Daily Mashriq


اقبال دیر سے آتا ہے

اقبال دیر سے آتا ہے

آج اپریل کے مہینے کی26تاریخ کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں یوم حقوق دانش منایا جا رہا ہے۔ اس حوالہ سے بات کرنے سے پہلے میں آپ کو ارباب علم ودانش کی ایک محفل میں لے چلتا ہوں جو اکادمی ادبیات پاکستان صوبہ خیبر پختونخوا چیپٹر کے بینر تلے آج سے ایک دن پہلے یعنی24اپریل کو مرکزی اُردو سائنس بورڈ کے کتب خانہ میں سجائی گئی تھی۔ودود ہشتنغرے اور عزیز اعجاز خاص مہمانوں میں شامل تھے جبکہ آج کی محفل کا حوالہ حکیم الامت دانائے راز شاعر مشرق مصور پاکستان جضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی81ویں برسی کا تھا، آپ 21اپریل1938ء کودنیا والوں پر اپنا آپ منوا کر اس جہان فانی سے رخصت ہوئے، تب سے اب تک اپریل کے مہینے کی کسی بھی تاریخ کو ان کی برسی منا کر ان کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے کہ یہی تقاضا ہے یوم حقوق دانش کا، اگرچہ راقم السطور کے علاوہ اس محفل کے دیگر مقررین نے شاعر مشرق کی شخصیت اور ان کے ہمہ جہت پہلوؤں پر اپنے اپنے انداز میں روشنی ڈالی لیکن عالمی یوم حقوق دانش کے حوالہ سے مجھے یہ عرض کرنا ہے کہ دنیا میں اہل دانش کی کوئی کمی نہیں، عقل ودانش فہم وفراست ہر کس وناکس کو حصہ بقدرجثہ ودیعت ہوتی ہے۔ جس طرح جہاں بھر کے لوگوں کی شکل وصورت آپس میں نہیں ملتی، جس طرح لوگوں کی طبیعتوں میں تفاوت ہے، جس طرح دنیا کے مختلف لوگوں کی عادات واطوار میں فرق ہے بالکل اسی طرح ان کے سوچنے سمجھنے اور کچھ کر دکھانے کے انداز، طریقے یاصلاحیتیں بھی مختلف ہیں۔ جس بندے کے دماغ میں کچھ کر دکھانے کا سودا سما جاتا ہے

اے جذبہ دل جب میں چاہوں ہر چیز مقابل آجائے

منزل کی طرف دوگام چلوں اور سامنے منزل آجائے

کے مصداق وہ اپنی طلب صادق اور جہد مسلسل کے سبب شہرت عام اور بقائے دوام کی منزل حاصل کر لیتا ہے۔ عقل ودانش فہم وفراست کچھ کر دکھانے کی صلاحیت جذبہ شوق یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں۔ یہ اس کی بخشش مہربانی اور عنایت ہے جسے ہم خداداد صلاحیت کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے فہم وفراست، عقل ودانش تقسیم کرتے وقت یہ نعمت کسی کو بہت تھوڑی دی ہے، کسی کو بہت زیادہ اور کسی کے حصہ میں کچھ نہیںآیا، جبھی تو ہر کس وناکس دانشمند یا دانشور کہلوانے کا حقدار نہیں ٹھہرتا۔ کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی کی منزل پر کوئی کوئی فائز ہوتا ہے لیکن اس منزل کو حاصل کرنے کیلئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، بڑے چلے کاٹنے پڑتے ہیں، بڑی محنت، کوشش اور ریاضتوں کی منزلیں طے کرنے کے بعد ہی اوج کمال کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ شاعر کا لفظ شعور سے مشتق ہے

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور پہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

کے مصداق شاعر تو لاتعداد ہیں لیکن ہر کوئی اسداللہ خان غالب نہیں۔ ہر کسی کو شاعرمشرق اور دانائے راز نہیں کہا جاسکتا، ہر شاعر کو فیض احمد فیض کہلوانے کا حق نہیں پہنچتا، ہر شاعر احمد فراز نہیں ہوتا۔ مقدر کے سکندر اپنے اندر چھپی خداداد صلاحیتوں کو جلابخش کر اس مقام اور مرتبہ کو حاصل کرتے ہیں جس پر فائز ہوکر وہ دنیا والوں سے اپنا آپ منوا لیتے ہیں، بت پتھر کے اندر ہوتا ہے یہ بات پکاسو نے کہی تھی، میں کالم نہیں لکھتا، قرطاس وقلم آپس میں سر ٹکراتے ہیں اور لکھا لکھایا کالم وجود میں آجاتا ہے، یہ بات ڈاکٹر ظہور احمد اعوان نے راقم السطور کو ایک ملاقات کے دوران بتائی تھی اور کسی شاعر، مصور، مغنی یا کسی بھی شعبہ فن میں یدطولیٰ پیدا کرنے والے کسی بھی نابغہ روزگار کو یہ صلاحیت راتوں رات ہاتھ نہیں آتی لیکن ان کے حقوق کا پامال کرنے والے جب ان کے شہپاروں کا غلط استعمال کرتے ہیں یا ان کی کاوشوں کی مرقد پر کھڑے ہوکر اپنا قد اونچا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو متاثر ہونے والے اہل دانش کی روح پکار پکار کر کہہ اُٹھتی ہے کہ

کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے

بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے

کسی فنکار کے فن پارے کو تحفظ دینے کیلئے کاپی رائٹ ایکٹ موجود ہے لیکن اس ایکٹ کو کون خاطر میں لاتا ہے، مقبول شاعروں کے مجموعہ ہائے کلام ہوں یا مونالیزہ کی مسکان بھری پینٹنگ یا تخت بائی کے کھنڈرات میں ملنے والے نادر ونایاب مجسمے، یہ سب نوادرات دونمبری کا شکار ہوکر کوڑیوں کے بھاؤ بکتے رہتے ہیں اور ان لوگوں کی روحیں تڑپتی بلکتی اور سسکتی رہتی ہیں جو ان کے اصلی خالق تھے، کہتے ہیں کہ تقلید نے ایک دن تخلیق سے پوچھا میں فانی ہوں تجھ کو فنا نہیں، بتا تیری بقاء کا راز کیا ہے، تقلید کی یہ بات سن کر تخلیق ہنسی، وہ ہنسی جس میں فنکار کے جگر کا خون تھا اور اس کا دل مجنون تھا، آج یوم حقوق دانش کے موقع پر ہم نے یہی احساس بیدار کرنا ہے اہل دانش کے فن پاروں کی قدر کی اتنی قدر کی جائے جتنا کہ ان کا حق ہے، پیروڈی، توارد اور کاپی رائٹ ایکٹ کی خلاف ورزی عالمی یوم حقوق دانش کے من کا کانٹا ہے اور آج ہم نے اس ہی چبھن کیخلاف آواز اُٹھانی ہے، کیونکہ

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

اور اقبال تو آخر اقبال ہے اور اقبال دیر سے آتا ہے

متعلقہ خبریں