Daily Mashriq

سلطنتوں کے قبرستان میںٹرمپ کو خوش آمدید

سلطنتوں کے قبرستان میںٹرمپ کو خوش آمدید

کئی مہینوں کی تاخیر کی بعد آخر کار ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان اور جنوبی ایشیاء کے لئے اپنی 'سٹریٹجی' کا اعلان کر دیا ۔ امریکی صدر کی جانب سے کی جانے والی تقریر میں پچھلی باتوں کودہرانے کے علاوہ کوئی خاص بات نہیں کی گئی اور ٹرمپ کی تقریرنئی سٹریٹجی کے مقاصد بیان کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں افغان جنگ 'جیتنے' پر زور دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ امریکہ کس طرح یہ جنگ جیتے گا اور کیسے خطے میں امریکی مفادات کے حصول کو ممکن بنایا جائے گا۔ ٹرمپ ایک ایسی جنگ کو جیتنے کی بات کررہے تھے جسے پچھلے سترہ سالوں میں کھربوں ڈالر خرچ کرکے اور ہزاروں امریکی فوجی تعینات کرکے بھی نہیں جیتا جاسکا۔ نئی افغان پالیسی میں پچھلی پالیسیوں میں موجود خامیوں کو دور نہیں کیا گیا ہے ۔ اس پالیسی میں صرف دوباتیں ایسی ہیں جن پر اختلاف نہیں کیا جاسکتا، پہلی ؛ امریکہ یہ جنگ ہار رہا ہے اور دوسری، امریکی ہار کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کر رہا ہے۔ لیکن پاکستان پرا لزام تراشی اوران الزامات کی بنیاد پر سزا دینے کی دھمکیوں سے افغانستان میں امریکی مقاصد حاصل نہیں کئے جاسکتے اور نہ ہی ان دو نکات کی بنیاد پر کوئی بھی جامع پالیسی بنائی جاسکتی ہے۔اگر امریکہ واقعی افغانستان میں قیامِ امن اور اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے حقائق کا سامناکرنا ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت امریکہ افغانستان کی جس دلدل میں پھنسا ہوا ہے اس کی وجہ 2001ء سے لے کر آج تک کی جانے والی بہت سی غلطیاں اور کوتاہیاں ہیں۔ افغانستان پر حملہ کرنے سے پہلے امریکہ نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے قبائل نے سکندرِ اعظم سے لے کر مغلوں اور انگریزوں سے لے کر روسیوں تک ہر حملہ آور کو ناکوں چنے چبوائے ہیں ۔ افغانستان اور اس سے ملحقہ علاقوں پر حملہ آور کوئی بھی گروہ یا ملک یہاں پر اپنی حکومت بنانے اور اس کو چلانے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور تمام حملہ آوروں کو اس خطے سے دم دبا کر بھاگنا پڑا۔ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس کی تلخی آج امریکہ کو محسوس ہو رہی ہے۔ ان حالات میں امریکہ کے لئے ایک ہی فقرہ کہا جاسکتا ہے 'سلطنتوں کے قبرستان میں خوش آمدید'۔ماضی سے سبق نہ سیکھنے کے علاوہ امریکہ کی افغان پالیسی ہمیشہ سے ابہام کا شکار رہی ہے ۔ افغانستان پر حملے کے وقت صدر بش صرف ملک سے القاعدہ کا خاتمہ چاہتے تھے لیکن یکا یک ان کو افغانستان کی تعمیرو ترقی کی فکر لاحق ہو گئی۔ صدر اوبامہ نے اپنے دورِ حکومت میں 2014ء تک افغانستان سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے عزم کا اظہار کیا اورامریکی فوج کو افغان سیکورٹی فورسز کی ٹریننگ تک محدود کر دیا ۔ اب صدر ٹرمپ دوبارہ افغانستان کی تعمیروترقی کی بجائے دہشت گردوں کے خاتمے پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔طالبان کو شکست دینے کے بعد امریکہ کو پاکستان کی معاونت سے طالبان اور القاعدہ کو خطے میں دوبارہ پنپنے کا موقع نہیں دینا چاہیے تھا ۔ پاکستان کی تجاویز کے برعکس امریکہ نے پشتون اکثریت کو نظر انداز کرتے ہوئے افغانستان میں تاجک قیادت کے تحت چلنے والے شمالی اتحاد کے ساتھ گٹھ جوڑ کرلیا تھااور اعتدال پسند طالبان سے مذاکرات کرنے سے انکار کردیاتھاجس کی وجہ سے ملک کی پشتون آبادی کی ہمدردیاں نئی اتحادی حکومت کی بجائے طالبان کو حاصل ہوگئی تھیں۔ دوسری جانب افغانستان کی تعمیروترقی کے لئے پیش کی جانے والی امریکی پالیسیوں کی ناکامی نے طالبان کے پیغام کو افغان عوام ، اور خاص طور پشتونوں، میں مقبولیت بخشنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان سب سے بڑھ کر امریکہ کی جانب سے فضائی طاقت کا اور میزائلوں کے غیر ضروری استعمال کی وجہ سے ہزاروں معصوم شہریوں کی ہلاکت نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ معصوم افغان سویلینز کی ہلاکت نے طالبان کو بھرتی کے لئے ایک کھلا میدان فراہم کیا ہے اور ان ہلاکتوں سے متاثر ہونے والے خاندانوں کے کئی نوجوان طالبان کے مختلف گروہوں میں شامل ہوئے ہیں جس کی وجہ سے افغان عوام میں طالبان کی مقبولیت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انہی وجوہات کی بناء پر آج طالبان ملک کے تقریباً نصف حصے پر قابض ہیں جن میں غیر پشتون علاقے بھی شامل ہیں۔ جہاں تک منشیات کے کاروبار کی بات کی جائے تو امریکہ شدت پسندوں کے اس اہم ترین مالی ذریعے کو ختم کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔ افغان اتحادی حکومت میں شامل کئی وزراء پر منشیات کے کاروبار سے منسلک ہونے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ افغانستان میں امن کی پہلے سے خراب صورتحال میں داعش کے ظہور سے مزید خرابی پیدا ہوئی ہے۔ داعش کے خطرے کو روس ، چین اور ایران نے بھی تسلیم کیا ہے اور اس وقت طالبان ہی وہ واحد قوت ہیں جو کہ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ ممالک طالبان کے ساتھ رابطے بڑھا رہے ہیں اور امریکہ کو بھی ان ممالک کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے داعش جیسے بڑے خطرے سے نمٹنے کے لئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے۔ اگر ٹرمپ نے امریکہ کی ماضی میں کی گئی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو ان کی 'نئی سٹریٹجی' بھی فیل ہوجائے گی ۔ امریکہ کو طالبان ، داعش اور القاعدہ کے درمیان تفریق کو سمجھنا ہوگا اور اس حقیقت کا بھی ادراک کرنا ہوگا کہ القاعدہ اور داعش کا افغانستان سے خاتمہ کیا جاسکتا ہے لیکن طالبان کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ طالبان افغانستان کے اس لسانی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کی آبادی پورے ملک کی آبادی کا نصف ہے۔پچھلے سترہ سال کی جنگ سے امریکہ کو کم از کم یہ سبق تو ضرور حاصل کرنا چاہیے کہ طالبان کو عسکری قوت کے استعمال سے ختم نہیں کیا جاسکتا اور افغانستان میں دیرپا قیامِ امن کے لئے امریکہ کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہی ہوگا۔

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں