Daily Mashriq

نریندر مودی کا ہٹنگ ٹچ؟

نریندر مودی کا ہٹنگ ٹچ؟

مغربی دنیا مدتوں پہلے منظر سے غائب ہو جانے والے ہٹلر کے جرائم اور گناہوں پر اب تک لعن طعن کر رہی ہے مگر اس تضاد کیساتھ کہ خود ان کی گود میں کئی ایک ہٹلر انسانوں کے لہو کی قیمت پر پلتے جا رہے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ بیتے دنوں کا ہٹلر جس طبقے کا ولن ہے وہ بالادست اور محبوب ہے اور عہدحاضر کے ہٹلر ان کے ناپسندیدہ طبقات پر عرصۂ حیات تنگ کرکے ہیرو بنے بیٹھے ہیں۔ گویا کہ مغرب اب بھی ''گڈہٹلر'' اور ''بیڈ ہٹلر'' کے مخمصے کا شکار ہے۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کا سیاسی جنم بھی ایک ہٹلر کے ظہور اور واپسی سے کسی طور کم نہیں۔ بیتے ہوئے ہٹلر کیساتھ ان کا قد ناپنا اور وزن تولنا ہو تو بھارت میں مسلمانوں کیساتھ ہونے والے واقعات کیساتھ ساتھ کشمیر کے حالات کو دیکھنا چاہئے۔ اس ایک جملے میں نریندر مودی کا پورا ذہن اور سوچ سکین ہو کر سامنے آتی ہے کہ ''ہم کشمیر میں عام لوگوں کو ہیلنگ ٹچ جبکہ علیحدگی پسندوں اور عسکریت پسندوں کو ہٹنگ ٹچ دیں گے''۔ حریت پسند عسکری ہوں یا سیاسی نریندر مودی انہیں عملی طور ہٹنگ ٹچ ہی دے رہے ہیں۔ ٹین ایجرز کو گولیوں سے چھلنی کرنا، پیلٹ گنوں سے بینائی چھیننا، گھروں کو بارود سے اُڑانا اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی منظم منصوبہ بندی کر کے اقدامات اُٹھانا، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں لگانا سب ''ہٹنگ ٹچ'' پالیسی کا ہی شاخسانہ ہیں۔ نریندر مودی کی ان اصطلاحات پر اپنے اور پرائے سب تنقید کر رہے ہیں۔ کل تک ان کی اتحادی جماعت کی سربراہ محبوبہ مفتی نے نریندر مودی کے اس بیان کے جواب میں کہ انہوں نے اپنا بم دیوالی کیلئے نہیں بنایا، کہا کہ نجانے مودی تقریر کرتے ہوئے تھڑے کی سطح کی باتیں کیوں کرنے لگتے ہیں اگر بھارت نے اپنا بم دیوالی کیلئے نہیں بنایا تو پاکستان نے اپنا بم عید کیلئے نہیں بلکہ حساب برابر کرنے کیلئے بنایا ہوگا۔ اسی طرح کانگریس کے لیڈر پی چدم برم نے بھی کہا ہے کہ مودی کا پاکستان راگ سن سن کر لوگ تھک چکے ہیں۔ نریندر مودی کے ہٹنگ ٹچ کا تازہ شکار جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ اور معروف حریت پسند محمد یاسین ملک ہیں۔ یاسین ملک صحت کی جس کیفیت میں ہیں ایک زمانہ اس سے واقف ہے۔ آزادی کی جدوجہد میں انہوں نے اپنی جوانی کو گنوا دیا ہے۔ بھارتی فوج کے ایک محاصرے کو توڑ کر نکلنے کی کوشش میں وہ جس حادثے کا شکا ر رہے اس کے اثرات ان کی پوری زندگی پر محیط ہو گئے۔ دل، گردے، دماغ، بینائی سب کچھ حادثے نے متاثر کیا اور اگر کوئی چیز متاثرنہ ہوئی وہ ان کا عزم وارادہ اور آزادی کی تڑپ اور خواب تھے۔ حادثے نے ان کی بھرپور جوانی کو ایک زندہ لاش میں ڈھال دیا مگر یاسین ملک کا عزم ہمالیہ سے بلند تر رہا۔ ان کی اس بے خوفی اور عزم صمیم نے انہیں وادی میں جاں نثاروں اور پیروکاروں کا ایک وسیع اور پرجوش حلقہ فراہم کیا۔ یہ لوگ ہر سرد وگرم میں یاسین ملک پر جان نچھاور کرنے کو بے چین رہتے ہیں۔ یاسین ملک کو بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی نے پاکستان سے رقوم کی وصولی کے بھونڈے الزامات کے تحت گرفتار کیا۔ پھر انہیں وادی سے باہر اور دہلی کی تہاڑ جیل منتقل کر دیا۔ تہاڑ کی جیل کشمیریوں کیلئے کسی طور بھی گوانتانا موبے اور کالا پانی سے کم نہیں رہی۔ کشمیر کے سینکڑوں لوگ اس وادی مرگ میں اپنے پیروں پر چل کر داخل ہوئے اور واپس کندھوں پر لاشوں کی صورت نکلے۔ محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو تو دو ایسے کشمیری لیڈر تھے جن کے جسد خاکی بھی اس جیل سے باہر نہ آسکے۔ یاسین ملک نے تہاڑ جیل منتقلی کیخلاف بھوک ہڑتال کی تو ان کی حالت غیر ہوگئی اور اب ان کی حالت تشویشناک ہے۔ سری نگر میں ان کی والدہ اور ہمشیرہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ یاسین ملک سے اہل خانہ کو رابطے کی اجازت ہے نہ حکومت ان کی صحت کے حوالے سے انہیں آگاہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یاسین ملک کو خرابی صحت کی بنا پر تشویشناک حالت میں تہاڑ جیل سے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں یاسین ملک کی اہلیہ مشعل ملک اور بیٹی ننھی رضیہ سلطانہ نے بھی پرنم آنکھوں کیساتھ یاسین ملک کی صحت کے حوالے سے ملنے والی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا۔ حکومت پاکستان نے بھی یاسین ملک کی صحت کے حوالے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ نریندر مودی کے ہٹنگ ٹچ کا ایک نمونہ کنٹرو ل لائن پر انٹرا کشمیر ٹریڈ پر پابندی ہے۔بھارت نے چھ الزامات عائد کرکے سری نگر مظفرآباد تجارت کو بند کر دیا ہے۔ گزشتہ عشرے میں کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد سازی کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات میں سری نگر مظفر آباد بس سروس اور تجارت آخری اور ٹمٹماتا ہوا چراغ ہے۔ بیتے ہوئے عشرے کے تمام اقدامات بہت حد تک غیرموثر ہو چکے ہیں۔ اب سری نگر مظفر آباد بس سروس اور تجارت بھی نریندر مودی کی سخت گیری کی بھینٹ چڑھنے والی ہے۔ تجارت کا یہ عمل کنٹرول لائن پر دومقامات چکوٹھی مظفرآباد اور تیتری نوٹ راولاکوٹ سے جاری ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ نے اس تجارت کے غلط استعمال کا الزام لگا کر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا گوکہ بس سروس اور تجارت جیسے اقدامات سے عام کشمیری کو معاشی یا عملی فائدہ تو نہیں ہو رہا مگر عام کشمیری کیلئے اس کی نفسیاتی اہمیت ہے۔ یہ وادیٔ کشمیر کے عوام اور منقسم کشمیریوں کیلئے امید کی ایک کرن ہے اس سے وادی کے عوام کو تازہ ہوا میں سانس لینے کا ایک موقع میسر ہے۔ یہ اپنا مقدر اور مستقبل مغرب کی سمت تلاش کرنے والے اور اس امید پر خود کو بھارت سے ایک فاصلے پر کھڑا رکھنے والے وادی کے عوام کو امید کی تازہ ہوا فراہم کر رہی ہے اور سخت گیر طبقہ چاہتا ہے کہ کشمیری دم گھٹ کر مر جائیں، اسی لئے وہ پاکستان کی سمت کھلنے والی اس کھڑکی کو بند کرنا چاہتا ہے۔

متعلقہ خبریں