خط مشترکہ کے ذریعے ایک دوسرے کے قریب لانا معجزہ ہی ہو سکتا ہے، بڑے نادان ہیں یہ نقاد ان کی اہلیت کچھ بھی نہیںہے سب سے بڑا کمال تو یہ ہے کہ جاپان جو جزیروں پر مشتمل ہے اور اس کی سرحدیں جرمنی کیا اپنے قریب ترین ملک چین سے بھی نہیں ملتیں بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ جاپان کے جزیروں کی سرحدیں بھی آپس میں جڑی ہوئی نہیں ہیں کیونکہ ہر طرف پانی ہی پانی ہے اس کی سرحدیں تو ہیں ہی نہیں۔

بات انکشافات یا معجزات کی نہیں ہے زبان کی پھسلن کی ہے اگر زبان کو قابو میں نہ رکھا جائے تو یہ پھسلتی رہتی ہے، پی ٹی آئی کے تو سارے لیڈر اپنے قائد کی انس ومودت میں اس قدر یکتا ہیں کہ ان کی زبان سنت عمرانی میں پھسلنے کو درجۂ ثواب سمجھتی ہے۔ حزب اختلاف کا کیا وہ تو محض تنقید برائے تنقید کی قائل ہے، لے دے کر اب وہ عمران خان کے ان بیانات کے پیچھے پڑی ہوئی ہے جو موصوف نے کنٹینر سیاست کے دوران دئیے تھے حالانکہ یہ بات حزب اختلاف کی عقل میں آجانی چاہئے کہ کنٹینر سیاست کا موازنہ موجودہ دور سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت بھی زبان پھسلتی رہی تھی کہ اب طعنہ آئی ایم ایف نہ جانے اور جانے کا دیا جاتا ہے، کشکول توڑنے کا تمسخر اُڑایا جاتا ہے، اب زبان درست کرلی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی بات مان لی جائے کہ موصوف جاپان نہیں فرانس کہنا چاہتے تھے مگر زبان پھسل کر جاپان پہنچ گئی۔ زبان کا کیا ہے وہ تو چمڑے کی ہے پھسل جاتی ہے، اس بات پر بھی اعتراض اٹھایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے وہاں یہ فرمایا ہے کہ ایران میں دہشتگردی کرنیوالے پاکستان سے آپریٹ کرتے ہیں، یہ بات ٹھیک ہے کہ کبھی ایسی بات کرنا حساس معاملہ ہوا کرتا تھا اور موجب غداری قرار پاتا تھا اس سے ملتی جلتی بات نواز شریف نے بھی کی تھی کہ ممبئی مبینہ دہشتگرد پاکستان سے سرحد پار کر کے گئے تھے، اس وقت پی ٹی آئی نے نواز شریف کو غدار غدار کہنا شروع کر دیا تھا۔ اب مختلف بات ہے اب یہ الفاظ نواز شریف کے منہ سے نہیں نکلے ہیں محب وطن کے منہ سے نکلے ہیں، ویسے حالات کو خوشگوار کرنے کیلئے کچھ تو کرنا ہوتا ہے، وزیراعظم عمران خان کے دورۂ ایران سے ایک روز پہلے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ببانگ دہل فرمایا تھا کہ پاکستان کے علاقہ میں حالیہ ہونے والی سفاک دہشتگردی کیلئے ایران کی سرزمین استعمال ہوئی ہے اور ایران کو ثبوت فراہم کرتے ہوئے شدید احتجاج بھی کیا، وزیرخارجہ کو شاید معلوم نہیں کہ دہشتگردی کے اس ردعمل کے اگلے روز وزیراعظم نے ایران جانا ہے چنانچہ سربراہ کے دورہ کے موقع پر فضاء خوشگوار ہونی چاہئے، اگر موصوف نے برادر پڑوسی ملک میں اپنی موجودگی کیلئے خوشگوار ماحول بحال کرنے کیلئے کوئی انکشاف کر دیا ہے تو اس میں کیا قباحت ہے۔ ان سیاسی حالات میں حزب اختلاف کو ٹیک کر بیٹھا رہنا چاہئے کہ ایران میں دہشتگردی کے بارے میں چیئرمین پی ٹی آئی نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ بھی زبان کی پھسلن ہی تھی۔

متعلقہ خبریں