Daily Mashriq

حوصلہ افزاء پیشرفت

حوصلہ افزاء پیشرفت

ڈینگی پر قابو پانے کیلئے ابتدائی طور پر تہکال سمیت ڈینگی وائرس سے متاثر ہ علاقوں کے چار ہزار گھرانوں کو کلیئر کردینا حوصلہ افزاء پیشرفت ہے اگر ممکن ہو سکے تو دیگر علاقوں میں کاموں کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ جلد سے جلد ڈینگی کی وباء پر قابو پا یا جا سکے ۔ ان اقدامات کی کامیابی کی نوید یہ بھی ہے کہ اخبارات میں ڈینگی کے مزید مریضوں کے ہسپتالوں میں داخلے کی کوئی اطلاع نہیں صوبے کے دیگر اضلاع سے ڈینگی کے مریضوں کی اطلاعات تشویشناک ہیں تاہم حوصلہ افزاء امر یہ ہے کہ حکومتی اقدامات میں تیزی آگئی ہے اور حفظ ماتقدم کے طو رپر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر صحت شہرام ترکئی کی جانب سے پنجاب کی ٹیموں کی کارکردگی کا اعتراف کر کے اس معاملے میں ہونے والی سیاسی آمیزش کو علیحدہ کر کے اچھا قدم اٹھایا ہے جس سے عوام میں غلط فہمی کا ازالہ ہوگا اور پنجاب سے ہماری مدد کو آئی ٹیم کی حوصلہ افزائی ہوگی ۔ کسی کی نیکی اور خدمات کا اعتراف اور ان کی شکر گزاری ہی دین و اخلاق اور پشتون روایات میں ہیں پاکستان کا طول و عرض ایک ہے یہاں کا ہر باشندہ بلا امیتاز رنگ و نسل اور مذہب پاکستانی ہے اور ایک دوسرے کی مدد ہم سب کا فریضہ ہے ۔ ڈینگی ایک قدرتی وباء ہے جس پر جلد سے جلد قابو پانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ا س لئے بھی اشد ضرورت ہے کہ اس کے پھیلائو کی جتنا جلد ممکن ہو سکے روک تھام کی جا ئے بعض عناصر خیبر پختونخوا کے آب و ہوا کو اس وباء کیلئے ناموزوں ہونے کا شوشہ چھوڑ کر اسے سازش سے تعبیر کرنے کی جو نادانی کر رہے ہیں یہ مناسب نہیں ۔ بیشتر اوقات حالات سے متصاد م معاملات کا ہونا مشاہدے اور تجربات سے ثابت ہے ۔اس کو سازش گردان کر اس میں الجھنے اسے سیاسی موضوع بحث بنا کر اس میں وقت ضائع کرنے کی بجائے مل جل کر اس وباء کی روک تھام، زیادہ سے زیاد ہ افرادکا معائنہ اورہسپتالوںمیں ممکنہ وسائل کو بروئے کار لاکربہتر سے بہتراقدامات پر توجہ کی ضرورت ہے ۔

پولیس گردی کی شکایت کا نوٹس لیا جائے

گلبہار کی رہائشی خاتون جس کا شوہر منشیات کا عادی ہے نے الزام لگایا ہے کہ تھانہ گلبہار کے ایس ایچ او نے اس کے گھر پر چھاپہ مار تے ہوئے چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا ہے ۔ حال ہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ خیبر پختونخوا پولیس کے بارے میں ریمارکس دے چکے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی پولیس ناکارہ لگتی ہے ۔ محولہ خاتون کے بیان کو سرا سر درست اس وقت تک نہیں گردانا جا سکتا جب تک حقیقت حال کی تصدیق نہ کی جائے البتہ یہ مشاہدے کی بات ضرور ہے کہ پولیس کم ہی اپنے آپ کو قانون کا پابند سمجھتی ہے اس سے قطع نظر معزز جسٹس کے ریمارکس کو رد کرنے کی اس بناء پر کوئی وجہ نہیں کہ اولاً ججوں کا مشاہدہ کوئی معنی رکھتا ہے دوم یہ کہ ججوں کا تجربہ بولتا ہے ۔ پولیس کی کارکردگی اور خاص طور پر ان کی تفتیش اور کیس تیار کرنے سے تو منصف حضرات بخوبی واقف ہیں ۔ معزز جج کے ریمارکس کی روشنی میں خیبر پختونخوا پولیس کی کارکردگی دیکھیں تو منشیا ت فروشوں ، سمگلروں سے عدم تعرض اور قحبہ خانوں کی سر پرستی کے مظاہر سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے پولیس کو جہاں کارروائی کرنی ہوتی ہے وہاں قانون اس کی لونڈی بن جاتی ہے اور جہاں ایسانہ ہو وہاں پر وہ قانون کے تحت خود کو ایسے مجبور ظاہر کرتے ہیں گویا قانون بناہی پولیس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کیلئے ہے، آئی جی خیبر پختونخوا کو پولیس بارے بڑھتی عوامی شکایات کا بروقت نوٹس لینا چاہیئے اور عوامی شکایات کے ازالے کیلئے اطلاع وصولی پر اکتفا کرنے کی بجائے شکایات کو حل اور دور کرنے پر توجہ دینی چاہیئے ۔

پختون ثقافت کا تحفظ کون کرے ؟

پشتو فلموں میں پختون ثقافت کے علاوہ باقی سب کچھ دکھانے کی شکایات نئی نہیں اس پر توجہ دینے کیلئے کسی بھی حکومت کے پاس وقت نہیں یا پھر یہاں بھی بعض عناصر کے مفادات پر زدپڑتی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف صوبائی حکومت کی جانب سے پشتوں فلموں کی بہتری کے حوالے سے کوئی بھی پالیسی مرتب نہیں کر سکی ہے ، صوبے میں سنسر بورڈ صرف کاغذات کی حد تک محدود ہو چکا ہے ۔ قانون سازی پر کوئی توجہ دکھائی نہیںدیتی جس کے باعث ہر کوئی جس کے پاس پیسہ ہو فلم بنا سکتا ہے جس کے باعث پشتو فلم انڈسٹری تباہی کا شکار ہو چکی ہے ۔ اسی طرح صوبے میں فنکاروں کی تربیت کیلئے کوئی اکیڈمی ہے نہ ہی کوئی خاص انتظام ۔ یہ تمام صورتحال فنون اور ثقافت کے فروغ کے سلسلے میں صوبائی حکومت کی غیر تسلی بخش کار کردگی کی واضح مثال ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پشتو فلم انڈسٹری میں بنیادی اصلاحات کرتے ہوئے ایسی فلمیں بنائی جائیں جو پختون معاشرے کی بھر پور عکاسی کریں ۔ اسی طرح فلموں کے ذریعے سماجی و معاشرتی مسائل کو بہتر انداز میں اجا گر کیا جائے ۔

متعلقہ خبریں