Daily Mashriq

نواز شریف نے ضمانت میں توسیع کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

نواز شریف نے ضمانت میں توسیع کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا

اسلام آباد: سابق وزیراعظم وزیر اعظم میاں نواز شریف نے علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا عدالت نے انہیں 4 ہفتوں کی ضمانت دی تھی لیکن بیرونِ ملک سفر کی اجازت نہیں دی تھی۔

اپنے وکیل خواجہ حارث کی وساطت سے دائر درخواست میں نواز شریف نے موقف اختیار کیا کہ وہ اس وقت دل اور شریانوں کے متعدد امراض میں مبتلا ہیں جس سے ان کی زندگی کو خطرہ ہے چنانچہ انصاف کے تحت صحت کی بنیادوں پر ان کی ضمانت میں نظر ثانی کی جائے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ نواز شریف کے علاج کی صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ کہ ان کا علاج اسی معالج سے کروایا جائے جس سے پہلے انہوں نے برطانیہ میں علاج کروایا تھا۔

یاد رہے کہ 26 مارچ کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کی سزا معطل کرتے ہوئے انہیں 6 ہفتوں کے لیے ضمانت پر رہا کیا تھا جس کے ساتھ یہ شرط بھی عائد کی گئی تھی کہ وہ بیرونِ ملک سفر نہیں کریں گے۔

اس سے قبل سابق وزیراعظم کی العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال سزا کے بعد طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے 25 مارچ کو مسترد کردیا تھا۔

اس حالیہ درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے 26 مارچ کو دی گئی ضمانت کے احکامات میں یہ خیال کیا گیا تھا کہ رہائی کے 6 ہفتے مکمل ہونے تک ان کی صحت بہتر ہوجائے گی اور وہ دوبارہ جیل میں رہ سکیں گے لیکن علاج کے بعد ان کی موجودہ حالت اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ ضمانت کے حکم میں سے جو حصہ عدالت میں پڑھ کر سنایا گیا تھا وہ تحریری فیصلے سے خارج کردیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف کو ضمانت کی مدت میں توسیع چاہیے ہوگی تو وہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے جو ممکنہ طور پر ٹائپنگ کی غلطی ہوسکتی ہے لیکن ریکارڈ پر یہ غلطی ہمیشہ برقرار رہے گی۔

اس کے ساتھ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ جب 26 مارچ کو نواز شریف کی سزا معطل کرتے ہوئے ضمانت دی گئی تھی اس کے اگلے ہی روز 27 مارچ کو شریف میڈیکل سٹی میں ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس کا پہلا اجلاس 28 مارچ اور دوسرا 2 اپریل کو ہوا تھا۔

عدالت کو مزید بتایا گیا کہ مذکورہ میڈیکل بورڈ نے گردن اور سر کا ایم آر آئی، ایم آر اے جبکہ دل پر دباؤ جانچنے کے لیے ای آر آئی تجویز کیا تھا جس کے بعد کی گئی تشخیص کے ساتھ ساتھ علاج کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی کہ ان کا علاج اور ان کی صحت کی مکمل بحالی 6 ہفتوں میں ممکن نہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ نواز شریف کو دی گئی ضمانت کسی بھی شرط کی خصوصیت کے بغیر تھی اور 26 مارچ کو دیے گئے فیصلے پر اسی حساب سے نظر ثانی کی جائے۔

متعلقہ خبریں