Daily Mashriq

امریکی قیادت حقیقت حال کا ادراک کرے

امریکی قیادت حقیقت حال کا ادراک کرے

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے دوران امریکی الزامات پر تفصیلی غور و فکر کے بعد جو امور سامنے رکھے گئے ہیں امریکہ کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ قومی سلامتی اجلاس مکمل طور پر متعلقہ ملکی قیادت پر مشتمل تھا جس میں متعلقہ وزراء اور عسکری حکام شامل تھے اجلاس میں ا س امر کا اعادہ کیا گیا کہ بطور پڑوسی ملک پاکستان، افغانستان میں امن و استحکام کا خواہاں ہے لیکن پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے سے افغانستان مستحکم نہیں ہوگا۔اعلامیہ کے مطابق افغان تنازع کے بعد پاکستان میں مہاجرین، منشیات اور اسلحہ آیا اور پاکستان کے خلاف افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں بنیں، جہاں سے مخالف دہشت گرد گروپس پاکستان کے خلاف کارروائیاں اور حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ حقیقت اپنی جگہ واضح ہے کہ افغانستان میں پیچیدہ مسائل اور اندرونی خلفشار نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے بڑا چیلنج ہے۔اس امر سے بھی انکار ممکن نہیںکہ امریکا، افغانستان میں آپریشن کے لیے 2001 سے اب تک پاکستان کی فضائی حدود استعمال کر رہا ہے، پاکستان کو اربوں ڈالر امداد کے دعوے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کے مترادف ہیں، مذکورہ رقم پاکستان کی فضائی حدود اور دیگر سہولیات استعمال کرنے پر دی گئی، اس طرح مالی امداد کے بجائے عالمی برادری کو ہزاروں پاکستانیوں کی جانوں کی قربانیوں اور 120 ارب ڈالر کے نقصان کو تسلیم کرنا چاہیئے۔ پاکستانیوں کی جانیں اتنی ہی قیمتی ہیں جتنا کسی دوسرے ملک کے شہریوں کی ہیں، ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری مل کر افغانستان سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ختم کرائے اور بارڈر مینجمنٹ، افغان مہاجرین کی واپسی اور افغان مسئلے کے سیاسی حل میں مدد کرے۔اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی، پاکستان کے موثر انسداد دہشت گردی کے آپریشنز نے ثابت کیا ہے کہ اس ناسور کا خاتمہ ممکن ہے، جبکہ پاکستان انسداد دہشت گردی کے حوالے سے اپنے تجربات شیئر کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سیاسی و عسکری قیادت نے متفقہ طور پر جو نکات سامنے رکھے ہیں ان نکات پر امریکا کوپاکستان سے بات چیت اور مشاورت کی ضرورت ہے دونوں ملکوں کے موقف اور دلائل میں اپنی اپنی جگہ وزن ضرور ہوتا ہے اوردنیا بھر میں مسائل و معاملات کا حل مذاکرات گفت و شنید اور مصالحت سے نکالا جاتا ہے جس میں کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر معاملات طے ہوتے ہیں ۔ امریکہ نے جن الزامات کے تحت پاکستان کے خلاف یکطرفہ فیصلہ سنایا ہے ان معاملات کو الزامات کی صورت میں بار بار ضرور دہرایا گیا مگر با ضابطہ مذاکرات کے ذریعے ٹھوس شواہد پیش کر کے الزامات کو ثابت کرکے اس پر گفتگو کی کبھی سنجیدہ سعی نہیں کی گئی امریکہ الزامات کا اعادہ کرتا آیا ہے اور پاکستان نے ہمیشہ ثبوت مانگنے اور الزامات کو رد کرنے پر اکتفا کیا ہے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں جو طرز عمل اختیار کیا ہے اس سے قبل اگر امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی کے اسباب کا تجزیہ کرتا اور دہشت گردی کی روک تھام میں اپنی کارکردگی کا جائزہ لیتا تو اسے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہمت نہ ہوتی ۔ امریکہ کو بخوبی معلوم ہے کہ پاکستان کو ئی ایسا کمزور ملک نہیں جسے دھمکا کر یا طاقت کے بل بوتے پر زیر کیا جا سکے ۔ امریکہ کو اس امر کا بخوبی ادراک ہوا ہوگا کہ پاکستان کے ردعمل سے قبل ہی چین اور روس کا ردعمل سامنے آگیا دنیا کے ان دو اہم ممالک کے ردعمل کے بعد امریکہ کو عالمی سطح پر دو ایسے طاقتور حریف ملکوں کے تیور کا بھی بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو افغانستان میں قیام امن کیلئے بالا خر پاکستان ہی کی اعانت درکار ہوگی۔ امریکہ ، افغانستان میں طالبان کو زمینی جنگ میں کبھی کامیابی نہ ہونے کی حقیقت تو یاد دلا تا ہے اگرایسا کرتے ہوئے امریکہ خود اپنی کامیابی کے امکانات پر بھی غور کرے تو اربوںڈالر لٹانے کے باوجود اس کے حصے میں کوئی کامیابی نظر نہ آئی ۔ ہمارے تئیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک غیر حقیقت پسنداور بڑے بولے شخص ہیں جن کی تقریروں اور پالیسیوں پر خود امریکی حکام کو بھی اتفاق نہ ہوگا ۔ بطور صدر امریکہ ٹرمپ اپنے ملک وقوم کیلئے دنیا میں عزت اور وقار ڈھونڈنے کے خجا لت کی تلاش میں دکھائی دیتا ہے امریکہ پاکستان اور افغانستان بارے جو نئی پالیسی اختیار کرنے جارہا ہے اس میں ناکامی تصادم اور نقصان وخسران کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا انجام کار امریکہ کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا اور ٹرمپ کے پاس اپنی قوم کو بتانے کیلئے کچھ نہ ہوگا ۔ امریکی دھمکیوں اور الزامات سے قطع نظر حکومت کو چاہیئے کہ وہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدر آمد کا جائزہ لے اور اس پر مکمل طور پر عمل در آمد کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کریں تاکہ اگر کوئی کسر رہ گیا ہو وہ بھی پورا ہو جائے اور دنیا کو بھی انگلیا ں اٹھانے کا موقع نہ ملے ۔ اس موقع پر ہمیں اپنی افغان پالیسی کا بھی از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہم نے اس پالیسی سے پایا کتنا ہے اور کھویا کتنا ؟۔

متعلقہ خبریں