Daily Mashriq

بھارتی ایٹمی ہتھیار یا دیوالی کے پٹاخے

بھارتی ایٹمی ہتھیار یا دیوالی کے پٹاخے

شب برات چونکہ گزر گئی ہے اس لئے مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے روزمرہ کے ایک جملے میں سے لفظ شب برات کو منہا کرتے ہوئے صرف عید کا ذکر کیا ہے اور بھارتی پردھان منتری کو خبردار کردیا ہے کہ پاکستان نے بھی ایٹمی ہتھیار عید کیلئے نہیں رکھے ہوئے ہیں۔ دراصل مشہور تو یہی ہے اور جملہ اسی طرح بولا جاتا ہے کہ ''عید برات کے موقع پر'' مگر نریندر مودی کے بھارت میں ہونے والے انتخابات جیتنے کیلئے راجھستان میں انتخابی مہم سے خطاب میں کہے گئے اس جملے پر کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیاروں کی ماں ہے' اور یہ کہ کیا ہمارے ایٹمی ہتھیار دیوالی پر چلانے کیلئے ہیں؟ ہم نے پاکستان سے ڈرنا چھوڑ دیا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر بھارت نے ایٹمی ہتھیار دیوالی کیلئے نہیں رکھے ہوئے ہیں تو یہ بات بھی ظاہر ہے کہ پاکستان نے بھی یہ عید کیلئے نہیں رکھے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ مودی نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا تھا کہ میں نے پاکستان کو بتانے کا فیصلہ کیا ہے جو بھی کرنا ہے کرلو لیکن ہم بھرپور جواب دیں گے۔ اگر میں 1971ء میں ہوتا تو بھارت نے شملہ معاہدے میں جو پاکستان سے ہارا وہ بھی نہ ہوتا۔ ادھر پاکستان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق بیان کو غیرذمہ دارانہ اور افسوسناک قرار دے دیا ہے۔ ترجمان دفترخارجہ نے بھارتی وزیراعظم کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق بیان پر ردعمل میں کہا ہے کہ سیاسی مقاصد کیلئے ایسے بیانات سے جنوبی ایشیاء میں عدم استحکام آئے گا۔ استاد شیفتہ نے کہا تھا

ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟

بے چارے مودی کو اس وقت ''انتخابی لالے'' پڑے ہوئے ہیں اور بی جے پی کی حکومت کو اس کے سیاسی مخالفین نے جس طرح آڑے ہاتھوں لیا ہوا ہے تو مودی کو پانی میں خنجر کا عکس صاف دکھائی دے رہا ہے چونکہ اس کے پاس ایک ہی ہتھیار رہ گیا ہے انتخابات جیتنے کیلئے یعنی پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرکے ہی وہ ہاری ہوئی بازی جیتنے کی کوشش کرسکتا ہے اس لئے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ وہ کتنی غیرذمہ داری کا مظاہرہ کر رہا ہے یعنی ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے پاکستان کو خدا نخواستہ نقصان پہنچانے کا، اسلئے اس نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو دیوالی پر چلانے کیلئے مختص نہ کرنے بلکہ پاکستان کیخلاف استعمال کرنے والی چیز قرار دے دیا ہے۔ اگرچہ مودی نے پاکستان سے نہ ڈرنے کی بات کی ہے اور پاکستان کو کچھ کرنے کی دھمکی تک دے دی ہے لیکن غور سے جائزہ لیں تو یہ مودی کے اندر کا خوف ہی ہے جو دراصل بھارتی انتخابات میں ممکنہ ہار کا شاخسانہ لگتا ہے اور اسی خوف کو پاکستان سے خوف کے لبادے میں اوڑھ کر اس نے پاکستان کو کچھ کرنے کی تڑی لگا دی ہے۔ دراصل مودی سرکار نے پاکستان کی کارکردگی نہ صرف کلبھوشن یادیو نیٹ ورک کو تہس نہس کرنے کے حوالے سے دیکھ لی ہے بلکہ حال ہی میں پلوامہ واقعے کے بعد پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں بھارتی فضائیہ کی درگت اور ابھی نندن کی گرفتاری جبکہ جذبۂ خیرسگالی کے طور پر اس کی واپسی کے حوالے سے بھی ساری کارروائی دیکھ لی ہے جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی برتری تسلیم کرلی گئی ہے اور پلوامہ واقعے کے بعد بھارتی طیاروں کے بالاکوٹ کے علاقے میں درخت کو نشانہ بنا کر بھاگ جانے والے بھارتی طیاروں کی ''کارروائی'' پر بھارت نے جس طرح بغلیں بجانا شروع کر دی تھیں اور بلند وبانگ دعوے کئے تھے ان دعوؤں کی حقیقت بھی بالآخر خود بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے واضح کرتے ہوئے تسلیم کر لیا کہ بھارت کے سارے دعوے جھوٹ تھے یعنی بقول منیر نیازی

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

دراصل مودی اپنے ایٹمی ہتھیاروں کی حقیقت بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ ان کی حیثیت واقعی دیوالی کے پٹاخوں کی سی ہے کیونکہ بھارت نے مختلف اوقات میں میزائلوں کے جو تجربات کئے ہیں ان کی حقیقت سوشل میڈیا پر اکثر وبیشتر وائرل ہوجاتی ہے۔ ایسی ہی پوسٹوں میں بھارتی فوج کے ایک میزائل کو چلاتے ہوئے وائرل ہونے والی پوسٹ میں فائر کئے جانے کے بعد وہی میزائل واپس بھارتی فوجیوں کے قریب ہی گرتا ہوا آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محبوبہ مفتی نے نریندر مودی پر واضح کر دیا ہے کہ اگر بھارتی ایٹمی ہتھیار دیوالی کے پٹاخے نہیں ہیں تو پاکستان کے ایٹمی ہتھیار بھی عید شب برات کیلئے نہیں ہیں اور جہاں تک مودی کی اس بڑھک کا تعلق ہے کہ اگر وہ 1971ء میں ہوتے تو شملہ معاہدے کے تحت بھارت نے جو کچھ ہار دیا تھا وہ نہ ہوتا۔ اس پر یہی تو کہا جا سکتا ہے کہ خدا گنجے کو ناخن نہیں دیتا' اس لئے ایسا نہیں ہوسکاجبکہ بھارت کا اولین ایٹمی تجربہ بھی تو بہت بعد میں سامنے آیا تھا جس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے بھی ایٹمی ہتھیار بنانے پر توجہ دی تھی اور پھر ضیاء الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی کے ذریعے اس وقت کے بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو یہ کہہ کر پاکستان کیخلاف جارحیت سے باز رکھا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار کسی نمائش کیلئے نہیں ہیں' اب وہی بات محبوبہ مفتی نے دوسرے الفاظ میں مودی کو یاد دلا دی ہے اسلئے مودی انتخابات جیتنے کیلئے کوئی اور حربہ آزما لیں تو بہتر ہے ورنہ بعد میں جون ایلیاء کا یہ شعر دوہرانا نہ پڑ جائے کہ

ہو رہا ہوں میں کس طرح برباد

دیکھنے والے ہاتھ ملتے ہیں

متعلقہ خبریں